پاکستان میں آزادی صحافت: کاہے کو ٹینشن لینے کا، رے بابا!
تین مئی کو پاکستان سمیت دنیا میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1991 ء کی اپنی 26 ویں اجلاس میں منظور قرارداد کو نافذ کرتے ہوئے 1993 ء سے ہر سال 3 مئی کو عالمی سطح پر یوم آزادئی صحافت کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے تحت صحافتی تحریروں پر پابندی لگانے، انھیں سنسر کرنے، جرمانہ عائد کرنے نیز صحافیوں کو زدوکوب کیے جانے، ان پر جان لیوا حملہ کیے جانے، انہیں اغوا کیے جانے اور انہیں بے دردی سے قتل کیے جانے پر غور و فکر کرنے اور ان کے سدّباب کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایسے حالات سے نمٹنے، حکمت عملی تیار کیے جانے اورحکومت وقت کو انتباہ کیے جانے پر زور دیا گیا۔
یونیسکو نے ایسے مقامی اور عالمی سطح کے اداروں، شعبوں، این جی اوز وغیرہ کوآزادئی صحافت اور ترقئی صحافت کے لیے مثبت اقدام اور اس ضمن میں غیرمعمومی خدمات کے لیے 1997 ء سے چودہ آزاد صحافیوں کی جیوری سمیت یونیسکو کے اسٹیٹ ممبران کی سفارش پر کولمبیا کے ایک اخبار El Espectador کے مقتول صحافی Guillermo cano isaza جن کو 17 ؍دسمبر 1986 ء کو کولمبیا کے ایک بہت بڑے دولت مند صنعت کار کے خلاف لکھنے کی پاداش میں ہلاک کر دیا گیا تھا، کے نام پر ایک باوقار ایوارڈ کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاکہ نہ صرف جمہوریت کا استحکام اور اس کا افادی پہلو کا دائرہ وسیع ہوبلکہ مفاد عامّہ کے لئے صحافت اور صحافتی خدمات پر معمور صحافیوں کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کیا جائے کہ کس طرح نامساعد حالات میں عوامی مفاد کے لیے رائے عامّہ تیار کرتے ہیں۔
دور حاضر میں عو امی مسائل اور نظریات کی ترویج میں صحافت کے کردار کا سبھی نے اعتراف کیا ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ کے مطابق ”If You Want to Change the World، Pick Up Your Pen and Write“، تاہم لوگ صحافت کوجتنا آسان سمجھ رہے ہیں پاکستان کی حد تک اب یہ پیشہ اتنابھی آسان نہیں رہاہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی میں صحافیوں کو سلامتی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ملک میں صحافیوں کے لئے حالات کبھی بھی سازگار نہیں رہے۔

قدم قدم پر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوران کوریج اور کبھی خبر کی نشر و اشاعت کے بعد انہیں دھمکیوں اور نفرت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے صحافی مختلف ادوار میں پابند سلاسل بھی ہوئے تشدد کا نشانہ بنے اور کچھ تو جان کی بازی ہار گیے۔ جمہوری آمریت ہو یا آمرانہ جمہوریت پاکستانی صحافیوں نے ہمت پھر بھی نہیں ہاری اور سچ کا سفر جاری و ساری ہے۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک صحافیوں کے لئے خطرناک ترین جگہ بن چکے ہیں۔ صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ممالک میں پاکستان کا نمبر 159 واں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں میڈیا کو سینسر شپ کے کڑے معاملات کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص عام انتخابات کے دوران، اس کے ساتھ اخبارات کی تقسیم میں رکاوٹیں حائل ہوئیں۔ ذرائع ابلاغ کو اشتہارات واپس لینے کے حوالے سے دھمکایا گیا جبکہ کچھ ٹی وی چیننلز کے سگنلز بھی بند کردیے گیے۔
جس کے باعث مذکورہ فہرست میں پاکستان اپنے پرانے درجے سے 3 درجے تنزلی کا شکار ہوگیا۔ آر ایس ایف کے مطابق صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب سخت طریقوں کا سہارا لیا گیا مثلاً ڈرانا دھمکانا، جسمانی تشدد اور حراست میں لیا جانا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ برس پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا اعلان کی جس کے نام میں موجود لفظ ’ریگولیشن‘ واضح طور پر سینسر شپ کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے علاوہ مذکورہ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کام کرنے والے صحافی سب سے زیادہ خطرات کی زد میں ہیں اور گزشتہ برس کم از کم 3 صحافی اپنے پیشے کے باعث قتل کردیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق غیر یقینی سیکورٹی صورتحال، دہشتگردی کے خطرات، سیاسی اثرورسوخ پاکستانی میڈیا کی آزادی میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے پریس فریڈم کی نفی کرنے والے یا اسے انتہائی حد تک نقصان پہنچانے والے غیر جانبدار پریس کے چالیس سب سے بڑے دشمنوں کی جو فہرست جاری کی ہے جس میں سیاستدان بھی شامل ہیں اور مذہبی تنظیموں اور ملیشیا گروپوں کے رہنما بھی۔ آزادی صحافت کے مخالف فہرست میں جو نام شامل کیے گئے ہیں انہیں ادارے نے خطرناک طاقتور، پُرتشدد اور قانون سے بالاتر قرار دیا ہے جو نہ صرف اپنی طاقت کے بل پر سنسرشپ کا ہتھیار بھی استعمال کرتے ہیں بلکہ صحافیوں کو اغواء، ان پر تشدد اور انہیں قتل بھی کراتے ہیں۔ اس فہرست میں 17 ملکوں کے صدور اور سربراہان حکومت کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

صحافت کا قلم سے لے کر کمپیوٹر تک کا سفر مصائب، صبر و تحمل، ایثار و قربانی اور تبدیلیوں سے بھرا ہوا ہے۔ صحافت کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ آمریت پسند افراد، حکومتوں اور سرمایہ داروں کے عتاب کے باوجود پورے استقلال اور جذبے سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ اولوالعزم، بہادر صحافیوں نے پریس سنسر شپ اور قاتلانہ حملوں کے باوجود صحافت کی اعلیٰ اقدار کا ہمیشہ تحفظ کیا ہے۔ بے شمار مسائل، مصائب اور متعدد سامراجی ہتھکنڈوں کے باوجود صحافت دنیا کو امن و سکون کا مسکن بنانے میں مصروف عمل ہے۔
صحافیوں نے اپنی قربانیوں سے پیشہ صحافت کے وقار و احترام میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ دراصل کسی بھی معاشرے میں سامنے آنے والی ساری آرا سود مند نہیں ہو سکتیں۔ لیکن اس بات کا فیصلہ ملک کی حکومت یا مذہبی گروہ نہیں کر سکتے کہ کون سے موضوع پر کس طرح بات کی جا سکتی ہے۔ فرد کو آزاد معاشرے کے شہری کے طور پر اور صحافیوں کو ایک ذمہ دار پیشہ سے منسلک ہونے کے ناطے اس بات کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ خود یہ فیصلہ کرسکیں کہ کون سی بات کس انداز میں کہنا یا پیش کرنا مناسب ہو گا۔ صحافت کی یہ آزادی پاکستان میں عنقا ہے۔ اسی لئے آزادی اظہار کے انڈیکس میں پاکستان کو بدترین پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔
اظہار کے حق کا تحفظ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کسی قانون شکنی کا فیصلہ کرنے کا حق صرف عدالتوں کو ہو اور ملک میں ایسا عدالتی نظام استوار ہو سکے جو دباؤ اور تعصب سے بالاتر ہو کرصرف میرٹ کی بنیاد پر فیصلے صادر کرنے پر قادر ہو، اپنی رائے اور صوابدید کے مطابق اختلاف رائے کرنے والے کے خلاف اقدام اور فیصلے کرنے کا رویہ کسی بھی معاشرے میں فرد کے اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، پاکستان میں جب تک یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوگی اور حکومت، ادارے اور گروہ من مانی تفہیم یا توجیہہ کے مطابق لوگوں کو سزا دینے یا ملک و مذہب کا دشمن قرار دینے کے طرز عمل پر گامزن رہیں گے، پاکستان میں صحافیوں کے لئے سلامتی کے مسائل برقرار رہیں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہماری پارلیمان کو صحافیوں کے تحفظ کے لیے کارآمد اور موثر پالیسی تشکیل دینی چاہییے۔


