حقوق سے فساد تک پی ٹی ایم کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نقیب اللہ محسود کی شہادت کے بعد منظور پشتین منظر عام پر آیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے انہوں نے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر اسلام آباد تک ان کے مطالبات بالکل جائز تھے۔ اُس وقت ان کا پہلا مطالبہ راؤ انوار کی جلد از جلد گرفتاری اور اس پر مقدمہ کا اندراج۔ آہستہ آہستہ جب منظور کے ساتھ عوام جڑنے لگے، ان کے مطالبات میں اضافہ ہوتا گیا۔

انکے چند اہم اور غور طلب مطالبات یہ تھے۔

پہلا مطالبہ، لاپتہ افراد کی لسٹ فراہم کی جاے اور ان کو کورٹس میں پیش کرنے کا مطالبہ۔

دوسرا مطالبہ، فاٹا میں چیک پوسٹس پر سختی کی بجاے نرمی کا برتاؤ کیا جاے اور چیک پوسٹس کو کم کر دیا جائے۔

تیسرا مطالبہ، مائنز کو ہٹا دیا جائے، جس سے بچے بوڑھے اور جوان دن بدن متاثر ہورہے ہیں۔

جہاں تک ان مطالبات کا تعلق تھا بالکل درست اس میں کوئی شک نہیں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔ چیک پوسٹس کی کمی اور فوجی جوانوں کا رویہ بالکل درست ہونا چاہیے۔ مائنز کو بالکل ہٹانے چاہیے اس سے لوگ مفلوج ہورہے ہیں۔

اور ہاں راؤ انوار جس سزا کا حقدار ہے اس کو وہ سزا ملنی چاہیے لیکن بدقسمتی سے اب تک ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

پی ٹی ایم یہاں تک بالکل درست سمت جارہی تھی۔ اور بہت بڑی تعداد میں پشتون بھی ان کے ساتھ تھے۔ لیکن جب سے پی ٹی ایم نے یہ نعرہ لگایا ”یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے“ تب سے اب تک پوشتون دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایسے نعروں سے نہ صرف ہمیں نقصان پہنچے گا بلکہ ہماری اس مہم کا بھی آہستہ آہستہ تیا پانچہ ہوجاے گا۔ دوسرا دھڑا افغان کا ہامی ”لر او بر یو“ یعنی لر سے مراد افغانستان اور بر سے مراد پختونستان یہ دونوں ایک ہیں اور ایک ہوکر رہنگے یہ نعرے بلند کرنے لگے۔

انہی نعروں کی وجہ سے نہ صرف ان کو نقصان پہنچا بلکہ لوگ اس بات پر واضح ہوگئے ہیں کہ ان کے پشت پر افغان سرغنہ ہیں۔

کل ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس دیکھی تو مجھے وہ دن یاد آیا جب ہمیں پچھلے رمضان میں ڈی جی صاحب نے آفطار ڈنر پر مدعو کیا تھا۔ تقریباً وفد میں چالیس سے زائد طلباء و طالبات موجود تھے مختلف تعلیمی اداروں سے جن کا تعلق قبائلی علاقہ جات سے تھا۔

وہاں پر آرمی چیف سے بہت ہی کھلے انداز میں پی ٹی ایم کے حوالے سے بات ہوئی تھی۔ اور چیف آف آرمی جنرل قمر باجوہ صاحب نے منظور کو اپنا بیٹا کہا تھا۔ ساتھ میں جن مطالبات کا ذکر ہم نے کیا انہوں نے بھی نہ صرف ان مطالبات کو جائز قرار دیا بلکہ حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے بیٹے کا نام لیا اور کہا کہ ملک کے خلاف میرا بیٹا بھی اگر کچھ کرے گا تو میں ان کو بھی نہیں چھوڑ سکتا۔

اور اس وقت بھی ان کا کہنا تھا کہ ہم نے منظور کو دعوت بھی دی تھی، اور ان سے لاپتہ افراد کی لسٹ بھی مانگی تھی۔ اُسی کانفرنس میں انہوں پچھلے سال کہا تھا کہ ہمارے پاس اطلاعات اور شواہد بھی ہے کہ ان کو فنڈز افغانستان سے آتے ہیں۔

کل ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور منظور پشتین کا وائس آف امریکہ کو انٹروئیو اور ساتھ ہی بلاول بھٹو کا مختصر پریس کانفرنس یہ سب کچھ ملک کے حق میں نہیں۔ منظور اور پی ٹی ایم کو بجائے ملکی مفاد کے خلاف نعرے لگانے کے بنیادی حقوق اور جائز مطالبات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور دوسری طرف ریاست کی ذمہ داری ہے ان کے مطالبات کا مداوا کیا جائے۔

یہ کھوکھلے نعرے ایک ایسے آگ کو بھڑکائیں گے جس کو بجھانا کسی کی بس کی بات نہیں ہوگی۔ نقصان دونوں طرف سے ہم نے ہی اٹھانا ہے لہذا حکومت کو جلد از جلد مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے اور اب حل کے طرف بڑھنا چاہیے۔

اگر ایسا نہ ہوا تو آنے والا وقت انتہائی سنگین ہوسکتا ہے۔ ملک میں قومیت کی جنگ پہلی سے جاری ہے اور اس میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ کبھی کبھی ترس آتا ہے اس وطن پر، اس وطن کو تو امن کا گہوارہ بننا تھا، یہ وطن تو امن کا داعی بننا تھا، کیا اس دھرتی کو حاصل کرنے کے لیے جو قربانی دی گئی تھی وہ کافی نہیں تھی۔ ہم ان ستر برسوں میں جنگ ہی تو کرتے آرہے ہیں۔ آو اب امن کا پیغام عام کریں محبت کو اپنا تلوار بنا لیں اور اس وطن کو اب گلستان بنالیں۔

خدا کرے میرے ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •