ہمارے محنت کش اور عرب ریاستوں میں غلامی کی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فکر معاش اور تقدیر انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی جب ذریعہ روزگار نہ ہوتوانسان حالات اور بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر کام کرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے اپنے خاندان اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے تلاش رزق میں ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے اور پھر کہیں جا کہ دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے۔ کہنے کو تو پاکستان مملکت خداداد ہے مگر یہاں بسنے والوں کے دکھ خداداد نہیں ہیں، یہاں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کا نظام ہے اور اس کا ذمہ دار سراسر ریاست اور حکمران طبقہ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایک طرف دولت کے انبار ہیں جبکہ دوسری طرف روزگار کی تلاش میں اپنے ملک سے دور غلامی جیسی زندگی گزارنے پہ مجبور لوگ۔

دیگر ایشیائی ممالک کی طرح پاکستانی بھی محنت مزدوری اور روزگار کے سلسلے میں یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک کا سفر کرتے ہیں جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ہر انسان جانتا ہے کہ یورپ کا سفر مہنگا اور دشوار ہے، یہاں تک پہنچنا آسان نہیں اس کے لیے متعدد بے روزگار پاکستانی اچھی زندگی کے خواب آنکھوں میں لیے غیر قانونی راستے اور طریقے بھی استعمال کرتے ہیں اور بہت کم اس میں کامیاب ہو پاتے ہیں بیشتر کسی نہ کسی سرحد پہ مارے جاتے ہیں، اگرچہ وہاں پہنچ کر، سخت محنت کے بعد زندگی سہل بنائی جا سکتی ہے لیکن یہ ایک صبر آزما اور طویل مرحلہ ہوتا ہے۔

متوسط طبقے کے افراد البتہ اپنی پہلی ترجیح میں یورپ کو رکھتے ہیں۔ یورپ میں کام کرنے والے مزدوروں اور ہنر مندوں کا موازنہ مشرق وسطٰی یا ایشیا میں کام کرنے والے مزدوروں یا ہنر مندوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ وہاں انسانی حقوق کی پاسداری اور لیبر قوانین پر عمل درآمد بہرحال ہوتا ہے۔ جبکہ عرب ممالک کی نسبت یورپ میں ایشیائی باشندوں کو بھی اسی طرح انسان سمجھا جاتا ہے، جس طرح کہ یورپین باشندوں کو، الا کہ ان میں سے کوئی سنگین جرم کا ارتکاب نہ کر بیٹھے۔ ایسی صورت میں بھی نا انصافی کی امید نہ ہونے کے برابر ہے اور عدل ہوتا ہے اور فیصلہ قانون انصاف کے مطابق ہوتا ہے۔

اس کے مقابل عرب ریاستوں کا سفر یورپ کے مقابلے میں سستا بھی ہے اور میرے ہم وطنوں میں سے بیشتر کی ترجیح بھی۔ غریب پاکستانیوں کی اولین ترجیح روزگار کے لئے سعودی عرب اور اس کے بعد دبئی، ابو ظہبی و شارجہ اور دیگر اماراتی ریاستیں ہوتی ہیں۔ اس حقیقت سے کسی بھی طور آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ عرب بادشاہتوں میں تلاش روزگار کے سلسلے میں آئے ان افراد کی حیثیت ایک غلام سے زیادہ نہیں اور ان کے ساتھ برتاؤ بھی ایک غلام کی حثیت سے ہی کیا جاتا ہے۔ ہم لاکھ یہ گیت گاتے رہیں کہ ہم لازوال مذہبی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، حقائق مگر بڑے جگر سوز ہیں۔

عرب ریاستوں میں مزدور ہو یا ہنر مند، کفیل کا زرخرید غلام ہی تو سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ عرب حکومتیں کفیل کی پشت بان ہیں۔ بڑی بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں شہزادوں کے حصص ہیں یا براہ راست ان کی ملکیت۔

یہ 2016 کی بات ہے جب یکے بعد دیگر سعودی عرب میں موجود کمپنیوں نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا جس سے دمام، ریاض، طائف اور جدہ میں کام کرنے والے تقریباً 12000 پاکستانی متاثر ہوئے۔ اوجر کنسٹرکشن جو سعودی عرب میں گزشتہ کئی سالوں سے کام کررہی تھی جنوری 2016 ء میں کمپنی نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے 2800 ملازمین کو تنخواہ دینا بند کردیں۔ ملازمین کے تقاضوں اور احتجا ج کی وجہ سے سعودی وزارت لیبر نے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا وعدہ کر کے ملازمین کو متعلقہ ممالک کو روانہ کر دیا۔

سعودی ریڈ کو کمپنی، اوجر شرکہ اور دیگر سعودی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین کو بغیر تنخواہ اور مراعات کے جبری طور پر پاکستان بھیج دیا گیا۔ جبکہ ان ملازمین کے گزشتہ دو سال کی تنخواہ کمپنیوں کے ذمے واجب الادا تھیں، سعودی حکومت اور ریاض میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے متعدد بار مداخلت کے باوجود بھی کمپنیوں کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

شرکہ سعودی اوجیہ ”سعودی عرب کی دوسری سب سے بڑی کنسٹرکشن کمپنی تھی، جس میں چالیس سے پچاس ہزار کے قریب پاکستانی کام کرتے تھے اس کے علاؤہ“ شرکہ سعد ”اور درجنوں دیگر چھوٹی بڑی کمپنیز میں لاکھوں پاکستانی مزدور کام کرتے تھے۔

لوگ تنخواہ نہ ملنے کے بعد بھی انہی کمپنیوں کے ساتھ کام کر تے رہے کیونکہ انہیں 20 سال سے زیادہ کام کرنے کے بعد اندازہ تھا کہ ان کے واجبات ادا ہو جائیں گے۔

لیکن ان کی آٹھ ماہ کی تنخواہیں اور سروس بینیفٹ دیے بغیر پاکستان بھیج دیا گیا، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ جلد آپ لوگوں کو پاکستان میں آپ کے تمام واجبات کی ادائیگی کردی جائے گی، سعودی اور پاکستانی حکومت کی اس ملی بھگت کے نتیجے میں لاکھوں افراد خالی ہاتھ پریشان حال اپنے گھروں کو لوٹنے پہ مجبور ہوئے، سعودی لیبر منسٹری اور پاکستان اوورسیز کمیشن کے ساتھ پاکستانی سفارت خانے نے مکمل یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ بہت جلد آپ لوگوں کو تمام ادائیگی کردی جائے گی ان کام کرنے والوں میں زیادہ تر تعداد الیکٹریشن، مستری مزدور رنگ کرنے والوں اور مکہ اور اس کے اطراف میں فرش کی تزیئن کرنے والوں کی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پنجاب سندھ اور آزادکشمیر سے تھا۔

سعد حریری کی کمپنی اوجر کے ملازمین کو جبری برخاست کرنے پر سعودی حکومت نے ادائیگیاں کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ متاثرین واجبات کی ادائیگی کے لیے بارہا احتجاج بھی کرتے رہے پاکستانی اور سعودی سفارتخانوں سے بھی رابطہ کیا گیا نہ تو کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اور نہ ہے متاثرین کی داد رسی۔ سعودی حکام کا یہ موقف تھا کہ چونکہ یہ نجی کمپنیاں ہیں اس لیے سعودی حکومت ان پر زبردستی نہیں کر سکتی۔ لیکن یہ ضمانت ضرور دیتے ہیں کہ یہ لوگ بھاگیں گے نہیں اور اپنی مالی حالت بہتر ہوتے ہیں یہ ادائیگیاں کر دیں گے۔ لیکن تاحال واجبات کی ادائیگی کا معاملہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جوں کا توں ہے۔

سعودی حکام نے یہ بھی کہا تھاکہ اگر حکومتِ پاکستان چاہے تو ان کمپنیوں کو عدالت میں بھی لے جا سکتی ہے کیونکہ دیگر ممالک کے لوگوں کو ادائیگیاں کر دی گئی ہیں لیکن صرف پاکستانیوں کو نہیں کی گئیں۔

پاکستانی اس ضمن میں وہاں کی عدالتوں میں بھی گئے مگر بوجوہ انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوسکے۔ روزگار کے سلسلے میں پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب میں مقیم تھی، جن کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ تھی۔ سابق وزیراعظم پاکستان کی جانب سے متاثرہ محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے لئے امداد کا اعلان کیا گیا تھا مگرپچاس ہزار کی رقم سے ان محنت کشوں کے درد کا درماں نہ ہو سکا۔

متاثرین نے متعدد بار پاکستانی سفارتخانے کو صورتحال سے آگاہ کیا لیکن سفارتخانے کی جانب سے محض تسلیاں دی جاتی رہی ہیں، عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان کے دورے پہ یہ توقع تھی کہ وزیراعظم عمران خان قیدیوں کی رہائی کے ساتھ یہ مسئلہ بھی ولی عہد کے سامنے رکھیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اورسیز پاکستانی فاونڈیشن اور وزارت خارجہ ان متاثرین کی حالت سے بے خبر ہیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ دو سال سے یہ لوگ اس امیدپہ جیسے تیسے گزارہ کر رہے تھے کہ واجبات ملنے پہ کوئی چھوٹا موٹا کام کاج کرلیں گے لیکن یہ ممکن نہ ہوا، اب ان بیروذگار افراد کی پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اپنا قیمتی وقت سعودی عرب میں گزارنے کے بعد یہ لوگ اب کسمپرسی کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ واپس پاکستان آنے کے بعدسعودی عرب میں بن لادن اور سعودی اوجر اور دیگر کمپنیوں میں کام کرنے والے ساڑھے تین ہزار سے زائد پاکستانی تین سال سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، متعدد ملازمین ذ ہنی مریض بن چکے ہیں۔ اور اب بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ سعودی اور پاکستانی حکومت مل کر ان کے واجبات کی ادائیگی کا کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہو جاہیں گی۔

لیکن پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتیں ٹس سے مس نہیں ہو رہیں، دونوں ملکوں کی حکومتوں کا کردار انتہائی شرمناک اور ظالمانہ ہے۔ دونوں اسلامی ممالک آپس میں بڑے مضبوط مذہبی اور سیاسی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں دونوں حکومتوں کو حالات کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔ آخر یہ پریشان حال بیروذگار افراد آپنے درد کی دوا کس سے چاہیں؟ ہم سمجھتے ہیں عالمی انسانی حقوق اور لیبر یونین کی ان تنظیموں جو مزدورں کے حققوق پہ بات کرتی ہیں کو بھی میدان میں آنا چاہیے، اور ان متاثریں کے حققوق اور واجبات کی ادئیگی کی لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •