جاپان: 200 سال میں پہلی بار تاج سے از خود کنارہ کشی
جاپان کے بادشاہ اکیہیتو منگل کے دن اپنے تخت و تاج سے دست بردار ہو رہے ہیں اور اس طرح گذشتہ دو سو سال سے زیادہ عرصے میں وہ پہلے بادشاہ ہوں گے جو اپنا تخت و تاج چھوڑ رہے ہیں۔
85 سالہ بادشاہ کو تخت چھوڑنے کی قانونی اجازت اس وقت ملی جب انھوں نے کہا کہ وہ اپنی عمر اور گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے اپنا کردار نبھانے کے قابل نہیں رہے۔
ان کے بیٹے شہزادہ ولی عہد ناروہیتو اس کے دوسرے روز کریسینتھیمم تخت پر بیٹھیں گے جو کہ ایک نئے عہد کا آغاز ہوگا۔
جاپان میں بادشاہ کے پاس کوئی سیاسی طاقت نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک علامت کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں۔
بادشاہ اکیہیتو کا عہد بیماریوں اور آفات کے شکار لوگوں کے ساتھ ان کے میل جول کے طور پر یاد کیاجائے گا اور ان کے اسی رویے نے جاپانیوں کے دل میں ان کے لیے مخصوص جگہ بنائی ہے۔
بادشاہ نے تخت چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
اکیہیتو سنہ 1817 کے بعد پہلے جاپانی بادشاہ ہے جو اپنی مرضی سے تخت چھوڑ رہے ہیں۔
85 سالہ بادشاہ نے سنہ 2016 میں اپنے ایک خطاب میں کہا کہ انھیں یہ خوف ہے کہ ان کی عمر انھیں ان کے فرض منصبی کو نبھانے میں مشکلات پیدا کرے گی اور انھوں نے قوی عندیہ دیا کہ وہ دست بردار ہونا چاہتے ہیں۔
اس وقت انھوں نے کہا تھا: ‘جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری صحت گر رہی ہے تو میں پریشان ہو جاتا ہوں کہ ریاست کی علامت کے طور پر مجھے اپنے فرائض منصبی کو نبھانے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔’
رائے عامہ کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ جاپان کی اکثریت نے بادشاہ کی ریٹائر ہونے کی خواہشات کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور ایک سال بعد پارلیمان نے ایک قانون بنایا جس کی وجہ سے ان کا عہدے سے دست بردار ہونا ممکن ہو سکا۔
ان کے بیٹے شہزادہ ولی عہد ناروہیتو اب ان کی جگ بادشاہ بنائے جائيں گے۔
تخت و تاج سے دست برداری کے وقت کیا ہوگا؟
تائیریئی-سیڈن-نوگی یعنی تخت و تاج چھوڑنے کی رسم عین ممکن ہے کہ شاہی محل کے ماتسونوما ریاستی کمرے میں ہو لیکن زیادہ تر رسم کی ادائيگی پس پردہ ہوگی۔
اس رسم کا آغاز مقامی وقت کے مطابق منگل کے روز شام پانچ بجے ہوگا جب بادشاہ اکیہیتو اور ان کی رانی میچیکو اس کمرے میں داخل ہوں گی۔ اس وقت 330 خدمت گار بھی موجود ہوں گے۔
سرکاری ٹی وی ‘این ایچ کے’ کے مطابق تقریب تقریباً دس منٹ تک جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے
محبت کے لیے شاہی رتبے کی قربانی
جاپانی شہزادی ملکہ بننے سے کیوں گھبرا رہی ہیں؟
تقریب کا اختتام اکیہیتو کے بادشاہ کے طور پر حتمی خطاب سے ہوگا لیکن وہ تکنیکی طور پر نصف شب تک بادشاہ رہیں گے۔
بدھ کی صبح شہزادہ ولی عہد ناروہیتو کو بادشاہ بننے کی پہلی رسم کے طور پر وراثت میں شاہی خزانہ دیا جائے گا۔
شہزادہ ولی عہد کون ہیں؟
شہزادہ ناروہیتو جاپان کے 126 ویں بادشاہ ہوں گے اور وہ باضابطہ طور پر نئے ‘ریوا’ عہد میں ملک کی سربراہی کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی رواں ‘ہیسیئي’ عہد کا خاتمہ ہو جائے گا جو کہ اکیہیتو کے تخت نشین ہونے کے ساتھ سنہ 1989 میں شروع ہوا تھا۔
59 سالہ ناروہیتو کی تعلیم آکسفورڈ میں ہوئی ہے اور وہ 28 سال کی عمر میں ولی عہد بنائے گئے۔
کہا جاتا ہے کہ سنہ 1986 میں وہ اپنی اہلیہ اور شہزادی ولی عہد مساکو اووادا سے ایک چائے پر ملے۔ انھوں نے سنہ 1993 میں شادی کی۔
ان دونوں کو ایک ہی اولاد شہزادی آئیکو سنہ 2001 میں ہوئی۔ بہر حال جاپان کا حالیہ قانون خواتین کے وراثت میں تخت حاصل کرنے کے خلاف ہے اس لیے وہ تخت کی جانشین نہیں ہیں۔
ان کے چچا شہزادہ فومیہیتو جانشینی کی صف میں سر فہرست ہیں پھر اس کے بعد ان کے چچازاد بھائی شہزادہ ہیساہیتو ہیں جو شہزادی سے 12 سال بڑے ہیں۔
جاپانی تخت نشینی کی اس تبدیلی کو کیسے منا رہے ہیں؟
ملک کے گولڈن ویک یعنی سنہرے ہفتے کی چھٹی کو رواں سال بڑھا کر دس دن کر دیا گیا تاکہ نئے بادشاہ کی تخت نشینی کے جشن کو اس میں شامل کر لیا جائے۔ ویسے یہ سالانہ موسم بہار کی چھٹی ہوتی ہے۔
تخت سے دست برداری کو جشن کے طور پر منایا جا رہا ہے اور یہ بادشاہ اکیہیتو کی 30 سال قبل تخت نشینی سے بالکل مختلف ہے جب وہ اپنے والد کے انتقال پر تخت نشین ہوئے تھے اور ملک ان کے والد کی موت کا سوگ منا رہا تھا۔
لیکن اس بار لوگ چھٹیوں پر باہر نکلیں گے، سنیما گھروں کا رخ کریں یا پھر گھر پر رہ کر تخت سے سبکدوشی اور تخت نشینی کی تقاریب دیکھیں گے اور ان دونوں کو براہ راست ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔
یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی بھی زندہ شخص تخت سے سبکدوشی کی تقریب دیکھ رہا ہوگا۔
اور یہ تاج پوشی کا دوسرا واقعہ ہوگا جو ٹی پر براہ راست نشر ہو رہا ہوگا۔ اس سے قبل بادشاہ اکیہیتو کی تاج پوشی کی 30 سال قبل لائیو سٹریمنگ ہوئی تھی۔
جاپان کی بادشاہت اہمیت کی حامل کیوں ہے؟
یہ دنیا کی قدیم ترین موروثی بادشاہت ہے جو آج تک جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ 600 قبل مسیح سے جاری ہے۔
در حقیقت جاپانی بادشاہوں کو خدا کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن بادشاہ اکیہیتو کے والد بادشاہ ہیروہیتو نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر جب جاپان کو ہتھیار ڈالنا پڑا تھا اس وقت عوامی طور پر اپنی خدائیت کو ترک کر دیا تھا۔
لیکن پھر بادشاہ اکیہیتو نے جنگ کے بعد جاپان کے وقار کو ہونے والے نقصان کی تلافی میں تعاون کیا تھا۔
انھیں بادشاہ اور عوام کے بیچ کو دوری کو پاٹنے کے لیے جانا جاتا ہے۔
بادشاہ شاذونادر ہی عوام سے کبھی ملے ہوں لیکن اکیہیتو نے اپنے کردار کی نئی تعریف کی اور وہ آفات میں بچ رہنے والوں کے لیے اپنی ہمدردانہ رویے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
تاج پوشی کے دو سال بعد سنہ 1991 میں اکیہیتو اور ان کی رانی نے روایت کو توڑتے ہوئے ناگاساکی میں پھٹنے والے آتش فشاں سے متاثرہ افراد سے اظہار ہمدردی کے لیے عوام کے سامنے جھکے اور اس کے بعد وہ اکثر ایسا کرتے رہے۔
جذام جیسے مہلک امراض کے شکار افراد سے ان کا ملنا جلنا بھی ماضی کے بادشاہوں کے طریقے کے بالکل مختلف تھا۔
اخیر میں اکیہیتو نے سفارتکار کا کردار اپنا لیا اور جاپان کے غیر سرکاری سفیر کے طور پر وہ دوسرے ممالک کا وسیع طور پر سفر کیا اور نئے بادشاہ ناروہیتو سے اسے جاری رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔
