یوٹیلٹی سٹورز اور رمضان پیکج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوٹیلٹی سٹورز کاپوریشن پاکستان کا ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ یہ ادارہ بٹھو کے دور حکومت میں وجود میں آیا۔ اس وقت سے مشرف دور تک اس غریب پرور ادارے نے کہی نشیب و فراز دیکھا۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ سینکڑوں ملازمین کو ایک مہینے کا مختصر نوٹس دے کر نوکری سے فارغ کردیا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہ ادارہ عروج پر پہنچ گیا۔ اس ادارے نے اتنی ترقی کی کہ اس کی شاخیں چترال، کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیل گئی۔

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی شاخیں کراچی کے ساحل سے خنجراب اور گلگت بلتستان بلتستان کے دور دراز دیہاتوں تک پھیلی ہوئیں ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز کاپوریشن ہی واحد ادارہ ہے جس نے پاکستان کے دور دراز اور دہی علاقوں کے لوگوں کو نہ صرف معیاری اشیائے خوردو نوش کے استعمال کا شعور دیا بلکہ اعلی معیار کی چیزیں سستی قیمتوں میں فراہم بھی کر دیں۔

اس ادارے کے ملک بھر میں چھ ہزار سٹورز ہیں۔ چودہ ہزار خاندانوں کا روزگار براہ راست اس سے وابسطہ ہے۔ ان چودہ ہزار ملازمین میں چھ ہزار کے قریب کنٹریکٹ اور روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔ اور کروڑوں کی تعداد میں غریب عوام اس ادارے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز کا رخ وہ لوگ کرتے ہیں جو انتہائی غریب ہوتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا اکثر یوٹیلٹی سٹوروں کے دروازے پر لوگوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے پانچ روپے بچانے کے لئے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ اور سستی چینی، گھی اور مشروبات حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد خوشی خوشی گھروں کو لوٹتے ہیں۔

پچھلے ایک سال سے یوٹیلٹی سٹورز مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ اربوں روپے کا سالانہ سیل کرنے والا یہ ادارہ اب چند لاکھ روپے تک محدود ہوچکا ہے۔ ماضی میں اس ادارے نے چار چار ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع کرواچکا ہے۔ مالی بحران کی وجہ دو ہزار تیرہ کے بعد وفاقی حکومت نے سبسیڈی کا اعلان تو کردیا لیکن ادائیگی نہیں کی۔ یوٹیلٹی سٹورز نے مہنگی اشیائے خوردونوش خرید کر سستا فروخت کردیا۔ یوٹیلٹی سٹورز حکام کے مطابق وفاقی حکومت یوٹیلٹی سٹورز کے تیسں ارب روپے کی مقروض ہے۔

یوٹیلٹی سٹورز میں کام کرنے والے مزدوروں کی یونین نے اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو اسلام آباد میں تیس ارب کی ریلیز اور دیگر مطالبات لے کر حکومت کے خلاف دھرنا دیا۔ جس پر وفاقی حکومت نے تمام مطالبات جائز قرار دیتے ہوئے فی الفور حل کرنے کی یقین دھانی کی جس پر دھرنا ختم ہوا لیکن بد قسمتی سے چھ ماہ گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا۔

حکومت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو اپ گریڈ کرنے کے دعوے کررہی ہے لیکن عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ پچھلے ایک سال سے سٹوروں پر اشیائے خوردو نوش کی قلت ہے۔ اب حکومت میڈیا پر رمضان ریلیف کا چرچا کررہی ہے کہ حکومت نے رمضان کے لئے دو ارب روپے کا رمضان ریلیف پیکج دیا ہے۔ جس کو عوام تک شفاف طریقے سے پہنچانے کے لئے شیخ رشید کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔

دوسری جانب یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی حالت یہ ہے کہ سٹورز خالی پڑے ہیں اور کچھ کمپنیوں کے علاوہ تمام کمپنیوں نے سامان کی سپلائی بند کردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کے ان کمپنیوں کی بقایات جات ادا نہیں کیا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز حکام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور چودہ ارب روپے ریلیز کردے تاکہ کمپنیوں کے بقایہ جات ادا کرنے کے بعد دوبارہ رمضان کے لئے خریداری کی جائے اور عوام الناس کو سستی اشیائے خوردونوش فراہم کردیا جائے۔

یہاں ایک بات سمجھنے کی ضروت ہے جو بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز حکام کے مطابق اس وقت پورے ملک میں یوٹیلٹی سٹورز کے پاس دو ارب کے سامان موجود ہیں جن میں کھانے پینے کی چیزیں نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کی طرف سے دی جانے والی دو ارب کی سبسیڈی عوام میں تقسیم کرنے کے لئے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن پر کم از کم پچیس ارب کا سامان ہونا ضروری ہے۔ اب دو ارب کے سامان ہی نہ ہو تو دو ارب کی سبسیڈی کس طرح دی جائے گی۔

تبدیلی سرکار یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو مالی بحران سے نکالنے اور روزہ داروں کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ رمضان میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور یوٹیلٹی سٹورز نے خریداری ہی نہیں کی ملک بھر کے سٹور خالی پڑے ہیں۔

اس تمام صورت حال کو دیکھ کر یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمین سخت مایوس ہوچکے ہیں۔ اور انہوں نے یکم مئی کو پارلمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے۔ اگر حکومت نے اس وقت بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو بیک وقت رمضان المبارک کے مہینے میں حکومت عوام اور ملازمین کے لئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اگر حکومت نے ہوش سے کام لیتے ہوئے دس ارب بھی ریلیز کر دیے تو رمضان کے پہلے ہفتے کے آخر تک ملک کے تمام سٹوروں کو سامان سے بھرا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دو ارب کی سبسیڈی کا اعلان عوام اور ملازمین کے لئے لالی پوپ ہی سمجھا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •