رفیع مصطفیٰ کے ناول۔ اے تحیرِ عشق۔ کے رومانوی کرداروں کی بزدل شرافت
میرے ایک ادیب دوست کا فون آیا۔ پوچھنے لگے ’کیا آپ رفیع مصطفیٰ کو جانتے ہیں۔
’جی ہاں۔ جانتا ہوں۔ کئی دفعہ مل بھی چکا ہوں‘
’ آپ کی ان سے کس قسم کی دوستی ہے؟ ‘
’ایسی ہی دوستی جیسی ایک نیک و پارسا انسان کی ایک عاصی و پاپی سے ہو سکتی ہے۔ وہ پارسا ہیں میں پاپی
IT IS A FRIENDSHIP OF A SAINT AND A SINNER
’آپ کا ان کے ناول‘ اے تحیرِ عشق ’کے بارے میں کیا خیال ہے؟
’اس میں تحیر زیادہ ہے عشق کم۔ اور وہ عشق بھی سادہ و معصوم سا ہے‘
’ آخر اس کی کیا وجوہات ہیں؟ ‘
’ وجوہات تو بہت سی ہیں۔ سماجی بھی ثقافتی بھی اور نفسیاتی بھی۔ نفسیاتی وجہ یہ ہے کہ ناول کے بیشتر کردار گناہ و ثواب اور نیکی بدی کے تضادات‘ تصورات اور پابندیوں سے باہر نہیں نکلے۔ انہوں نے روایت اور شرافت کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ وہ رومانس کو معیوب اور جنس کو گناہ سمجھتے ہیں۔ ان کی محبت جب ایک حد سے آگے بڑھنے لگتی ہے تو وہ اپنے جذبات کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ لگامیں کھینچ لیتے ہیں اور بریکیں لگا لیتے ہیں کیونکہ وہ عشق اور جنس کو برائی ’بدی اور گناہ سمجھتے ہیں‘ ۔
’ڈاکٹر سہیل! آپ تو ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ آپ کا محبت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ‘
’میں انسانی رشتوں کو نفسیات کی نگاہ سے دیکھتا ہوں مذہب کی عینک سے نہیں۔ روایت جس محبت کے جذبے کو گناہ سمجھتی ہے کیونکہ اس محبت کو کسی مولوی نے فاتحہ پڑھ کر نکاح کا مقدس لبادہ نہیں پہنایا‘ وہ محبت ’وہ عشق اور وہ جذبہ انسان کو آزاد کرتا ہے اور اس کی خود اعتمادی بڑھاتا ہے۔ میرا ایک قطعہ ہے
؎ اسی نے چہرے کو تنویر میرے بخشی ہے
اسی نے چاند مری روح میں اتارا ہے
میں اعتماد کا پیکر بنا تو جان گیا
مرے گناہ نے کتنا مجھے سنوارا ہے
ہم سب جانتے ہیں کہ اگر آدم و حوا گناہ نہ کرتے تو آج ہم سب جنت میں فرشتوں کے ساتھ ایک بورنگ زندگی گزار رہے ہوتے۔
میری نگاہ میں محبت کرنے کے لیے روایت سے بغاوت کرنی پڑتی ہے لیکن اس ناول کے کردار روایت کو عزیز رکھتے ہیں اور بغاوت سے احتراز کرتے ہیں۔ اس ناول کے کرداروں کی روایتی شادیاں ہوتی ہیں۔ ماں باپ ان کی زندگیوں کے فیصلے کرتے ہیں۔ ناول کے ہیرو بلال کے ماں باپ کی شادی کا فیصلہ بلال کی نانی اور دادی نے پیدا ہوتے ہی کر دیا تھا کیونکہ وہ دونوں بہنیں تھیں۔ رفیع مصطفیٰ رقم طراز ہیں ’کہتے ہیں کہ جب امی جان پیدا ہوئیں تو دادی اماں اپنے سسرال گئی ہوئی تھیں۔
جب خبر پہنچی کہ چھوٹی بہن کی زچگی ہو گئی ہے اور بیٹی پیدا ہوئی ہے تو فوراٌ بیل گاڑی جڑوا کر پہنچیں۔ نانی اماں آنکھیں بند کیے سستا رہی تھیں اور برابر میں امی جان لپٹی لپٹائی سو رہی تھیں۔ دادی اماں نے آگے بڑھ کر انہیں گود میں اٹھا لیا۔ سرخ و سفید رنگت ’سر پر ہلکے سے سنہری بال‘ ننھی سی ناک ’ہائے اللہ بالکل جاپانی گڑیا ہے‘ دادی اماں نے کہا اور امی جان کو چمٹا لیا۔ پلٹ کر دائی کے ٹھیکرے میں دو روپے ڈالے اور بولیں ’یہ بچی میری ہے سن رہی ہو تم‘ نانی اماں نے آنکھیں کھولیں اور بند کر لیں۔
’میں نے کہا کہ یہ بچی میری ہے‘
’نانی اماں نے آنکھیں بند کیے ہی سر ہلا دیا اور اس طرح امی جان اور ابا میاں کی منگنی ہو گئی۔ دادا ابا اور نانا ابا کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟ عورتوں کی باتیں عورتیں ہی جانیں‘
بلال کے والدین اتنے فرمانبردار تھے کہ جوان ہو کر بھی اپنی والدہ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔ ان کے فیصلے کے آگے زانوِ ادب تہہ کر کے SURRENDER کر دیا۔
ناول کا ہیرو اور رفیع مصطفیٰ کا ہمزاد بلال ’جو HALF BIOGRAPHICAl اور HALF FICTIONAL کردار دکھائی دیتا ہے‘ ایک روایتی انسان ہے۔ وہ بہت ذہین ہے لیکن اس کی INTELLECTUAL MATURITY اور ROMANTIC MATURITY میں بہت بعد ہے بہت فاصلہ ہے بہت تضاد ہے۔ وہ اپنی زندگی میں دو جوان عورتوں مومنہ اور روبینہ (نام کافرہ ہوتا تو بہتر تھا) کے قریب آتا ہے۔ انہیں پسند کرتا ہے۔ انہیں دل ہی دل میں چاہتا ہے لیکن وقت آنے پر اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتا کیونکہ وہ اس بات سے خوفزدہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو
جب روبینہ فرمائش کرتی ہے ’کیفے حیات کے مرغِ مسلم کی کافی تعریف سنی ہے آج ٹرائی کریں گے‘ تو بلال جواب دیتا ہے ’اگر کسی نے ہمیں ساتھ رسٹورانٹ میں جاتے ہوئے دیکھ لیا تو؟ ‘ صفحہ 206
پہلی محبوبہ مومنہ انتظار کر کر کے تھک جاتی ہے اور برقعہ پہن کر رخصت ہو جاتی ہے۔ جاتے وقت بلال کی والدہ کو ایک کتاب اور ایک پیغام دے جاتی ہے۔ وہ پیغام جو حسیں یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ رفیع مصطفیٰ بلال کے حوالے سے لکھتے ہیں ’میں نے کتاب اٹھا کر دیکھی۔ اس کے درمیان ایک لفافہ تھا۔ میری طبیعت پر عجب پژمردگی چھا گئی۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے لفافہ چاک کیا۔ کاغذ کی تہیں کھول کر دیکھا تو پہلی نظر میں سارا صفحہ سادہ نظر آیا۔ غور سے دیکھا تو صفحے کے بیچوں بیچ باریک سی تحریر میں ایک چھوٹا سا جملہ لکھا ہوا تھا‘ خوشگوار یادوں کے لیے بے حد شکریہ۔ مومنہ ’
دوسری محبوبہ روبینہ بھی انتظار کر کر کے ہمت ہار دیتی ہے اور جب بلال کا دوست عرفان اسے پروپوز کرتا ہے تو وہ ’ہاں‘ کر دیتی ہے۔ بلال کو جب اس ’ہاں‘ کا پتہ چلتا ہے تو وہ روبینہ کو دل کا حال بتاتا ہے۔ روبینہ کہتی ہے کہ وہ انتظار کرکر کے مایوس ہو گئی تھی۔ اگر بلال کہے تو وہ عرفان کو انکار کر سکتی ہے۔ اس دوراہے پر بھی بلال بزدل بن جاتا ہے ’داخلی تضادات کی وجہ سے جذباتی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
بلال نفسیاتی طور پر اتنا کمزور ہے کہ وہ نیکی ’شرافت اور روایت کو ڈھال بناتا ہے اور اپنے رومانوی سچ کو قبول نہیں کر سکتا۔ نفسیات کی زبان میں ہم اسے RATIONALIZATION AND INTELLECTUALIZATION کہتے ہیں جو خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ‘
بلال کی کہانی پڑھتے ہوئے مجھے سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’چغد‘ یاد آیا جس کا ہیرو اتنا نیک شریف اور بزدل ہے کہ جب ہیروئن اسے اپنی قربت کی دعوت دیتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اس کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور جب ایک دن اس کا رقیب چند گھنٹوں میں وہ منزل طے کر لیتا ہے جو وہ چند ہفتوں میں طے نہیں کر پاتا تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ چغدِ اعظم ہے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


