سیاسی ارتقا کو کام کرنے دیجئے
اصول یہ ہے کہ دنیا کا برے سے برا نظام بھی تسلسل اور استحکام کے ساتھ اپنے آپ کو بہتر سے بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے ارتقائی عمل بھی کہا جا سکتا ہے۔ ارتقاء کے لئے دو بنیادی اجزاء تسلسل اور استحکام درکار ہوتے ہیں۔ آپ ان میں سے کسی ایک چیز کو وقتی یا مستقل طور پر روک لیں تو ارتقاء کا عمل رک جائے گا۔
آج ہم مغرب کے جس معاشرتی یا حکومتی نظام کو آئیڈیلائز کرتے ہیں وہ دراصل صدیوں کے ارتقائی عمل کی موجودہ بہترین شکل ہے وگرنہ انیسویں صدی کے اواخر تک آج کے انسانی حقوق کے سرخیل سمجھے جانے والے یورپی ممالک میں غلام رکھنا قانوناً جائز تھا۔ تو یہ ارتقاء ہی تھا جس نے معاشرے میں ایسے انسان دشمن قوانین کے خلاف شعور بیدار کیا۔
لیکن جہاں پر نظام کو پنپنے کا موقع ہی نہ ملے اور ہر کچھ عرصے بعد پرانے نظام کی بساط لپیٹ کر نیا نظام متعارف کرنے کے روایت قائم ہو وہاں کوئی نظام بھی پروان نہی چڑھتا بلکہ نظام چوں چوں کا مربع بن جاتا ہے۔
آج آپ پاکستان میں کسی بھی پڑھے لکھے یا ان پڑھ شخص سے پوچھیں کہ اس کے خیال میں پاکستان کا سب سے منظم، بہترین اور فعال ادارہ کون سا ہے تو وہ بلا توقف صرف ایک نام لے گا ”فوج“۔ اب فوج ایک ایسے ملک میں منظم ترین، بہترین اور فعال ترین ادارہ کیسے بن گیا جبکہ اسی ملک کے باقی تمام ادارے شدید ترین زوال کا شکار ہیں؟
سٹیل مل ہے تو گردن گردن قرضے میں ڈوبی نظر آتی ہے۔ پی آئی اے ہے تو ہر گزرنے والا دن خسارے کی نوید سناتا ہے۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں ہیں تو مسلسل گھاٹے میں ہیں۔ جمہوری ادارے ہیں تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آتے ہیں تو فوج ان سب کے درمیان رہتے ہوے بطور ادارہ کیسے زوال پذیر ہونے سے محفوظ رہا؟
تو جواب صرف ایک ہے کہ فوج کو بطور ادارہ ارتقاء کا پورا موقع ملا اور کسی موقع پر بھی اس ارتقائی عمل میں خلل نہی آیا۔ اسی تسلسل کے نتیجے میں فوج کا نظام مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا اور آج الحمدللہ ہم فخر سے کہ سکتے ہیں کہ ہماری افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔
لیکن ذرا رہئیے۔ ۔ صرف ایک لمحے کو تصور کیجئے کہ اگر فوج بھی اس ارتقائی استحکام سے محروم رہتی؟ اگر صرف ایک بار فوج کا سربراہ ایک پروفیشنل اور قابل فوجی کی بجائے کوئی سویلین سیاستدان آ جاتا؟ اگر فوج کا نظام بھی جمہوری نظام کی طرح ہر دس سال بعد تہہ و بالا کیا جاتا تو کیا آج فوج اتنی ہی منظم اور پیشہ ور ہوتی؟ یقیناً نہیں، کیونکہ اس طرح کی مداخلت سے فوج کا پیشہ وارانہ ارتقاء متاثر ہوتا۔
تو کیا یہی اصول باقی اداروں پر لاگو نہی ہوتا؟ کیا سیاست ایک مکمل پیشہ وارانہ شعبہ نہی ہے؟ کیا سیاسی لوگوں کا ارتقاء جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کا باعث نہی بن سکتا تھا؟ کیا ہر دس سال بعد جمہوریت اور جمہوری نظام کو تلپٹ کر کے ہم نے سیاست اور جمہوریت کے ارتقاء پر بند نہی باندھے؟ کیا ہم نے جمہوریت اور جمہوری نظام حکومت کو مستحکم ہونے کا موقع دیا؟ جب پورا موقع ہی نہی دیا گیا تو اس نظام پر اور نظام کے چلانے والوں پر دشنام طرازی چہ معنی دارد؟
اگر جمہوریت اور جمہوری نظام بلا تعطل چلتے رہتے تو اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو اسی طرح نظام سے نکال باہر پھینکتے جس طرح فوج نے کیا اور آج یہ ادارے بھی اپنی اپنی جگہ پر منظم ترین، بہترین اور فعال ترین ہوتے۔ آج ہمارا نظام حکومت بھی مغرب کے نظام حکومت کی طرح شہریوں کی آزادی، فلاح اور تحفظ کی ضمانت ہوتا۔ آج سیاستدان بھی اسی طرح قابل، نڈر اور اصول پرست ہوتے جس طرح ہمارے فوجی بھائی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ نظام چلتا رہے۔


