کتابوں کی باتیں
تبصرہ: مہ ناز رحمن
”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“
مصنفہ: شائستہ سعید
ناشر: پاکستان اسٹڈی سنٹر۔ جامعہ کراچی
کہتے ہیں کہ تناور پیڑ کے نیچے اگنے والے پودے پنپ نہیں سکتے مگر شائستہ سعیدنے جناتی دانشوروں، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کو منوایا ہے۔ وہ سید محمد تقی کی بیٹی اور رئیس امروہوی اور جون ایلیا کی بھتیجی ہیں۔ خاندان سے متعلق وہ پہلے بھی ایک کتاب ”دو نسلوں کی مائیں“ لکھ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“ کا دیباچہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے لکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ شائستہ سعید نے ایک اچھے خاندان کے لئے ضروری ہر پہلو کی نشاندہی کی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آخرش کون سا مناسب طریقہ ہے کہ ہر خاندان کا ذمہ دار فرد بلا لحاظ جنس، کس طرح خاندان جیسی عظیم اکائی کی بہتری میں مقدور بھر کردار ادا کر کے دنیا کو کس قدر بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں انسانوں کی بلا تفریق مذہب، نسل، زبان اور علاقہ، ان کے جوہر انسانیت کی وجہ سے عزت و توقیر ہو سکے۔ چونکہ ایک اچھا انسان ہی اپنے مذہب، نسل، زبان اور علاقے کے لئے قابل فخر سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ”
اس کتاب میں شامل مضامین کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ ء اول میں بچوں کی پرورش کے حوالے سے تیئس مضامین شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں عورت اور معاشرے سے متعلق گیارہ مضامین شامل ہیں۔ تیسرا حصہ سچی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ :شائستہ سعید کی رائے میں اس وقت ہمارے معاشرے میں اقدار کی رسہ کشی ہو رہی ہے۔ ایک طرف کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ خواہ ہم ہر اعتبار سے تاریخ میں پیچھے چلے جائیں لیکن مغرب سے آئی ہوئی کوئی چیز برداشت نہ کریں۔ دوسری طرف کچھ لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اس زمین پر پیر دھرنے کو تیار ہی نہیں، انہیں مغرب کی ہر قدر بہترین نظر آتی ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لئے توازن پیدا کیا جائے ورنہ ہماری نئی نسل گہرے تضاد کا شکار ہو جائے گی۔
اقدار کی شکست و ریخت کے حوالے سے شائستہ سعید کہتی ہیں کہ چند قدریں جو ہم اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں، ان میں سب سے اہم اور ضروری قدر کام کی اہمیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتنی اہم قدر بڑوں کی عزت کرنا ہے۔ یہ دونوں جڑواں قدریں ہیں۔ اگر بچہ ان دونوں اقدار کی اہمیت سمجھے گا اور ان پر عمل کرے گا تو وہ خود کبھی دوسروں کے سامنے ذلیل نہیں ہو گا اور دوسروں کو ذلیل نہیں کرے گا۔ ایک اورقدر جو بہت اہم ہے وہ ایمانداری ہے۔ سچ بولنا اور ایمانداری بھی ایک طرح سے جڑواں قدریں ہیں کیونکہ بچپن میں سچ بولنے کی عادت ہی بڑے ہو کر تقریباً ہر معاملہ میں ایمانداری کا رویہ پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ بچوں کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
: شائستہ سعیدکو اس بات کا دکھ ہے کہ ہمارے یہاں کی عورت عام طور پر زندگی کے کسی فیصلے پر قاد نہیں ہوتی۔ لڑکی پیدائش سے جوانی تک ہر فیصلے کے لئے باپ اور بھائی کی محتاج ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکی چاہے کتنی ہی تعلیم حاصل کر لے اور کتنا ہی کمانے لگے لیکن اس کی زندگی کا سب سے بڑا مرحلہ ایک منقولہ جائداد کی طرح باپ کی سر پرستی سے منتقل ہو کر شوہر کی ملکیت بن جانا ہوتا ہے جہاں وہ شوہر کی مرضی سے اپنی زندگی گزارنا شروع کر دیتی ہے۔
بچے کی پیدائش اور کتنے بچے ہوں جیسے فیصلے بھی اس کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ خاص طور پر نا خواندہ اورغریب عورت اگر زیادہ بچے نہ پیدا کرنا چاہے تو اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر چھپتے چھپاتے یہ کوشش کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ عورت کی صورت حال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں بس اس کے علم میں یہ ضرور ہوتا ہے کہ کون سا طریقہ اس کے لئے مضر صحت ہو گا۔ شوہر کی مرضی کے بغیر اس قسم کی کوئی بھی کوشش عورت پر تشدد کا باعث بن سکتی ہے۔
شائستہ سعید نے اس کتاب میں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر خاندان کی صورتحال بہتر ہو گی تو اس توسط سے معاشرہ بھی بہتر ہو سکے گا۔ پاکستان میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے تین بنیادی عوامل میں خاندان، تعلیمی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ ماں باپ کی ذمہ داری سب سے پہلے شروع ہو جاتی ہے کیونکہ عام طور پر پہلا ہر سبق بچہ گھر سے سیکھتا ہے۔
کتاب کے دوسرے حصے میں عورت کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے اور تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس حصے میں ایک اہم مضمون ”گھروں میں کس کو بند کیا جائے؟ “ میں شائستہ سعید لکھتی ہیں :آج کل خیال کیا جا رہا ہے کہ ملازمت کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ صرف چند مغرب زدہ خواتین کا مسئلہ ہے جو اپنے مغربی انداز کے بناؤ سنگھار سے بیچارے مردوں پر بہت اثر انداز ہوتی ہیں حالانکہ عورتیں صرف چند اداروں تک محدود نہیں بلکہ دفتروں کارخانوں، کھیتوں۔
کھلیانوں میں یا گھریلو ملازمتوں یا گھر بیٹھ کر سلائی کڑھائی کرنے، گھروں اور سڑکوں کی صفائی کرنے، تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے علاوہ ہسپتالوں اور دوسرے اداروں میں بھی کام کر رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی میں عورت بھی شانہ بشانہ کام کرے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے مرد کے برابر معاشرے کا ایک فرد قرار دیا جائے۔
پاکستانی خواتین، والدین اور عمرانیات کے طالبعلموں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔


