بلدیاتی قانون اور پنجاب کی گونگی قیادت
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بلدیات کا نیا نظام متعارف کروا دیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی نے کثرت رائے سے لوکل گورنمنٹ بل کو منظور کر لیا ہے جس کے مطابق اب پنجاب کے نو ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کو میٹرو پولیٹن کا درجہ حاصل ہوگا جہاں مئیر کا انتخاب براہ راست کیا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں ویلج کونسل اور پنچایت سسٹم بھی لایا جائے گا جبکہ یونین کونسل کو سرے سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس نئے نظام پر اپوزیشن اور ناقدین شدید نالاں ہیں اور اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں ہر کوئی اپنی سیاسی وابستگی اور عقلی شعور کے مطابق اس پر ایک رائے قائم کر رہا ہے۔
ایوب خان کی بنیادی جمہوریت سے لے کر گزشتہ روز پاس ہونے والے قانون تک ، قیام پاکستان کے بعد مختلف ادوار میں کم و بیش پانچ بار بلدیات کا نظام تبدیل کیا جا چکا ہے، لیکن عوامی مسائل ہیں کہ روز بروز بڑھتے ہی جاتے ہیں، جنرل پرویز مشرف کے دور میں لوکل باڈیز کا نیا نظام متعارف کروایا گیا 2001 میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے یہ نظام 2015 تک قائم رہا لیکن پھر سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت نے نیا نظام متعارف کروایا جس کے تحت اکتوبر 2015 میں انتخابات ہوئے۔ یہ انتخاب پانچ سال کے لیے کروائے گئے تھے جن کی مدت عام شہری کی نظر میں اکتوبر میں مکمل ہونی ہے جبکہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے مطابق یہ مدت 2021 میں مکمل ہونا ہے کیونکہ ان نمائندوں سے حلف 2017 میں لیا گیا تھا، بہرحال یہ ایک قانونی پیچیدگی کا معاملہ ہے جسے عدالت ہی طے کرسکتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے جو نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب کے کل ترقیاتی بجٹ کا 33 فیصد بلدیاتی اداروں کو ملے گا جس سے وہ ترقیاتی کام کروائیں گے اس سے پہلے پنجاب حکومت اپنی من مرضی سے رقم دیا کرتی تھی۔
منگل کے روز عین اس وقت جب یہ قانون اسمبلی میں زیر بحث تھا تو تب لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے اس قانون کو روکنے کا مقدمہ بھی زیر سماعت تھا، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نئے قانون کے مسودے سمیت 2 مئی کو طلب کر لیا ہے، اپوزیشن کو امید ہے کہ عدالت اس قانون کو ختم کر دے گی۔
اگرچہ مسلم لیگ ن کی قیادت اس قانون کے خلاف بات کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس قانون کو روکنے کے لیے انہوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے کوئی موثر احتجاج سامنے نہیں آیا، جب اس بل کو سٹینڈنگ کمیٹی سے پاس کیا گیا تو رولز کے مطابق اپوزیشن کو دو روز کے اندر اندر اس میں ترامیم اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروانا تھیں لیکن نجانے کیوں یہ ترامیم تین روز بعد جمع کروائی گئیں جس کے بعد رولز آف پروسیجر کے آرٹیکل 105 کی ذیلی شق 2 کے تحت سپیکر کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ چاہے تو اپوزیشن کی ترامیم کو ایوان میں پیش ہونے کی اجازت دے یا نہ دے، جب ایوان میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن کے ملک احمد خان نے اس بل کے خلاف جمع کروائی جانے والی ترامیم کو زیر بحث لانے کے لیے انتہائی مؤدبانہ انداز میں ٹھوس دلائل دیئے جس پر سپیکر نے صرف دو ترامیم کو زیر بحث لانے کی اجازت دی جبکہ باقی 9 ترامیم ایوان میں زیر بحث ہی نہ آسکیں جب یہ دو ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد ہوگئیں تو اپوزیشن نے بل کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں اور بائیکاٹ کرکے ایوان سے باہر چلی گئی۔
حیران کن امر یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان ( وزیراعلی پنجاب) اور قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز موجود تھے۔ وزیراعلی جو کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے منتخب حکمران ہیں اور جو ایک ایسا نظام لا رہے ہیں جس سے ایک نئی سیاسی قیادت جنم لے گی، ایک ایسے وقت میں کہ جب انتہائی اہم قانون سازی کی جارہی تھی وہ اسمبلی میں اپنے چیمبر میں بیٹھے رہے اور ایوان میں قدم رنجہ فرمانے کی زحمت گوارا نہ کی تاہم بعد ازاں میڈیا سے انتہائی نپی تُلی گفتگو کی۔ جب ان سے ایوان میں نہ آنے کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اکثریت موجود ہے اس لیے میرے وہاں جانے کی اتنی ضرورت نہیں تھی۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز قانون سازی کے عمل کے دوران ایوان میں موجود تو رہے لیکن انہوں نے ایوان میں اس بل پر ایک لفظ بھی نہیں کہا اور خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہے۔ تاہم میڈیا سے گفتگو میں اس قانون کو ہدفِ تنقید بنایا اور مہنگائی و بیروزگاری پر عامیانہ گفتگو کرکے اپنا فرض ادا کردیا۔ پنجاب کے دونوں قائدین کی اس اہم ترین قانون پر، عدم دلچسپی، سیاسی ناقدین کے لیے انتہائی حیران کن ہے، مسلم لیگ ن کے بارے میں تو تاثر یہ ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے ساتھ این آر او چاہتی ہے اس لیے خاموش ہے لیکن وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی خاموشی کا راز سمجھ میں نہیں آتا، سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید وزیراعلی بھی اپنی ہی جماعت کے متحارب دھڑوں سے این آر او کے طلبگار ہیں اور اسی لیے لب کشائی سے پرہیز کرتے ہیں، تاریخ دان جب پنجاب اسمبلی کے ریکارڈ کو کھنگالے گا تو اسے پنجاب کی قیادت گونگی ہی محسوس ہو گی۔


