گلگت بلتستان کابینہ کی اکلوتی وزیر فارغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیامر سے تعلق رکھنے والی اکلوتی خاتون صوبائی وزیر ثوبیہ جبین مقدم اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے درمیان جاری سرد جنگ کا اختتام کی جانب گامزن ہے تاہم ابھی تک اختتام پذیر نہیں ہوئی ہے۔ صوبائی وزیر (سابق) ثوبیہ جبین مقدم کو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کابینہ سے فارغ کرنے کا اعلان کرکے باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں صوبائی وزیر ثوبیہ جبین مقدم پر تین وجوہات بیان کیے گئے ہیں جن میں پارٹی امور میں عدم دلچسپی، کابینہ اجلاسوں میں مسلسل غیر حاضری اور بغیر اجازت کے غیر ملکی دورے کرنے کی مبینہ وجہ بھی شامل ہے۔

ثوبیہ جبین مقدم صاحبہ کو اس بات پر خراج تحسین ادا کرنا ہی پڑے گا کہ انہوں نے ایسے میدان میں قدم رکھا ہے جس میں سیاست کے بڑے بڑے پہلوان بھی کتراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دیامر سے گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل جیتتے آنے والے حاجی جانباز خان اور متعدد بار اسمبلی پہنچنے والے حاجی حیدر خان وزیراعلیٰ سے غیر اعلانیہ دوریاں اختیار کرچکے ہیں لیکن مصلحت پسندی کا شکار نظر آرہے ہیں جس کی وجہ سے ایک دن وزیراعلیٰ مخالف کوئی بیان سامنے آتا ہے دوسرے روز معذرت خواہانہ لب و لہجہ استعمال کرتے ہیں۔

دیامر سے تعلق رکھنے والے تینوں وزراء گو کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے مکمل ناراض ہیں لیکن کھل کر اپنی ناراضگی اور تحفظات کا اظہار کرنے کا اعزاز صرف اور صرف ثوبیہ جبین مقدم کو حاصل ہوا۔ دیامر کے قبائلی معاشرے سے خاتون کا سیاست میں آنا، وقت کی سب سے بڑی اور طاقتور شخصیت کے ساتھ پنجہ آزمانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اور بات روایتی خواتین نشستوں پر اسمبلی آنے والے ممبران کی طرح نہیں ہے بلکہ ان سے بہت آگے بڑھ گئی ہے اور اپنا شمار سعدیہ دانش، رانی عتیقہ، آمنہ انصاری جیسی شخصیات کی فہرست میں کرایا ہے اور یقینا مستقبل میں بھی بطور خاتون سیاستدان اپنا کردار اداکرتی رہے گی۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے واپسی کا موقع دیے بغیر کابینہ سے فارغ کرنے کے ساتھ ہی اس بحث نے بھی سر اٹھالیا ہے کہ کیا گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت وزیراعلیٰ کے پاس اس کا اختیار ہے؟ یقینا نہیں۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی اپنی خواہش ہے کہ جی بی آرڈر 2018 لاگو رہے جس کی روشنی میں انہوں نے نئے اضلاع کا اعلان بھی کرلیا ہے اور متعدد دیگر اعلانات بھی کیے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کا نوٹیفکیشن بھی جلد ہوجائے گا۔

تاہم یہ بہت بڑا سوال بن کررہ جائے گا کہ اگر جی بی آرڈر 2018 کے تحت وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے پاس اختیارات نہیں ہیں تو اس فیصلے کا کیا ہوگا۔ اب تک سرکاری طور پر ثوبیہ مقدم کے خلاف نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا ہے، ممکن ہے وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن میں اس بات کی وضاحت کریں گے لیکن تب تک یہ سوال گھومتا رہے گا۔

چند روز قبل ثوبیہ مقدم نے پارٹی سے اپنی وابستگی ثابت کرنے کے لئے ایک شمولیتی تقریب کا بھی انعقاد کیا تھا اور میڈیا سے طویل نشست بھی کی تھی جس میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے مجھے دیامر حلقہ نمبر 1 جی بی 15 سے آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دینے کی آفر کرتے ہوئے خصوصی ہدایت کی تھی کہ اپنی کارکردگی اسی حوالے سے دکھاؤ کہ آپ کو آئندہ انتخابات میں عوام کے درمیان جانا ہے جس پر میں نے کھل کر سیاست کی اور دیامر کے قبائلی نظام کے اندر رہتے ہوئے ہزار مشکلات کے باوجود کام شروع کر لیا۔

تقریباً تین سال تک معاملہ ٹھیک تھا اور وزیراعلیٰ کی جانب سے مجھے تعاون بھی مل رہا تھا جس کی بنیاد پر میں مزید آگے بڑھی اور اپنے حلقے پر توجہ مرکوز کرکے کام کیا جن میں تحصیل گوہر آباد کا قیام سمیت خواتین کی مضبوطی کے لئے گھریلو ہنر مندی اور ترقیاتی منصوبے بھی شامل تھے۔ لیکن جب سے حاجی شاہ بیگ نے اپوزیشن نشست چھوڑ کر زبردستی حکومتی بنچ میں آکر بیٹھ گئے ہیں تب سے وزیراعلیٰ کا جھکاؤ پارٹی ممبران سے زیادہ ان کی طرف ہے اور میرے مقابلے میں حاجی شاہ بیگ کو زیادہ منصوبوں سے نوازا گیا، جس پر وزیراعلیٰ کے نوٹس میں بھی یہ بات لائی کہ ایسی صورتحال میں ہم آئندہ الیکشن نہیں لڑسکتے ہیں، لیکن وزیراعلیٰ نے اس بات پر کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی ہے۔

اس سے قبل دیامر کے درج بالا تین وزراءکی آپس میں متعدد خفیہ اور علی الاعلان ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں جن میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے دیامر کے ساتھ وعدے کیے ہیں جن پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ لیکن حقیقت وہی ہے جس کی تصدیق نہیں کررہے ہیں۔ وہ یہی ہیں کہ بات صرف مراعات اور مفادات کی ہے۔ جس دورے میں وزیراعلیٰ نے دیامر میں مزید اضلاع بنانے کا اعلان کر لیا اس دورے میں بھی وزیراعلیٰ کے ساتھ تینوں وزراءموجود نہیں تھے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے داریل سے روایتی حریف نے سٹیج سنبھال لیا اور اپوزیشن اور حکومت دونوں کا کردار بیک وقت ادا کیا۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے جن وجوہات کی بنیاد پر ثوبیہ جبین مقدم کو کابینہ سے فارغ کرنے کا اعلان کرلیا ہے وہ وجوہات اسی طرح خلاف حقیقت اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہے جس طرح کے الزامات تینوں وزراء نے اس سے قبل وزیراعلیٰ پر لگائے تھے۔ ثوبیہ مقدم نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے وقت سے قبل پتہ کھیلنے کی کوشش کی جس میں ظاہری طور پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑاجبکہ اس کے برعکس دونوں وزراء نے جلد بازی کرنے سے انکار کر دیا۔ جب دیامر کے ہی وزیرعمران وکیل نے دھمکی دی کہ اگر کابینہ میں رہتے ہوئے مزید وزیراعلیٰ کے خلاف بیان بازی کی تو تینوں کی رکنیت معطل کی جائے گی تو اس کے جواب میں حاجی حیدر خان کا کہنا تھا کہ عمران وکیل کی دھمکی سے ہم ڈر گئے اور خاموشی اختیار کر گئے۔

کابینہ سے وزراءکی کارکردگی کی بنیاد پر تبدیلی ایک اچھی بات ضرور ہے لیکن اس بات کو بھی دیکھنا پڑے گا کہ کون سے ایسے وزرا ہیں جن کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں۔ پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ متعدد وزراءایسے ہیں کہ جن کو نہ اپنے محکمے کا پتہ ہے نہ ہی عوام کو ان کے کسی دفتر کا پتہ ہے۔ بعض وزراءاگر اپنے دفتر کی رونق بننے کی کوشش کربھی رہے ہیں تو صرف اور صرف فوٹو سیشن تک محدود ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کئی ماہ قبل اعلان بھی کیا تھا کہ تمام وزراء کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے اسمبلی کو بریفنگ دیں گے لیکن ابھی تک خاموشی کا ہی راج ہے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو اپنا حریف اطمینان سے منتخب کرنا چاہیے تھا کمزور حریف کمزور حکمت عملی کی دلیل ہوتی ہے۔ اگر با اختیار ہونے کا ثبوت دینا ہے تو پہلوانوں کو بھی رنگ سے باہر کا منظر دکھانا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •