رفیع مصطفیٰ کے ناول۔ اے تحیرِ عشق۔ کے رومانوی کرداروں کی بزدل شرافت


’تو ڈاکٹر صاحب کیا آپ چاہتے ہیں کہ انسان تمام روایات سے بغاوت کر دے؟ ‘ میرے دوست نے مجھے چیلنج کیا۔

’ حضورِ والا! میں کسی ایسی روایت کو پسند نہیں کرتا جو کسی عاقل و بالغ انسان کے فیصلوں کا احترام نہ کرے اور اس کی رومانوی آزادی کی راہ میں دیوار کھڑی کر دے۔ میرا ایک شعر ہے

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں

نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا

اس ناول کے بہت سے نسوانی کردار بھی نفسیاتی طور پر کمزور ہیں۔ وہ مردوں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں۔ وہ خود اپنی زندگی اور اپنی محبت کے فیصلے نہیں کرپاتے۔ روایت اور شرافت ان کے پاؤں کی بھی زنجیریں ہیں۔

’لیکن ڈاکٹر صاحب! آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ رفیع مصطفیٰ کا ناول اس عہد اور اس کلچر کی نمائندگی کرتا ہے جہاں خاندان والے نوجوانوں کی شادیاں کرتے ہیں۔ جہاں ارینجڈ میرجز نارمل ہیں۔ ‘ میرے دوست رفیع مصطفیٰ کے دفاع پر مصر تھے۔

’ قبلہ و کعبہ! میں جب رفیع مصطفیٰ کا ناول پڑھ رہا تھا تو مجھے امریکی دانشور جوزف کیمبل کا‘ جو اساطیری تارخ کے ماہر تھے ’ایک انٹرویو یاد آ رہا تھا جس میں انٹرویو کرنے والاپوچھتا ہے کہ قدیم دور سے جدید دور تک آتے آتے انسان کے رومانوی رشتوں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ جوزف کیمبل نے کہا ہم نے TRIBIDO سے LIBIDO کا سفر طے کیا ہے۔ انٹرویو کرنے والے نے وضاحت چاہی تو جوزف کیمبل نے کہا کہ قدیم دور میں نوجوانوں کی محبت اور شادی کے فیصلے ان کا ٹرائب ان کا قبیلہ کرتا تھا اس لیے ہم اسے ٹریبڈو کہتے ہیں اب نوجوان اپنی محبت اور شادی کے فیصلے خود کرتے ہیں جسے ہم لیبیڈو کہتے ہیں۔ ‘ اے تحیرِ عشق ’کے کردار ہمیں قدیم دور کی یاد دلاتے ہیں۔

حضورِ والا! آپ یہ نہ سمھیں کہ محبت کی شادیاں صرف مغرب میں ہی ہوتی ہیں۔ مشرق میں بھی نجانے کتنے غیر روایتی شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں نے اپنی زندگی اور محبت کے فیصلے خود کیے اور وہ بھی بلال کے والدین کے دور میں۔ میں آپ کو اپنے ددھیال کی‘ جو غیرروایتی زندگی گزارتے تھے ’ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔ میری ایک پھوپھو تھیں طاہرہ پھوپھو وہ جب جوان ہوئیں تو میرے والد عبد الباسط کے بچپن کے دوست انکل نذیر کی محبت میں گرفتار ہو گئیں۔

جب انہوں نے نذیر سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو بعض رشتہ داروں نے کہا ’طاہرہ! تم بی اے پاس ہو اور نذیر دو جماعتیں پاس ہے۔ شادی نہ کرو‘ طاہرہ پوپھو کو انکل نذیر پسند تھے انہوں نے محبت کی شادی کر لی اور ایک بیٹا شیڈی بھی پیدا ہو گیا۔ چند سال بعد طاہرہ پوپھو کو احساس ہوا کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے سب کو بتایا کہ وہ نذیر سے طلاق لینا چاہتی ہیں۔ وہی رشتہ دار جو پہلے شادی کے خلاف تھے اب طلاق کے خلاف ہو گئے۔ کہنے لگے شادی کی ہے، بچہ پیدا کیا ہے، اب نبھاؤ۔ طاہرہ پھوپھو نے کسی کی نہ مانی اور نذیر کو طلاق دے دی۔

کچھ عرصہ بعد طاہرہ پوپھو نے ایک امیر شخص سے شادی کر لی۔ بڑی کار ایک شوفر ایک محل نما گھر ’نوکر چاکر۔ دو سال بعد اندازہ ہوا کہ وہ بھی ایک غلطی ہے۔ کہنے لگیں میں مالدار تو ہو گئی ہوں لیکن سونے کے پنجرے میں قید ہوں۔ میرا شوہر صاحبِ زر ہے لیکن صاحب، ذوق نہیں ایک بورنگ انسان اور شوہر ہے۔ نذیر غریب تھا لیکن آزاد خیال تھا دلچسپ تھا INTELLECTUALLY STIMULATING تھا۔ طاہرہ پھوپھو نے دوسرے شوہر کو طلاق دے کر انکل نذیر سے دوبارہ شادی کر لی اور پھر بقیہ عمر ان ہی کے ساتھ رہیں۔

میری نگاہ میں محبت کرنے کے لیے اور ٹوٹ کر عشق کرنے کے لیے ایک جراتِ رندانہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بلال ’مومنہ اور روبینہ کے کرداروں میں مفقود ہے اسی لیے وہ ذہین ہونے کے باوجود محبت میں ناکام رہتے ہیں۔

بلال جب زندگی کی صبح میں مومنہ اور روبینہ کو کھو دیتا ہے تو اپنی زندگی کی شام چاندنی کے ساتھ گزارتا ہے۔ یہ چاندنی کون ہے۔ اس کے بارے میں بلال کی زبان میں رفیع مصطفیٰ ہمیں بتاتے ہیں ’امی جان کے انتقال کو بھی سالہاسال گزر گئے۔ میں لطیف آباد میں اسی گھر میں رہتا ہوں جو ابامیاں نے بنوایا تھا۔ ایک بار کہیں سے ایک بلی گھر میں آ گئی۔ میری نظر پڑی تو تو دروازے میں کھڑی میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔ میں نے اٹھ کر تھوڑا سا دودھ ایک پرچ میں ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔

تب سے وہ بلی میرے گھر کی ہو رہی۔ میں نے اس کا نام چاندنی رکھ دیا ہے۔ جب میں گھرمیں ہوتا ہوں تو چاندنی سے ہی باتیں کرتا رہتا ہوں۔ اسے دن بھر کی روداد سناتا ہوں۔ دن میں کیا کیا کیا کس کس سے ملاقات ہوئی۔ دوپہر کو کیا کھایا۔ ایک بار میں بخار کی حالت میں بستر پر پڑا چھت کو گھورتا رہا اور اس نے سارا دن میرے بستر پر بیٹھ کر گزار دیا۔ اگر گھر میں چاندنی نہ ہوتی تو وقت بڑی مشکل سے کٹتا ’

’اے تحیرِ عشق‘ کا ہیرو بلال نیک اور شریف ہی نہیں بزدل اور بدنصیب بھی ہے۔ بلال کی محبت کی ناکامی کی کہانی پڑھ کر مجھے اقبال کا یہ شعر یاد آیا

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

اقبال کے شعر کے بعد مجھے ساقی فاروقی کے دو شعر یاد آئے

یہ لوگ خواب میں بھی برہنہ نہیں ہوئے

یہ بدنصیب تو کبھی تنہا نہیں ہوئے

یہ کیا کہ اپنی ذات سے بے پردگی نہ ہو

یہ کیا کہ اپنے آپ پر افشا نہیں ہوئے

میں ناول کے ہیرو بلال کی کہانی پڑھ کر بہت افسردہ ہوا کیونکہ وہ ساری عمر خود اپنے آپ پر نفسیاتی طور پر اور اپنی محبوباؤں پر رومانوی طور پر پوری طرح منکشف نہیں ہوا۔

ایک فلاسفر کا قول ہے

MOST OF US DIE BEFORE WE ARE FULLY BORN

نوٹ : یہ مضمون ٹوارنٹو کی ایک ادبی محفل میں اس کتاب کی تقریبِ رونمائی میں 28 اپریل 2019 کو پڑھا گیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail