علی ظفر اور میشا شفیع کا کیس: بات نکل چکی ہے اور یقیناً دور تلک جائے گی۔۔۔

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے سال، میشا شفیع نے اپنے ساتھی اداکار علی ظفر پر انھیں جنسی طور پر ہراس کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ معاملہ، سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہا، عدالت تک بھی گیا اور آج بھی عدالت میں ہے۔

جتنے منہ اتنی باتیں، جس کے منہ میں جو آیا، اس نے بکا۔ علی ظفر نے کل بھی اس الزام سے انکار کیا اور آج بھی وہ ہر نجی چینل پر بیٹھ کے زار و قطار رو رہے ہیں اور خاتون میزبان انھیں پچکار رہی ہیں۔ یا حیرت! کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہو کیا رہا ہے؟

دو ایک روز پہلے علی ظفر کا ایک بیان نظر سے گزرا جس میں وہ میشا پر کبھی، کینیڈا کی شہریت لینے کے لیے یہ بات کرنے کا الزام لگا رہے تھے اور کبھی وہ بے حد حقارت سے میشا کو ملالہ بننے کا شوقین قرار دے رہے تھے۔

اگلے ہی روز وہ رو رو کے میشا کو اللہ سے معافی مانگنے کا کہہ رہے تھے اور اس سے اگلے روز وہ میشا کو عدالت میں گھسیٹنے اور ان کی وکیل کو سائبر کرائم میں نامزد کرنے کی دھمکی دے رہے تھے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے اور چونکہ جنسی ہراس کے معاملے پر قانون سازی، ‘کام کی جگہ’ یا ‘ورک پلیس’ تک ہی محدود ہے اس لیے شاید تکنیکی طور پہ میشا کے لیے کچھ قانونی مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے وہ علی ظفر کی ملازم نہیں تھیں لیکن جب تک اس معاملے پر بات نہیں ہو گی، مستقبل میں اس قسم کے واقعات پر بھی کبھی بات نہیں ہو سکے گی۔

سچ اور جھوٹ کیا ہے؟ یہ عدالت میں ثابت ہو گا لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ یہ بڑے بڑے ناموں والے چینل جو روز اپنے ڈراموں کے لیے ‘ایشو بیسڈ’ کہانیاں مانگتے ہیں اور جن کے تفریحی چینلز کی ’ٹارگٹ آڈیئنس‘ 15 سے 45 سال کی گھریلو خواتین ہیں، یہ سب کے سب اچانک علی ظفر پر اتنے مہربان کیوں ہو گئے ہیں؟

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ ایک معاملہ جو ابھی عدالت میں زیرِ بحث ہے اس کے ایک فریق پر جس قسم کی ممتا لٹائی جا رہی ہے وہ صاف ظاہر ہے۔

ان نیوز چینلز کی ‘ٹارگٹ آڈیئنس’ مرد ہیں۔ وہی پاکستانی مرد جو عورت کو ہمیشہ سے یہ ہی کہہ کے ڈراتے آئے ہیں کہ کسی سے ذکر کیا تو تم ہی بدنام ہو گی، چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر، نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے۔

ان مرد ناظرین کو خربوزوں کے بدلتے رنگوں سے سخت خوف لاحق ہو رہا ہے۔ مختاراں مائی اور ملالہ، یہ دو بھیانک خواب ہیں جو پاکستانی مردوں کو دن میں بھی ڈراتے ہیں۔ کینیڈا کی شہریت کے طعنے کے پیچھے، مختاراں مائی کا نام صاف سنا جا سکتا ہے اور ملالہ تو خیر ہے ہی کلنک کا ٹیکہ۔

میشا اگر ملالہ بننا چاہتی ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟ مجھے یاد ہے کہ سنہ 2007 تک اکثر کام کرنے والی خواتین کے شوہروں کو ‘آصف علی زرداری’ ہونے کا طعنہ ملتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد وہ ساری زبانیں اپنے اپنے ادہان میں ایسے گڑ مڑی مار کے جا پڑیں جیسے سرمائی نیند میں مدہوش کالے ناگ۔

شوبز کی دنیا میں جنسی طور پر ہراس کیے جانے کے واقعات بے حد عام ہیں۔ دو ایک روز پہلے پی ٹی وی کے سٹوڈیو جانے کا اتفاق ہوا، دیواروں پر جگہ جگہ خواتیں کی عزت کرنے اور ان سے مہذب انداز میں پیش آنے کی استدعا کی گئی تھی۔ یہ منت آمیز طغرے بہت سی ان کہی کہانیاں بیان کر رہے تھے۔

بے شمار اداکارائیں، اس ہوس کا شکار ہوتی رہیں۔ بہت سی خواتین اس ڈر کے مارے اس میدان میں نہیں آئیں کہ یہاں آنے والیوں کے بارے میں سب کو یقین ہوتا ہے کہ یہ راستے کہاں سے ہو کر گزرتے ہیں۔

ایسی صورت میں اگر کسی نے شوبز میں جنسی ہراس کے خلاف آواز اٹھائی ہے تو اسے بولنے تو دیں۔ اس کے خلاف میڈیا کی یہ جنگ ثابت کر رہی ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آ رہا ہے۔

اگر یہ معاملہ آ گے بڑھا اور اس پر بات ہوئی، مؤثر قانون سازی ہوئی اور آئندہ اس قسم کے واقعات کا سدباب ہو گیا تو ان بے چاروں کا کیا ہو گا جو گھر سے نکلتے ہی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے ہیں۔

ہاں بھئی، ملالہ، میشا، مختاراں، تم جیسی خواتین ان کی گنگا میلی کر رہی ہیں اور تمہاری پشت پر مغرب ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ پشت پناہی حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ اگر ہمارے معاشرے میں پہلے ہی بات سن لی جاتی تو آج معاملات یہاں تک نہ پہنچتے۔ اب ایسا ہے کہ بات نکل چکی ہے اور یقیناً دور تلک جائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •