اوبر اور کریم کے بدتمیز کپتان اور لنڈے کا مال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھیا آپ نے گاڑی یہاں کیوں روک دی؟ ابھی تو ہماری منزل نہیں آئی۔ بھیا نے انتہائی تڑپ کے اور بد تمیزی سے جواب دیا کہ میرے موبائل میں یہی لو کیشن ہے۔ میں اس سے ایک قدم آگے نہیں جاؤں گا۔ میں نے اپنے اندر کی بدتمیز میڈم کو سلائے رکھنے کا عزم کرتے ہوئے انتہائی عزت سے جواب دیا کہ بھیا یہ دیکھیے میرا موبائل۔ میں نے یہ لکھا ہوا تھا اور میری منزل تو ابھی نہیں آئی اس کے مطابق۔ مگر بھیا کو شاید عزت راس نہیں آ رہی تھی اور انھوں نے اسی ڈھٹائی کو اپنائے رکھنے کا عہد کر رکھا تھا۔

پھر انھوں نے انتہائی جوش سے فاسٹ اینڈ فیوریس کے ون ڈیزل بنتے ہوئے گاڑی موڑ دی اور قدرے اونچا بولنا شروع کر دیا کہ غلط بولتے ہیں آپ لوگ۔ آپ لوگ کیسے پڑھے لکھے ہیں موبائل کا استعمال نہیں آتا، میں تو یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔ آپ لوگ پتہ کچھ اور لکھتے ہیں پھر گلیوں میں گھماتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ موبائل سامنے کر رہی ہوں نا، آنکھیں کھول کے دیکھ لو کہ میری دی ہوئی لوکیشن ابھی نہیں آئی۔ پھر میں نے کہا کہ روکو یہیں پہ گاڑی۔

بس۔ ٹیکسی ڈرائیور ہو، اسی کی طرح برتاؤ کرو۔ کمپنی کے مالک نہ بنو اور بننا ہو تو کسی وائٹ کالر جاب کی تلاش کرو۔ میں نے پیسے دیے اور اللہ حافظ۔ قارئین اوبر اور کریم کے یہی حالات آ چکے ہیں ا ب۔ ان ڈرائیوروں کو کیپٹن کا ٹائٹل کیا دے دیا یہ تو خود کو کپتان ہی سمجھنے لگے ہیں، جن کی زبان کندھے پر ہی پڑی رہتی ہے کہ جن کو لگتا ہے کہ ان کو تو دوسروں کو ذلیل کرنے کا سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔ نہ میری گاڑی ورکشاپ پہ ہوتی اور نہ ہی مجھے یہ ذلت اٹھانی پڑتی۔ مگر کتنی ہی لڑکیوں کو میں جانتی ہوں جو روزانہ اس ہتک عزت سے گزرتی ہیں۔ افسوس ہوتا ہے۔ پھر اگر لیڈیز بائیک چلاتی ہیں تو سب کی غیرتیں جاگ جاتی ہیں۔

آج ایک اور دیرینہ مسئلہ جس کا شکار بھی سب سے زیادہ خواتین ہی ہو رہی ہیں اس پہ لکھنے جا رہی ہوں۔ میرے وطن میں ہر نعمت کچھ عرصے بعد زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ قطعی طور پہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ ارے نہیں میں نے کہاں عمران خان کا نام لیا۔ اس بار میرا اشارہ آن لائن شاپنگ کی طرف ہے۔ ساری دنیا میں لوگ اب بازار جانے سے کترانے لگے ہیں کہ گھر بیٹھے شاپنگ کی سہولیات اتنی زیادہ ہیں۔ ہمارے یہاں بھی یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

مگر یہ سلسلہ اسی مغربی سادہ لوحی سے چلتا رہے کہ جیسا ہم نے اپنایا تھا تو کیا قباحت ہے مگر پھر ہم کس طرح دنیا کو یہ بتا سکیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔ ہمیں موقع کیونکر مل سکے گا۔ بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی مغرب کی نقالی میں ان سے بھی آگے نکلنے کی کو شش کرتے ہیں۔

جس طرح میرے ملک میں کریم اور اوبر نے لٹیا ڈبو ڈالی ہے اور بدتمیز، جاہل اور بے ایمان ڈرائیورز نے اس سسٹم کا ستیاناس کر ڈالا ہے بالکل اسی طرح آن لائن شاپنگ کا حال بھی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر آپ شاہ رخ خان آرڈر کرتے ہیں تو ساحر لودھی آ جاتا ہے۔ فرق تو اچھی طرح سے سمجھ آ گیا ہو گا۔ آپ ٹی شرٹ اپنے سائز کی منگوائیں گے اور آ جائے گی آپ کے پانچ سالہ بچے کی۔ ایک خوبصورت سا کوٹ آرڈر کریں تو ایک ایسا کوٹ آ جائے گا کہ آپ فری میں بھی نہ لیں۔ اس کے بعد فون پہ فون، ای میلز، جو کرنا ہے کر لیں جناب۔ کوئی فائدہ نہیں۔ مجھے بتائیں کہ آج تک بے نظیر فنڈ سے آپ کے پیسے نکلنا بند ہوئے، آپ کا اچانک سے دس لاکھ کا انعام نکلنا بند ہوا۔ ؟ جب آج تک یہ کنٹرول نہیں کیا جا سکا تو یہ بے لگام پڑھے لکھے جانور کیسے قابو آ سکیں گے۔

سائبر کرائم کے نام کا شوشا تو چھوڑ دیا ہے حکومت اور کمپنیز نے مگر آپ غلطی سے بھی کبھی شکایت کر کے دیکھ لیں۔ آپ کو اتنے چکر لگوائے جائیں گے کہ آپ پھر کبھی دوبارہ شکایت کرنے کی ہمت نہ کر سکیں گے اور چپ چاپ نمبرز بلاک کرنے پہ ہی اکتفا کریں گے۔ درندے ہر سمت دندناتے اور مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ جو زبان کھولے وہی چور ہے۔

جب کبھی اس طرح کی زیادتیوں پر نظر پڑ تی ہے تو میری سوچیں مختلف اطراف میں بکھر کے رہ جاتی ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ بہت ساری باتیں ایک ہی نکتے میں سمیٹ کے لکھ ڈالوں۔ مگر نا تو میں منٹو ہوں اور نا ہی جون ایلیا۔ جو مجھ سے بن پاتا ہے کرتی ہوں۔ سوچا رمضان کی آمد آمد ہے تو جہاں جہاں سیل لگی ہوئی ہیں ان سے استفادہ حاصل کر سکوں۔ ایک نئے برانڈ پہ نظر پڑی، نام پھلکاری تھا۔ تو میں نے دو ہزار روپے کا کرتا شلوار آرڈر کر دیا۔

سوچا جمعتہ الوداع میں کام آ جائے گا۔ آرڈر کرنے پہ کنفر میشن کال آئی۔ میں عام طور پہ اپنے آفس کا پتہ دیا کرتی ہوں۔ چار دن بعد میں آفس سے نکال چکی تھی جب کال آئی تو میں نے گارڈ سے کہا کہ پیسے دے کر وصول کر لیں۔ اگلے دن جو لفافہ کھولا تو اس میں سے کوئی دس سالہ بچی کے سائز کا چیتھڑا نما لباس برآمد ہوا جو کسی طور چار پانچ سو روپے مالیت سے زیادہ کا نہ تھا۔ پھر جناب دیا گیا فون نمبر مسلسل بند، فیس بک سے وہ پیج ہی غائب جیسے کہ مجھے آرڈر لینے کے بعد ہی بلاک کر دیا گیا ہو۔

ایسا ظلم صرف ہمارے ملک میں ہی ہو سکتا ہے۔ میں اگر صرف اپنے اطراف کے لوگوں ہی کی مثال دوں تو یہ صفحہ بھر جائے۔ میرے بھائی نے ٹی شرٹ آرڈر کیں اور وہ انتہائی چھوٹے ناپ کی نکلیں۔ میری سہیلی نے اپنے میاں کے سوئیٹر آرڈر کیے اور ایک لنڈے کا خستہ حال لجھر سا سوئٹر نکلا۔ اس زمرے میں کوئی کمپنی کا نمائندہ فون سن بھی لے تو کہتے ہیں کہ مزید چھ سو روپے لگا کر دوبارہ کوریئر کیا جائے اور اس کے بعد وہ سوچیں گے، دیکھیں گے۔

ایسے میں آن لائن لنڈا سروس بھی بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے تو خود ہی اپنے مال کو ٹیگ کر رکھا ہے کہ سب سے اچھا، اچھا، گھٹیا اور کہیں تو خود کو دس نمبروں میں سے نمبر دیے ہوتے ہیں کہ ان کی ایمانداری کی بھی مثال نہ ملے۔ دس میں سے 9، 8، 7۔ لنڈے کے مال کو صاف ستھرا کر کے نئے داموں میں بلا دھڑک مہنگے داموں بیچ رہے ہیں۔ مگر غلطی سے 7 نمبر حاصل کرنے والا جوتا منگوا نہ لیجیے گا ورنہ اس کو پہن کے جوتے چٹخانے والے کے زخم تک نظر آجائیں گے۔ کچھ لوگ لنڈے کو اب معززانہ گفتگو کرتے ہوئے کنٹینر کا مال کہتے ہیں۔

یہ آرٹیکل لکھتے ہوئے میرا قلم ساتھ چھوڑ گیا۔ جب میں نے اپنے پرس نما زمبیل میں سے دوسرا قلم نکالا تو ساتھ ہی ریسٹورنٹ کی رسید گری اور میری نظر اس بل پہ لکھے 350 روپے ٹیکس پہ پڑی جس پہ خون کھول ہی گیا۔ آگے کچھ لکھنے کی سکت جواب دے گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •