حقوق سے فساد تک پی ٹی ایم کا سفر

نقیب اللہ محسود کی شہادت کے بعد منظور پشتین منظر عام پر آیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے انہوں نے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر اسلام آباد تک ان کے مطالبات بالکل جائز تھے۔ اُس وقت ان کا پہلا مطالبہ راؤ انوار کی جلد از جلد گرفتاری اور اس پر مقدمہ کا اندراج۔ آہستہ آہستہ جب منظور کے ساتھ عوام جڑنے لگے، ان کے مطالبات میں اضافہ ہوتا گیا۔

Read more

یہ بچے بھی بڑے ہوں گے

کیا لکھوں اس تصویر پر، اپنے احساسات اور جذبات کو جملوں کی پائل کیسے پہناوں۔ منظر کو کیسے بیان کرو، الفاظ کے بہتے ہوئے سمندر میں ڈوب کر بھی بے بس ہوں۔ کاش یہ تصویر اگر کسی مصور کی تخلیق کردہ ہوتی کاش۔ لیکن نہیں حقیقت اور سفاک حقیقت، یہ تصویر ملک اور قوم پر…

Read more

ہر عروج کو زوال ہے

یہ جملہ میں نے بہت پہلے سنا تھا، لیکن کبھی اس جملے پر یقین نہیں آیا کہ عروج کو زوال کیسے ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک سال سے شریف فیملی کے خلاف جب صورتحال دیکھ رہا ہوں تو دماغ میں یہی جملہ گردش کررہا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہوتا ہے یقیناً۔ تاریخ کے پہرائے…

Read more

مولانا فضل الرحمن کے پیروکار اور مولانا طارق جمیل

ایک سال قبل یعنی 2017 کی بات ہے میرے ساتھ چند دوست تشریف فرما تھے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کا جلسہ جاری تھا اور ہم ان کے تقریر کو بڑے غور سے سن رہے تھے۔ ان دوستوں میں ایک کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے اور دوسرے کا جمیعت اور اس وقت تحریک انصاف…

Read more

کاش یہ کوئی خواب نہ ہو

پاکستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر ایک طرف خوشی ہے، وہاں یہ خدشہ بھی ذہن پر سوار ہے کہ کاش یہ کوئی خواب نہ ہو۔ سول اداروں میں ایک جذبے کی لہر نظر آرہی ہے جو کہ خوش آئند ہیں۔ احتساب کے عمل میں حیرت انگیز طور بتدریج تیزی آرہی ہے۔ چار سال…

Read more