ٹک ٹاک کی بیماری یا فکری جمود
گزشتہ روز ہم سب پر ممتاز جمالی کا شائع ہونے والا مضمون ”یہ ٹک ٹاک کی بیماری پڑھنے کا اتفاق ہوا ظاہر ہے ممتاز جمالی صاحب ایک محنتی نوجوان صحافی ہیں اور مضمون میں شائع ہونے والی تمام باتیں ان کا ذاتی خیال ہے ہمیں ان کی رائے کا احترام ہے اور شبہ بھی نہیں کہ وہ ٹیکنالوجی یا نئی ایجادات کے خلاف ہیں مگر بصد احترام کے ساتھ کبھی کبھی بات صرف انسان کی ذاتی رائے کی حد تک ہی محدود نہیں رہتی اور اس کے کچھ پہلو سماج پر گہرا اثر ڈالتے ہیں
جانے یا انجانے میں کل شائع ہونے والا موضوع ٹیکنالوجی سے رلیٹیڈ تھا
ٹک ٹاک ایک سماجی وڈیو ایپلیکیشن ہے اور یہ دوسری مختلف ایپلیکیشن کی طرح ٹیکنالوجی کی ہی ایجاد ہے، ہمیں سب سے پہلے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی ہم اس وقت گلوبل کلچر کی طرف جا رہے ہیں اور اس سفر کی منزل فری شب سوسائٹی ہے۔ دنیا میں ہر ایک کلچر کی اپنی ضروریات اور آداب ہوتے ہیں پھر چائے وہ ٹرائبل سوسائٹی میں ہو، ایگری کلچر سوسائٹی میں، پری انڈسٹریل سوسائٹی میں یا پوسٹ انڈسٹریل سوسائٹی میں ہو ان سب کی ضروریات میں زمیں آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
ہمارے ہر دل عزیز ملک چائنا کی مثال سے اپنی بات کو اور واضح کر دوں کہ چائینیز کہتے ہیں لمبی عمر ہر کسی کو چاھیے مگر بڈھا ہونا کسی کو پسند نہیں جبکہ بڑھاپہ لمبی عمر کے پیکیج کا حصہ ہے۔ اگر آپ کو لمبی عمر چاھیے تو بڑھاپے کو قبول کرنا ہو گا بالکل اس طرح ٹیکنالوجی کے بھی اپنے میریٹس اور ڈی میرٹس ہوتے ہیں ہمیں اسے پیکیج کے ساتھ قبول کرنا ہو گا۔ تحریر میں لکھا گیا تھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے ذہنی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن حقیقت اس کہ بر عکس ہے ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی ذہنی بلکہ ہر قسم کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے یہ اس ٹیکنالوجی اور ان ایپلیکیشن کا ہی کمال ہے کہ ہم ارشاد رانجھانی کے رہزن قاتل رحیم شاہ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگانے میں کامیاب ہوئے انہی ایپلیکیشن کی مدد سے ہم نے ٹرینڈ سیٹ کیے اور ٹک ٹاک بھی اسی ٹیکنالوجی کا حصہ ہے۔ تحریر میں آگے ایک بار پھر لکھا گیا کہ ”آئیے سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ بلا کیا ہے“ اور ٹک ٹاک کی وبا کسی وائرس بیماری کی طرح پھیل رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔
جیسے کی میں پہلے عرض کر چکا کہ ٹک ٹاک بیماری نہیں بلکہ اس کا علاج ہے اس ایپ کی مدد سے چند لمحوں کی وڈیوز کے بدولت لاکھوں چہروں پر مسکراہٹ آتی ہے یہ ایپ ہی معاشرے میں نئے فنکار متعارف کرانے میں مدد کر رہی ہے نیا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے مگر کہتے ہیں نہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔
تحریر کہ آخر میں انتہائی نامناسب بات لکھی گئی ”ٹک ٹاک بھارت سمیت دوسرے ممالک میں بین کر دی گئی اور کافی شرائط و ضوابط کے بعد کھولی گئی“ جب کہ گوگل کریں تو انڈیا ٹوڈے کی خبر کے مطابق حقیقت ہی کچھ اور ہے ایپ کو مدراس ہائی کورٹ نے چائلڈ پورن گرافی اور پورن کانٹینٹ کے استعمال کو فروغ دینے کے باعث بلاک کرنے کا حکم دیا تھا جسے 24 اپریل کو اسی کورٹ نے شبہ کی بنیاد پر پابندی لگانے کا کہہ کر خارج کر دیا دوسری طرف کمپنی کے مطابق ایپ میں 100 فیصد میں سے صرف 0.0006 فیصد کانٹینٹ اپنی فطرت میں پورن و گرافی پر مبنی تھا جسے ہٹایا جا رہا ہے۔
اصل میں ہمارے معاشرے میں آج کل جس طرح وزیر اعظم کے ”صاحبہ“ والے بیان پر دو الگ الگ ذہن ایک دوسرے کے سامنے ہیں ایک وہ ذہن جو یہ سمجھتا ہے لفظ عورت تضحیک کی نہیں بلکہ عزت کی علامت ہے اور ایسی ہر روایت یا مثال کی حوصلہ شکنی ہونی چاھیے جس سے اس روایت کو فروغ ملے ٹھیک اسی طرح سابقہ تحریر بھی محظ کسی فرد کی ذاتی رائے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں موجود اس ذہنیت کو سامنے لائی ہے جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیکنولوجی کے آنے سے ہمارا فیملی کلچر خراب ہو رہا ہے اور ہمارے معاشرے میں اس قسم کی تفریق ہر تھوڑے وقت کے بعد سامنے آتی رہتی ہے۔
ہمارے استاد اور اردو کے یتیم شاعر مہر صاحب سے میں اکثر پوچھا کرتا تھا کہ مجھے علام اقبال اور جوش ملیح آبادی کی شاعری سمجھنے میں دقت ہوتی ہے کیوں کہ ہر شعر پڑھنے کے بعد لغت کھولنی پر جاتی ہے مظھر الحق مہر صاحب ہمیشہ مسکرا کر کہا کرتے کہ بیٹا اب اقبال اور جوش آپ سے پوچھ کر تو شاعری کرنے سے رہے، اسی لیے آپ اپنی جہالت دور کرنے کی کوشش کریں ٹھیک اس طرح دنیا ہم سے پوچھ کر ایپز نہیں بنانے سے تو رہی، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں فراغ دلی کے ساتھ ٹیکنالوجی کو قبول کرنا چاھیے ہمیں اب اپنی سوچ میں موجود ان جمود کی زنجیروں کو توڑنے کی ضرورت ہے اگر ہم نے ٹیکنالوجی کو اب بھی روکنے کی کوشش کی تو ٹیکنولوجی ڈکٹیٹ کرے گی اور وہ جیتے گی۔ کیوں کہ وقت کی سوئیاں ہمیشہ آگے کی طرف سفر کرتی ہیں مگر ہم اب بھی ماضی کے سنہرے خوابوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔


