بھلا کٹھ پتلیوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی کئی دہائیوں سے جب بھی الیکشن کا وقت قریب آتا ہے تو تمام سیاسی جماتیں عوام کو مستقبل کے بارے میں سبز باغات دکھاتی ہیں۔ بے روزگاری کا خاتمہ، مہنگائی کا خاتمہ، مستقبل کے سہانے خواب، ملک کو ترقی کے جانب گامزن کر دیا جائے گا کے نعرے لگتے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں حکومت وقت کے کاموں پر تنقید کرتی ہے جبکہ حکومتی پارٹی اپنے اصلاحات اور اور پالیسیوں کا دفاع کرتی ہے۔ الیکشن کے بعد برسر اقتدار پارٹی یہ گردان شروع کر دیتی ہے کہ ملک نازک دور سے دور گزر رہا ہے، پچھلی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے نئی حکومت شدید مشکلات کا شکار ہے اور نئی حکومت کو وقت چاہیے، کیوں کہ پچھلی حکومتوں کے ناقص کارکردگی کی وجہ سے مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومت کو وقت درکار ہے۔

یہ کھیل کئی دہائیوں سے ملک اور عوام کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ نئی حکومت نے چونکہ صرف انتحابات کی تیاری کی ہوتی ہے اور اور ملک چلانے کے حوالے سے کوئی ویژن نہیں ہوتا اس لیے ان کے لیے آسان ہوتا ہے کہ اپنی ناکامی اور نا تجربہ کاری کو پچھلی حکومتوں کے کھاتے میں ڈالا جائے۔

نئی حکومت یہ بات آسانی سے کہہ دیتی ہے کہ پچھلی حکومتوں کی وجہ سے معاشی مسائل ہے لیکن کئی کام ایسے ہیں جو پیسوں کے بغیر کیے جا سکتے ہیں۔ مثلا قانون سازی، پالیسی سازی، پولیس ریفارمز، جوڈیشل ریفارمز، الیکٹورل ریفارمز، پرائیویٹائزیشن۔ صفائی مہم، شجرکاری مہم، بلدیاتی اداروں کی ٹریننگ اور ان میں اختیارات کی تقسیم۔ تعلیمی نصاب پر کام۔ کیا ان 9 مہینوں میں کوئی پالیسی بنائی کوئی قانون سازی کی؟

اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن اور حکومت کے ارکان اپنی تنخواہوں میں اضافے کا بل تو پاس کراسکتے ہیں۔ لیکن ان سیاسی جماعتوں نے ملک کے شہریوں کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے، تعلیم، صحت اور سیکورٹی کے شعبے میں کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ جو کہ خکومت کی ذمداری ہے۔ سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنا ہو گا کہ پارلیمنٹ ایک ایسا ادارہ ہے جو اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا سکتا ہے۔ سیاستدانوں کو جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کے لئے وہاں بیٹھ کر کام کرنا چاہیے،

مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر دور میں حکمران جماعت پارلیمنٹ سے قریباً لاتعلق ہی رہی جس سے غیرسیاسی قوتوں کو اپنی اخلاقی دلیل کے ذریعے حکومت کو پچھاڑنے کا موقع مل گیا۔ سیاسی قوتیں پارلیمنٹ کو با اختیار نہیں بناتیں تو اخلاقی سوال مزید خطرناک شکل میں سامنے آتا ہے۔ جب پارلیمنٹ بیانیے کی تشکیل اور تنازعات کو سلجھانے میں اپنا قائدانہ کردار ادا نہیں کرتی تو پھر ایسا خلا جنم لیتا ہے جس سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

میاں صاحب اپنے مزاج میں کتنے جمہوریت پسند ہیں، آج وہ سویلین بالادستی تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن سویلین بالادستی کی علامت پارلیمنٹ کو انہوں نے کتنی اہمیت دی اپنے دور حکومت میں۔ اور آج عمران خان کتنے بار پارلیمینٹ کے اجلاس میں شریک ہؤا؟ موجودہ حکومت میں اہم عہدوں پر موجود زیادہ تر غیر منتحب لوگ ہیں۔ اہم وزارتیں بھی غیر منتحب لوگوں کے پاس ہے۔ جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

سیاستدانوں کی طرف سے یہ کہنا بہت آسان ہے کہ آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا لیکن یہ بھی تو کہئے کہ محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو برطرف کرانے میں ہم بھی شامل تھے ہم سے غلطی ہوئی۔ پاکستانی احتساب با اثر لوگ صرف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ایسا عرصہ دراز سے چل رہا ہے، پاکستانی حکومتیں ہمیشہ ان باثر لوگوں کے زیر اثر رہی ہیں۔ یہ بھی تو مانئے کہ ڈکٹیٹر مشرف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ عدالت کا نہیں بلکہ ہماری سیاسی حکومت کا تھا۔

اگر آپ کو یہ سب پڑھ کر لگتا ہے کہ حالات اور کردار جانے پہچانے ہیں تو وقت ہے کہ کھڑے ہوں اس سے پہلے کہ اگلا نمبر آپ کا ہو اس ریاست میں۔ سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ آجانی چاہیے کہ ان کے سیاسی رول کو کم کرنے کے لئے کیا کھیل کھیلا گیا ہے۔ ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کے فیصلے پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے یا کہیں اور، افسوس کے سیاست دانوں کی کردار کشی حکمت عملی کے تحت ہوتی ہے۔ یہ سیاست دان پہلے استعمال ہوتے ہیں پھر ذلیل ہو تے ہیں۔

جب یہ کالم تقریبا لکھ چکا تھا تو میری نظر چھوٹی بیٹی صوفیہ کی طرف گئی جو کٹھ پتلی کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اس کو کھیلتے ہوئے غور سے دیکھا۔ تو مجھے اپنا سارا لکھا ہؤا کالم بیکار لگا۔ بھلا کٹھ پتلیوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے ان کے اختیار میں ہوتا کیا ہے؟ سیاستدانوں سے تو مجھے ہمدردی پیداہو گئی جو ان کو نچا رہے ہیں کھیلا رہے ان کے حصے کی گالیاں بھی ان کو پڑ رہی ہوتی ہے۔ جاوید ہاشمی کے الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ پاکستان میں سیاست اور معیشت زوال کی طرف جارہی ہے، یہاں قیادت کو زمین سے اگنے نہیں دیا جاتا بلکہ آسمانوں سے لاکر بٹھادی جاتی ہے، سیاسی جماعتوں کی قیادت ایک ہی فیکٹری کی تیار کردہ ہے، وہ ایک ہی فیکٹری کا تیار کردہ مال ہے، لیڈر پیدا کرنے والی اس فیکٹری کو بند کردینا چاہیے، اس کے بعد ہی حقیقی قیادت سامنے آئے گی۔

گزشتہ 70 سالوں میں فیصلہ کُن قوتوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے جتنی توانائیاں ہربارنظام بدلنے پر لگائی ہیں اگر اس سے آدھی توانائیاں عوام کے حالات بدلنے پر لگائی ہوتیں تو آج پاکستان اپنے خطے کے ممالک میں سب سے پیچھے کی بجائے سب سے آگے کھڑا ہوتا اور موجودہ حکمران بھی دو کی بجائے ایک روٹی کا مشورہ نہ دے رہے ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •