عالمی یوم مزدور۔ بلدیہ ٹاون کے سو ختہ جانوں کے نام


یو ں تو یو م مئی تما م مزدوروں کے جدو جہد کی داستان ہے لیکن میں یہ کالم ان مزدور شہیدوں کے نا م کرنا چاہوں گی جو محض غفلت و لا پروائی اورحفا ظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جا نوں سے ہا تھ دھو بیٹھے. ملکی تاریخ کا یہ بھیانک حادثہ 12 ستمبر 2012 ء کو پیش آیا جب بلدیہ ٹاون میں لگنے والی فیکٹری کی آگ نے 300 زندہ مزدوروں کو جلا کر بھسم کر دیا تھا۔ ان سوختہ جانوں کے لواحقین کی داستانیں اب بھی تا زہ ہیں۔ زخم جن سے خون رستا ہو گا۔ بے بسی کی اس موت کو وہ کیسے بھول سکے ہوں گے۔ اس سانحے کے بعد آئندہ کے لئے کیا حفاظتی اقدامات ہوئے یہ تو کسی دوسرے بڑے سانحے پر معلوم ہو گا لیکن ہماری یکم مئی اس شب ما تم کے بنا ادھوری ہے۔

یکم مئی! جو ساری دنیا کے مزدور ایک ساتھ مناتے ہیں، ان لو گوں کو خرا ج عقیدت پیش کر نے کی ایک چھو ٹی سی کو شش ہے جنھوں نے مزدوروں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اپنی زندگی کو خون سے رنگی داستا ن بنا دیا۔ 1886ء کو شکا گو کے جوشیلے اور انقلابی مز دوروں نے اپنے حقوق حاصل کر نے کے لیے مکمل ہڑتال کی۔ یہ وہ زما نہ تھا جب بر صغیر پاک وہند کے باسی اپنی آ زادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور دوسر ی جانب یو رپ میں نئی صنعتیں، تعلیمی ادارے قائم ہو رہے تھے۔ کارخانوں کے جال بچھا ئے جا رہے تھے۔ صنعتی ترقی کے لیے پرانے انجن کی جگہ مشینی قوتیں عمل میں آرہی تھیں۔ نئے جہاں آبا د کیے جا رہے تھے۔ اشر افیہ طبقہ اپنی بقا اور اپنے مفادات کی تنظیم نو کر رہا تھا لیکن!

ان سب میں ہمیشہ کی طرح جو طبقہ حقوق کھو رہا تھا دن رات محنت کے با وجود اسے پیٹ بھر روٹی نصیب نہ تھی وہ مزدور طبقہ تھا جو دن بدن بدحالی کی جانب سفر کر رہا تھا ان کے حقوق کا خیا ل کسی کو نہ تھا سرمایہ دار اپنی تجوریاں بھر نے کے لیے مز دوروں کے حقوق کو پا ما ل کر نے میں مصروف تھے۔ دوسری جانب کا رل ما رکس اور فریڈرک اینگلز کی تحریریں مزدوروں میں اپنے حقوق کا منشور بیدار کر رہی تھیں سرما یہ دار اور حکومتی اراکین کے خلاف مزدوروں میں اشتعال بڑ ھتا جا رہا تھا۔ انھیں اس با ت کا بھی غصہ تھا کہ دن رات کی محنت کے با وجود وہ اپنے خاندان کے لیے اشیائے ضرورت خرید نے سے بھی قاصر تھے ان حالات میں شکاگو کے جراتء مند مزدوروں نے سر پر کفن با ندھا۔ ان مز دو روں نے پہلی مکمل ہڑتال کی اور جلوس کی شکل میں شکا گو کی اہم شاہراہ کی جا نب روانہ ہو ئے۔ اینگلز نے ’دنیا بھر کے مزدوروں ایک ہو جاؤ‘ کا نعرہ دیا۔ مز دوروں نے اس عظیم نعرہ کو گرہ میں باندھ لیا مگر حکمرانوں، سر ما یہ داروں کو ان کی یک جہتی ایک آنکھ نہ بھائی۔ انھوں نے نہتے مزدوروں پر گولیوں کی بوچھا ڑ کر دی۔ محنت کشوں کے ہاتھوں میں تھامے ہو ئے سفید پرچم خون سے سرخ ہو گئے۔

اسی سرخ رنگ پرچم کو مزدوروں نے اپنا رنگ بنا لیا۔ انھوں نے عہد کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، وہ کام نہیں شروع کریں گے، اپنے ساتھیوں کی جانوں کے نذارنے کو یوں ضا ئع نہیں ہونے دیں گے۔ آخر کا ر سرمایہ دار وں اور حکومت وقت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ مز دوروں کے جائز مطالبات جو صرف یہ کہ آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کو تسلیم کیا جائے۔ اس سے زائد کا م کر وانے کا اختیار کسی مل مالک یا سرمایہ دار کو نہیں ہو گا۔ آج جو اوقات کار آٹھ گھنٹے ساری دنیا میں رائج ہے شکاگو کے ان محنت کش مزدوروں کے مرہون منت ہے جنھوں نے اپنی جانوں کا نذ ارنہ پیش کر کے مل ملکا ن اور سرمایہ داروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ان کے کارخانوں کو چلانے والے ملازمین کا بھی کچھ حق ہے۔

اگر ہم پا کستا ن کی با ت کریں تو یہ ہما ری بد قسمتی ہے کہ قیام پا کستا ن کے بعد مزدور وں کی آج تیسری نسل بھی مزدور ہی ہے۔ نسلوں کے اس سفر میں دادا فیکٹری مز دورتھا، با پ کان کن اور اب بیٹا گا ڑیوں کی دکان پر کا م کرنے والا مزدور ہے۔ کا رل ما رکس کے بقول ”ہر وہ شخص جو اپنی محنت بیچتا ہے وہ مز دور ہے اور جو یہ محنت خریدتا ہے وہ سر مایہ دار اوراستحصالی ہے۔ “ یہ طبقہ شروع دن سے معا شی استحصال کا شکار ہے۔

دیکھا جائے تو ایک مز دور اور سرما یہ دار کا رشتہ روح اور جسم کے مترادف ہے مگر دنیا میں بہت کم ایسے ادارے ہو ں گے جہا ں مزدور کو ان کے کام کے مطا بق مراعات، تنخواہ، سہو لتیں اور بہتر ماحول دیا جا تا ہو۔

حکومتی ادارے مز دوروں کی حا لت بہتر کر نے کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر ان دعووں میں کو ئی سچائی نہیں نظر آتی۔ عوام کو توانا ئی کے بحران نے بے روز گا ر کر دیا۔ بے شما ر صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔ وہ مزدور طبقہ جو دیہا ڑی پر کا م کر تا ہے سخت کسمپر سی کا شکا ر ہے۔ مہنگا ئی، لوڈ شیڈنگ نے مستقل بنیادوں پر کام کر نے والوں کو بے روز گا ر کیا ہے پھران دیہا ڑی مز دوروں کو کام کہاں سے ملے گا؟ اس وقت یہ مزدورطبقہ کے خا ندان سخت مشکل حالات اور فا قہ کشی میں مبتلا ہے ان کے مسائل خطر نا ک حد تک بڑھ چکے ہیں ملک میں لا قا نو نیت کی بڑ ھتی ہو ئی وارداتوں کی کئی وجو ہا ت میں سے ایک وجہ بے روز گا ری بھی ہے۔

معا شی بحران کا بو جھ محنت کش طبقہ کو ہی بر داشت کر نا پڑر ہا ہے اپنی تاریخ کی سو سالہ جد جہد اور قربا نیوں کے با وجود آج تک مزدور طبقے کے حالات بہتر نہیں ہو سکے اس ناکامی کی کئی وجو ہا ت میں ایک خود ٹریڈ یو نین اور ان کی رو ایتی پا ر ٹیا ں بھی شامل ہیں جو در پردہ سر ما یہ داروں سے اپنے تعلقات مستحکم رکھتی ہیں دوسری جانب یہ تا ثر دینے کی کو شش کر تی ہیں کہ وہ مزدوروں کے ساتھ ہیں۔

کار ل مارکس کے نز دیک سب سے اہم چیز معیشت ہے اوریہی وہ بنیا د ہے جس کے اوپر انسان کی اخلاقی و مذہبی تصورات اور اس کے تمدن علو م وفنون کی بنیا د کھڑی ہے ما رکس کے خیال میں انسا ن کو سب سے پہلی فکر غذا حاصل کر نے کی ہو تی ہے اس لیے سماجی انقلا ب میں سب سے بڑا ہا تھ ان تبدیلیوں کا ہو تا ہے جو پیداوار اور دولت کے تبادلے سے پیدا ہوتی ہے اوریہ ہم سب جانتے ہیں کہ پیداوار بڑھا نے کا وا حد ذریعہ افرادی قوت ہیں جب تک ان کے حالا ت زندگی بہتر نہیں ہوں ان کی جدوجہد جا ری رہے گی۔

مشہور انقلا بی شہید کا مریڈ روزا لگزمبرگ نے سچ کہا ہے کہ ”یوم مئی اس وقت تک منا یا جا تا رہے گا جب تک محنت کشوں کی اپنے حقوق کے لیے سر ما یہ داروں کے خلا ف جد وجہد جا ری رہے گی اور اگر محنت کش طبقہ عا لمی سطح پر اپنے حقو ق حا صل کر نے میں کا میا ب ہو بھی گیا تو شاید اس کے بعد یہ جدوجہد کر نے والے شہیدوں کی یا د میں یوم مئی منا یا جا ئے گا۔

Facebook Comments HS