تبدیلی ’’خوف‘‘ سے خوف زدہ

آج کل ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ ہے ”کپتان“۔ لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ ذہن میں آ جاتا ہے، جو ضبطِ تحریر کرنا پڑتا ہے۔ مینیجمنٹ سائنسز کا ایک طالب علم ہونے کے ناتے سے میں حیران ہوں کہ آخر ایسا کیا غلط ہو ا کہ کھیل کے ابتدائی پانچ اوورز ہی میں لگ رہا ہے کہ کپتان کی ٹیم میچ ہار جائے گی۔ نہ صرف میچ ہارے گی بلکہ ٹیم کے لئے پورے اوورز کھیل لینا ہی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ اوپر سے تھرڈ امپائر کا خوف بھی اوسان خطا کیے جا رہا ہے کہ کہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایکشن ہی نہ لے لے۔ایک عمدہ لیڈر شپ کے لئے جو وصف درکار ہوتے ہیں، وہ یقینا کپتان میں موجود ہیں۔ ایک طلسماتی شخصیت، متاثر کن جدوجہد کی کہانی، کر گزرنے کا جذبہ، مضبوط قوت عمل، مقصد کے حصول کا جنون، لگن، تڑپ، اخلاص اور سب سے بڑھ کر ایک قابل قبول اور قابل عمل عظیم مقصد۔

Read more

کیا روحانیت سائنس سے متصل ہو سکتی ہے؟

کپتان نے القادر یونیورسٹی کے حالیہ افتتاح پر روحانیت اور سائنس کو ایک کر کے اس ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سائنس کو مذہب کے ہمیشہ خلاف تصور کیا گیا ہو اور جہاں سائنسی ایجادات کے خلاف با قاعدہ فتوے دیے گئے ہوں، اس ملک میں سائنس کے ساتھ مذہبی تعلیم کیا واقعی قابل عمل یا قابل قبول ہے؟

Read more

سیاسی ارتقا کو کام کرنے دیجئے

اصول یہ ہے کہ دنیا کا برے سے برا نظام بھی تسلسل اور استحکام کے ساتھ اپنے آپ کو بہتر سے بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے ارتقائی عمل بھی کہا جا سکتا ہے۔ ارتقاء کے لئے دو بنیادی اجزاء تسلسل اور استحکام درکار ہوتے ہیں۔ آپ ان میں سے کسی ایک چیز کو…

Read more

کپتان کلہاڑے کی تلاش میں

لگتا ہے کہ عمران خان پاؤں پر مارنے کے لئے کلہاڑا تلاش کر رہا ہے۔کچھ بھی تو ٹھیک نہی جا رہا۔ معیشت گیلے صابن کی طرح ہاتھ سے پھسلتی جا رہی ہے۔ کاروباری حضرات تبدیلی کا زہر پینے کے بعد کسی تریاق کی تلاش میں ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار وزرا کے احمقانہ بیان سن کر جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ دوست ممالک کے مالی امداد کے وعدے کسی کھلنڈرے نوجوان کے لڑکی سے شادی کے وعدے کی طرح نکلے۔ ڈالر اسد عمر کے قد سے بھی اونچا ہو چکا اور روپیہ ہماری مجموعی اخلاقی حالت سے بھی نیچے گر چکا ہے۔

Read more