18 ویں ترمیم اور اقلیتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر پرویز مشرف 2008 میں مستعفی ہوئے تو آصف علی زرداری پاکستان کے صد ر منتخب ہوئے۔ صدر کے پاس وزیر اعظم کی نسبت زیادہ اختیارات تھے۔ سب سے بڑا اختیار تو منتخب وزیرعظم اوراسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا تھا۔ اْس وقت یہ شور تھا کہ صدارتی محل میں حکومت کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں۔ صدر کے اس اختیارکو کم کرنے کے لئے یہ حل نکالا گیا کہ 8 اپریل 2010 میں قومی اسمبلی میں 18 ویں ترمیم منظورکی گئی۔

جس سے صدر کے اختیارات کم ہو کر ایوان صدر یعنی وزیر اعظم کو منتقل ہوئے اور وفاق کی نسبت صوبوں کو زیادہ اختیارات مل گئے۔ 18 ویں ترمیم کے تحت ہی صوبہ سرحد کا نام خیبر پشتونخواہ رکھا گیا۔ اس ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت آرٹیکل 70، 142، 143، 144، 149، 158، 160، 161، 167، 172، 232، 233 اور 234 کو جزوی یا مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس میں بجلی کی پیداوار کا معاملہ مکمل طور پر صوبائی اختیار میں دیا گیا ہے۔

قومی فنائنس کمیشن، قدرتی گیس، صوبائی قرضہ جات، ہنگامی صورت حال کا نفاذ اور دیگر قانون سازی جیسے معاملات کو صوبائی اختیار میں دے دیا گیا ہے۔ اس میں سب سے اہم معاملہ ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کے متعلق ہے۔ اب ہنگامی صورت حال کا نفاذ صدر اور گورنر سے لے کر صوبائی اسمبلی کو دے دیا گیا ہے۔ ایک اور بہت بڑی تبدیلی یہ کی گئی کہ آرٹیکل 142 ب اور ج کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو کریمینل قوانین، طریقہ کار اور ثبوت اور شہادت جیسے قوانین کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

آصف علی زرداری کے بعد مسلم لیگ ن کے ممنون حسین منتخب ہوئے تووہ ایک برائے نام صدر تھے۔ جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو صدر ممنون حسین کی حالت دیکھ کر مغلوں کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفرکی حالت زار یاد آگئی۔ مدت ختم ہونے کے آخری دنوں میں صدر ممنون کو نواز شریف سے نہ جیل میں ملنے دیا گیا نہ ہی ہسپتال میں۔ اب پی ٹی آئی حکومت کے لئے سندھ کی صوبائی حکومت ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے جہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کی وجہ ہی سے وہ سندھ حکومت میں نہ تو گورنر راج لگا سکتی ہے، نہ ہی ان کے زائد فنڈ ز روک سکتی ہے اور نہ ہی اْس میں من مانی کر سکتی ہے۔ اس لئے وہ اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ ساتھ ہی وزیراعظم اور صدر پاکستان کے اختیارات کا توازن قائم کرنا چاہتی ہے۔ مگر اس وقت سب سے بڑ ی رکاوٹ اپوزیشن ہے جو ایک مضبوط اپوزیشن ہے۔ پی ٹی آئی کو تو اپنی حکومت بنانے کیے لئے 4 ارکان ایم کیوایم اور آزاد امیدواروں سے لینے پڑ گئے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو آئین سازی میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر اقلیتوں کے حوالے سے بھی لیا جائے تو پہلے وفاقی اور صوبائی سطح پر مذہبی امور کی خود مختار وزارت تھی مگر اب یہ ختم ہو کر انسانی حقوق اور فیتھ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے صوبائی قانون تو صوبہ سندھ میں تقریباً ہے مگر وفاق اوردوسرے صوبوں میں ابھی زیر بحث ہے۔ گو کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت بے شمار مسائل سے دو چار ہے۔ مگر اقلیتوں کے حوالے کئی اقدام قابل تعریف بھی ہیں۔ توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں پکڑے جانے والوں کوعدالتیں بری بھی کررہی ہیں۔ جبری تبدیلی مذہب و نکاح میں کسی حد تک تعاون بھی کیا جا رہا ہے۔ اقلیتوں کے نکاح رجسٹرکرنے کا قانون خوش آئند ہے مگر مسیحیوں کے لئے طلاق کا ترمیمی قانون ابھی تک زیر بحث ہے۔ حکومت کے علاوہ اقلیتوں کو کچھ اقدام خود بھی کرنا ہوں گے۔ بہت سے نئے بننے والے چرچ سے منسلک لوگ اپنے بچوں کا اندراج نہیں کروا پاتے اس لئے ان کے برتھ سرٹیفکیٹ ملنے مشکل ہوتے ہیں۔

اگر وہ سرٹیفکیٹ حاصل کر بھی لیتے ہیں تو گورنمنٹ کے کھاتے میں رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ عدالت میں قبول نہیں کیا جاتا۔ بہت سے لوگ لاعلمی کی وجہ سے نادرا میں بچوں کی پیدائش کا اندارج نہیں کرواتے۔ جو بہت ضروری ہے اور جس سے مسائل پید ا ہو رہے ہیں۔ مذہبی سطح پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی پہلے سے کئی گنا زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔ سائنسی ترقی نے بچوں اور نوجوانوں کے دلوں میں جدید سہولیات حاصل کرنے کی خواہشات کو بڑھا دیا ہے جس کے لئے وہ جائز و نا جائز طریقے اپنا رہے ہیں۔

جس سے بچنا اور بچانے کی تدابیرکرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس میں تدریسی اداروں، گھریلو ماحول، مذہبی رہنماؤں، سماج سدھار کی تنظیموں اور حکومت کی ذمہ داریاں پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کی کوششیں بھی قابل تعریف ہیں جو جبری تبدیلی مذہب و نکاح کی روک تھام کے لئے آئینی بل کی تیاری کے لئے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کے صدر ڈاکٹر عارف علوی متحرک نظر آتے ہیں۔

یہ پہلے صدر ہیں جو اقلیتوں کے مذہبی تہوار کے علاوہ دوسری تقریبات میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ جس کی مثال گذشتہ ہفتے لاہور میں قومی بین المذاہب امن کانفرنس میں ان کی شرکت ہے۔ جس میں خطیب بادشاہی مسجد عبدالخبیر آزاد سمیت پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی کی رکن شنیلا روت، مسیحی مذہبی، سکھ و ہندو کمیونٹی، انسانی حقوق پر کام کرنے والے لوگ اور سول سوسائٹی کے افراد شامل تھے۔ اس تقریب میں صدر عارف علوی نے کہاکہ ہر مذہب امن و آشتی کا پیغام دیتا ہے تاہم حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ، علما اور مذہبی قائدین کو بھی امن بھائی چارے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کی وجہ سے نفرت، غیبت اورمخالفت بہت بڑھ چکی ہے۔ اس وقت جب کہ دنیا بھر میں مذہبی نفرتیں عروج پر ہیں۔ سری لنکا جہاں مذہبی انتہا پسندی نے سینکٹروں بیگناہ مسیحیوں کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا۔ یہ اس وقت کی ایک بد ترین مثال ہے۔ ہم سب کو بلارنگ و نسل و مذہب ان نفرتوں کو دور کرنا ہے اورجو انسانیت کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ سوشل میڈیا کو اس میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ خدا کی عدالت اور اْس کے غضب سے کوئی نہ بچ سکے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •