بنیان کی ضرورت


ہم تھوڑے سے عجیب لوگ ہیں- ہم کسی سے اس وجہ سے نفرت کر لیتے ہیں کیونکہ فلاں فلاں اس سے فلاں وجہ سے نفرت کرتا ہے- اس کے علاوہ دو تین لوگ ہماری وجہ سے فلاں فلاں سے نفرت کر لیتے ہیں- لیکن ہم کو یہ پسند نہیں کہ کوئی ہم سے نفرت کرے- حالانکہ ہم نفرت کرنے والوں کے دائرے میں شامل ہیں- پر مجال یہ بات ہم تسلیم کر لیں کہ بہت سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں جن کے خلاف ہم ایک لمبی تقریر کر سکتے ہیں، ہم خود ان کا حصہ ہے- یہ سب نظر آتا ہے گریبان میں جھانکنے سے- گریبان جس کو انگریز کالر کہتے ہیں- لیکن ہم نے پہن رکھی ہے بنیان – بنیان جس کا کوئی گریبان نہیں- جب کبھی شدت سے محسوس ھو کہ آج گریبان میں جھانک لیا جائے- تو یہ کہہ کر بہت جانے- اوہو میں نے تو بنیان پہن رکھا ہے-

بنیان کئی قسم کے ھوتے ہیں – جس میں دو بڑی اقسام بنیان بازو سمیت اور بنیان بغیر بازو- لیکن ہر قسم کے بنیان میں یہ خاص اہتمام رکھا جاتا ہے کہ بنیان نا ھو-

اگر پولیس کی کارکردگی دیکھی جائے تو میرے خیال میں سردیوں میں بہتر ھوتی ھوگی- اس حوالہ سے کوئی ٹھوس دلیل تو میرے پاس موجود نہیں مگر بنیان یہاں ایک اہم روپ میں نظر آتا ہے- اکثر گرمیوں میں خدا نخواستہ تھانے یا چوکی جانا پڑ جائے تو وہاں موجود عملہ بنیان میں بیٹھا ھوتا ہے- یعنی گریبان میں جھانکنے سے قاصر- سردیوں میں وردی بنیان کے فائدے نہیں دے سکتی-

ہر دور میں کسی کسی نا کسی چیز کی کمی ھو جاتی ہے- جس کو ہم سورٹیج کہتے ہیں- یہاں تک کہ ٹماٹر، مرغی، انڈے، بندے … وغیرہ- لیکن کیا آپ نے کبھی سنا کے بنیان کی دور ٹین ھوگئی؟ نہیں سنا نا۰ جبکہ اتنی اہم چیز جسکو پہن کر گریبان میں جھانکنے سے انسان قاصر رہتا ہے۔ آخر کیسے کبھی کم نہیں ھوتی – اسکی ایک وجہ یہ کے بنیان بنانے والے کو اور بیچنے والا کا یہ خوف ہے کہ کہیں بنیان کی کمی ھوگئ تو اس قوم کو گریباں میں جھانکنے کی عادت نا پر جائے- کیونکہ یہ عادت بہت سے کاروبار برباد کر سکتی ہے، انسان میں احساس ندامت پیدا کرتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کے حکومت بھی اس بات پر خاص توجہ رکھتی ہے کہ ملک میں بنیان کی کمی نا ہونے پائے- ھو سکتا ہے آنے والے وقتوں میں وزارت بنیانیات بھی بنائی جائے- پیشہ گوئی یہی کی جا سکتی ہے کہ کسی سائنسی بندے کو ہی یہ وزارت ملے-
خیر مختصر یہ کہ بنیان ضرور پہنیں مگر اس کے اوپر ایسا کچھ ضرور ھو جو ہمیں گریبان میں جھانکنے سے روک نا سکے- کیونکہ ” ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ” تو ہر شخص کو اس قابل ھونا چاہیے کہ اس کو بنیان کی ضرورت نہ پڑے-
بس میرا یہی پیغام ہے، بنیان بھگاؤ، ملک بناؤ

Facebook Comments HS