ڈی جی آئی ایس پی آر کا وہ بیان؟


پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مدارس کو وزیر تعلیم کے ماتحت لانے کا فیصلہ کیا ہے یہ وہ بیان ہے جس پر دو رائے سامنے آرہی ہیں۔ پہلی رائے والے وہ مذہبی حضرات ہیں جو ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس بات سے مکمل اختلاف رکھتے ہیں جبکہ دوسری رائے والے وہ لبرل اور جدید سوچ کے حامل لوگ ہیں جو مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ ان دونوں رائے سے اتفاق یا اختلاف کرنے کے بجائے میں کچھ اور باتیں کہنا چاہتا ہوں جو عامۃ الناس کے لئے ہیں۔

سب سے پہلی بات واقعی یہ ایک ایسا موضوع ہے جو قابلِ بحث ہے جس پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ بحث کرنا ہوگی نہ کہ صرف حق اور باطل کی جنگ سمجھ کر صفیں تیار کی جائیں۔ مجھے معلوم ہے یہ ایسا موضوع ہے جس پر درمیانی راہ پر چلنا ہوگا جہاں ذاتی جذبات اور جانبداری کو مکمل ترک کرنا ہوگا تبھی ایک ایسی رائے پر پہنچا جاسکتا ہے جہاں مسائل کا حل نظر آتا ہے۔ آسان آپشن تو یہ تھا کہ اس بیان سے مکمل اتفاق کیا جائے یا پھر مکمل اختلاف کرکے تنقید کی جاتی مگر چونکہ ہم سب نے مل کر بہتری لانی ہے اس ملک کی بہتری کے لئے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا بجائے ہوا کے رُخ پر چل پڑیں ہمیں واقعی مسائل کے حل کی طرف آنا ہوگا اور ملکر کام کرنا ہوگا تبھی یہ ملک قائم و دائم رہ سکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاحب نے جو بیان دیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایسا بیان ہے جسے مکمل طور غلط کہا یا سمجھا جائے یا نیت پر شک کیا جائے۔ یقینا مدارس پاکستان کی شان ہیں، دین کے قلعے ہیں، تعلیم و تربیت کا ذریعہ ہیں مگر

کیا عرصہ دراز سے ایسے مضامین پڑھائے جا رہے ہیں جن کی اب حاجت نہیں رہی وہ اس دور میں بھی پڑھانے چاہیے؟

کیا مدارس جو چندے زکواۃ اور صدقات پر چلتے ہیں وہ اب بھی اسی طرح چلتے رہیں یا انہیں بھی ملک کا اہم شعبہ سمجھ کر وہی اہمیت دینی چاہیے جو یونیورسٹیوں کی ہے؟

کیا مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی گنجائش باقی نہیں رہی؟

کیا ریاست کے اندر تعلیمی نظام کے ڈھانچے کو ایک فریم میں نہیں لانا چاہیے یا سب اپنی مرضی کا تعلیمی نظام پڑھاتے رہیں؟

کیا مدارس کے اساتذہ کو ملازمت نہیں ملنی چاہیے انہیں بھی 16، 17 گریڈ کے افسر کے برابر مراعات نہیں ملنی چاہیے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر بحث ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ یکساں نظام تعلیم و نصاب تعلیم نہ سہی مگر کم از کم ایسا نصاب اور نظام تعلیم تو ہو کہ جو معاشرے کے سبھی لوگوں کے لئے قابلِ قبول ہو جو ایک معاشرے کی دینی اور دنیوی ضروریات پوری کرنے کا ضامن ہو جو سب کے لئے باعث عزت و فخر ہو۔ اس سے یہی لگتا ہے مدارس کے نظام اور نصاب میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے ضرورت اس لئے نہیں کہ انہیں دین سے دور کیا جائے بلکہ اس لئے ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ مدارس میں پڑھنے والے بھی معاشرے کے نامور شخصیت بن کر ابھریں صرف مساجد میں امامت یا اذان تک خود کو محدود نہ رکھیں بلکہ دنیا کی دوڑ میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ملک کی ترقی کے لئے اپنی خدمات سرانجام دیں۔

دوسری جانب یہ بات بھی ہے مدارس جو اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں جنہیں حکومتیں نظرانداز کرتی رہیں پھر بھی وہ ابھی تک قائم و دائم ہیں جبکہ جدید علوم کی حامل جامعات میں جو گند پھیل رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ آئے دن یونیورسٹیوں میں مسائل لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ نشہ سرعام ہوتا ہے۔ یونیورسٹیز کو بھی تو بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ ان میں بھی بہتری لائی جانی چاہیے۔ پورے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی بات کی جائے۔ ہمارا معاشرہ دو کناروں پر کھڑا ہے ایک دوسرے کو ختم کرنے والی سوچ چل پڑی ہے۔ ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے ایک دوسرے کو راستے کی رکاوٹ سمجھا جارہا ہے۔ جو خلا پیدا ہو چکا ہے، اسے کون پُر کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان غلط ہرگز بھی نہیں مگر اس بیان کے ساتھ پورا تعلیمی نظام اور یونیورسٹیوں کا ذکر بھی ہوتا تو زیادہ مناسب لگتا۔ بات میں جان بھی ہوتی، شکوک شبہات بھی جنم نہ لیتے، مدارس کو ختم کرنے والی سوچ کو پروان چڑھانے والوں کو مواقع میسر نہ آتے۔ مگر چونکہ اب بات صرف مدارس کی ہے جس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا جس کی وجہ سے مدارس چلانے والوں میں اضطرابی لہر دوڑ گئی ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

یقینا بہتری اسی میں ہے کہ ملک کا تمام تعلیمی نظام بہتر کیا جائے اور یکساں تعلیمی نظام لایا جائے یا پھر کم از کم ایسا تعلیم نظام ضرور ہو جہاں تک معاشرے کے ہر فرد کی آسانی سے رسائی ہو۔ جو دین اور دنیا دونوں کی کامیابی و ترقی کا ضامن ہو۔ اس موضوع پر بجائے تنقید کے ایک اہم موضوع سمجھ کر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے اور اس کے مسائل کا حل پیش کیا جانا چاہیے نہ کہ محض چسکے لے کر جملے کسے جائیں اور کل پھر ہمیں پچھتاوا ہو کہ ہم تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے کچھ نہ کرسکے۔

Facebook Comments HS