فکر سے لادینیت تک


کیا عقیدے کے لیے دلیل لازمی ہے؟ کیا خلافِ عقل یا منطق کے دائرے سے باہر ہر بات بے فائدہ، بیکار اور ناقابلِ قبول ہے؟ یہ بھی ممکن ہے کہ خیال اپنے خلافِ عقل ہونے سے ہی طاقت لے رہا ہو۔

ماہرین نے انسانی دماغ کے تین حصے بتائے ہیں۔ سب سے پرانا، کلیدی اور ابتدائی حصہ ریپٹیلین برین ہے جو ہماری بقا کا ذمہ دار ہے۔ لڑنا یا جان بچا کر بھاگ جانا اس حصے کی سوچ کے تابع ہے۔ دوسرا حصہ عصبی احساسی ہے جسے لیمبک برین کہتے ہیں، یہ ہمارے جذبات کی بنیاد ہے۔ تیسرا اور سب سے مقابلتاً کم عمر حصہ نیو کورٹیکس ہماری عقلی قوت کا مرکز ہے۔

عقیدہ اپنی غیر منطقی بنیاد پر ہمارے دماغ کے عقلی حصے کو تو پریشان کرتا ہے مگر دوسری جانب ہمارے دماغ کے جذباتی حصے کے لیے سکون آور ہے۔ انسانی بقا ء اور ترقی میں جذبات کا ایک اہم کردار ہے۔ اگر محبت، نفرت، ڈر، غم، ہوس، حسد، لالچ اور دوسرے جذبات کو قا بو کر لیا جائے تو بقا ہے اور اگر یہ جذبات حاوی ہو جائیں تو تباہی ہے۔ مذہب اس جذباتی حصے تک براہ راست پہنچتا ہے جبکہ عقل اس حصے تک کائنات کی حیرانگیوں کا اثر تو لا سکتی ہے مگر سکون آوری میں کہیں راہ میں ہی الجھ کر رہ جاتی ہے۔ کرائسٹ چرچ کے واقعہ میں ایک بیوہ جس نے ایک لمحے میں محبت کرتا شوہر اور جوان تابع فرمان بیٹا کھو دیا تھا، اس کے ٹی وی انٹرویو میں نظر آتا اور پھیلتا سکون عقیدے کی دلیل پر فوقیت کا ایک عملی مظاہرہ ہے۔

ایک بھیانک خواب سے در آیا ڈر جاگنے کے بعد بھی تمام عقلی دلیلوں کے باوجود اتنی آسانی سے نہیں جھٹکا جاسکتا۔ کئی مقامات پر فرد کو درپیش مسلے کا حل چاہیے ہوتا ہے، اس سے قطع نظر کہ وہ حل عقلی ترازو پر وزن رکھتا ہے یا بے وزن ہے۔ مثل ہے کہ حاجت مند دیوانہ ہوتا ہے، تکلیف میں مبتلا کو صرف حل چاہیے کہ یہ اس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ سو یہاں اہمیت حل ہے عقلی تفسیر کہیں بعد میں آتی ہے۔ اور عقل کا ترازو ابھی عقیدے کے وزن کا ادراک بھی نہیں رکھتا۔ یا س یگانہ کا شعر اس موضوع کے پیرائے میں برمحل ہے کہ:

علم کیا، علم کی حقیقت کیا

جیسی جس کے گمان میں آئی

سائنس اپنے لحاظ کئی جگہ پر مان چکی ہے کہ وہ سخت حدود کے اندر ہے۔ ہائیزن برگ انسڑنٹی پرنسپل یعنی ہائیزن برگ کا عدم قطعیت کا اصول دو متعلقہ مادی مقداروں کے بارے میں بتاتا ہے کہ حتمی طور پر ان دونوں کا تعین بیک وقت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح سگنل کو بھی پوری قطعیت سے بیک وقت فریکون سی اور وقت کی دنیا میں نہیں جانچا جا سکتا۔ اہم بات ہے کہ یہ مادی اشیاء کے ماپنے سے معذوری کی بات ہورہی ہے، عقیدہ اور الہام جیسی غیر مادی اشیاء تو کہیں آگے کی باتیں ہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ترقی پاتے شعبے میں انسانی ذہن کی نقل کی جارہی ہے، اس میں نیورل نیٹ ورکس کے ذریعے کئی محیر العقل کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ انہیں میں ڈیپ لرننگ کے ذریعے کلاسفیکیشن کا کام کیا جارہا ہے۔ ان میں بیماریوں کی تشخیص، افراد اور اشیاء کی پہچان، خاموش فلموں میں انسان کی مدد کے بغیر آوازیں بھرنا، تصویروں کو انسانی مدد کے بغیر بیان کرنے جیسے حیران کن کام شامل ہیں۔ کمپیوٹنگ طاقت کے ذریعے جڑے ہوئے لاکھوں نیورون میں بنیادی خدوخال کیسے اندرونی طور پر بدلتے ہیں، سائنسدان اس کو نہیں جانتے۔ یہ ایک بلیک باکس کی طرح ہے جس کی اندرونی ہیئت اور تبدیلیوں کا بھرپور علم سائنس دانون کو نہیں ہے۔ مگر کامیاب حل سب سے بڑی ترغیب ہے جس کے تحط ڈیپ لرننگ کو مختلف شعبوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔

ایک اور بات نظر آئی کہ فکر اور دلیل وقت کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ وقت کے ساتھ نمو لیتا اور طاقت پاتا پودا ہے، سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وجدان اور فکر ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ وقت کے محور پر ایک دوسرے کے ساتھ کہیں نہ کہیں جڑے ہیں، جیسے ننھے بیج کے اندر کل کے تناور درخت کا عکس آج بھی موجود ہے۔

آج چونکہ مذہبی عقیدہ فکری دلیل کے دائرے میں نہیں آپایا سو فکر کی حد اور تہی دامنی کو ماننے کی بجائے جانا گیا کہ عقیدے اور ایمان کو مذہب سے نکال دیا جائے، جبکہ مذہب کی دوسری خصوصیات مثلاً صلہ رحمی، رواداری وغیرہ کو رہنے دیا جائے۔ سو اس طرح فکر مذہب کی جانچ کرتے کرتے لادینیت کی طرف لے آئی۔ بلکہ اس کی بنیاد پر کئی اور خام نعرے اور نظریے سامنے آگئے ہیں مثلاً مغرب میں پھیلتا وی گن کا گروہ جو نعرے لگارہا ہے کہ جانور بھی ہماری طرح محسوس کرتے ہیں اور یہاں تک کہ گوشت تو ایک طرف جانوروں کا دودھ استعمال کرنے کو بھی غلط سمجھتے ہیں۔ ان کا جانور پالنے والے کاشتکاروں پر حملے اخباری خبریں بن رہے ہیں۔ اپنے عقل اور خیال کے لحاظ سے کئی فار رائیٹ انتہاپسند جو بڑے قتل عاموں میں ملوث رہے، وہ اپنے اعمال پر شرمندہ تک نہیں ہیں بلکہ فخر کرتے ہیں، نارووے کے اندرس بریویک اور کرائسٹ چرچ کے قاتل کی مثال سامنے ہے۔

انسانی فکر وقت کے بہاؤ کے ساتھ نئے منظر دکھاتی ہے۔ پرانے مسائل کے نئے حل سوچے جارہے ہیں۔ نیا دور اپنے نئے مسائل بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ لازمی ہے کہ لادینیت کے ساتھ ساتھ قدیمی مذہبی سوچ کا بھی نئے دور کے عقلی تقاضوں کے مطابق جائزہ لیا جائے اور کثیرالاطرافی تعریف ڈھونڈی جائے۔ اس طرح ہی ہم نئے دور کے مسائل کا حل ڈھونڈ پائیں گے۔ اگر فکر کی حدود سمجھے بغیر نظریات دیے جائیں گے تو ان پرعمل خطرناک ہوگا۔ شاعر مشرق کے مطابق :

آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی

رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ

ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار

انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

کچھ سوال اور بھی ہیں مگر مضمون کی طوالت اور مزید تحقیق کی ضرورت کے زیر اثر ان سوالات کو ابھی صرف لکھا جارہا ہے۔ مستقبل میں ان پر بھی بات کرنے کی کوشش ہوگی۔

کیا سب لادین افراد انسان دوست ہیں؟

کیا لادین افراد کا بھی کوئی منشور ہے جس کی عملداری ان پر لازم ہے یا ان کا عمل انفرادی سوچ کی طاقت یا کمزوری کے تابع ہے؟

کیا صلہ رحمی، رواداری اور دوسرے اوصاف انسانی صفات ہیں؟ اور اس وجہ سے تمام انسانوں میں پائی جاتی ہیں کہ لادینی اس کی ترویج کرتی ہے؟

کیا روحانیت کی دنیا عقل کے دائرے میں آسکتی ہے؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینئرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے۔ آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں، اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضرار شہید کے نام پر قائم ضرار شہید ہسپتال، برکی روڈ لاہور کے ذریعے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔

atif-mansoor has 82 posts and counting.See all posts by atif-mansoor