لیبر ڈے اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیبرڈے 1886 شکاگوکے شہیدوں کی یاد میں ہرسال پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا میں مزدوروں کی چھٹی ہوتی ہے اور ریاستیں مزدورں کے لئے معاوضے اورکام کے وقت کا تعین کرتی ہیں۔ یوں تو سرمایہ دارانہ نظام ہر قسم کے محنت کشوں کا استحصال کرتا ہے لیکن جدید دنیا میں سرمایہ دارانہ ریاستوں نے ایسے قانون بنائے ہیں جس میں مزدور کم سے کم بھوک افلاس سے نہیں مرتا۔ کام کے لئے وقت اور اجرت کا تعین کیا ہوا ہے۔ بے روزگاری کی صورت میں سوشل سیکیورٹی دیتے ہیں۔ بڑھاپے پر پنشن دیتے ہیں۔ بچے اور بوڑھے کام سے مستثنا ہوتے ہیں۔ اگر وہ ممالک مزدورں کا دن منائے اور مزدوروں کو چھٹی دے تو سمجھ آتی ہے۔

لیکن پاکستان جیسا ملک جس میں ابھی تک قبائلی اور جاگیرداری کے اثرات اتنے مضبوط ہیں کہ حکمرانی پر یہی جاگیردار اور قبائلی سردار قابض ہیں جن کے ہوتے ہوئے مزدور کو غلام سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں اور تو روزگار ملتا نہیں کیونکہ جس کے پاس سرمایہ ہے وہ ذہنی اور رویوں کے اعتبار سے اب بھی فرسودہ جاگیردار اور قبائلی سردار ہیں اور کسی طرح لوٹ کھسوٹ سے مال کمایا ہوتا ہے وہ مزدور اور اس کے حق کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔ ملٹی نیشنل بدامنی اور انتہاپسندی کی وجہ سے یہاں انڈسٹری لگانے سے ڈرتے ہیں۔

پاکستان میں مزدوروں کی ایک قسم سرکاری ملازمین کی ہیں جن کی تنخواہ اس قدر ہے کہ مہینے کے آخری دس دنوں میں بغیر قرض لئے گھر کا گزارہ مشکل ہے۔ اور اس وجہ سے ان کی اکثریت کرپشن پر مجبور ہے۔ سرکاری افسر شاہی تنخواہوں اور مراعات سے شاہانہ زندگی گزار تی ہے۔ مزدورں کے حقوق کی تنظیموں پر بھی ٹاوٹ اور چاپلوس قابض ہیں جو کبھی مزدور کے حقوق اور مراعات کے لئے آواز نہیں اٹھاتے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی نوکریاں بھی محنت کے عوض معاوضہ کی بجائے باس کی چاپلوسی اورغلامی پر معاوضہ ملتا ہے اگر صرف محنت کی بنیاد پر معاوضہ کے لئے کام کروگے تو کہیں بھی نوکری، کام نہیں ملے گا۔ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی مزدوروں کی تنظیمیں موجود ہیں لیکن وہ مزدور کی بجائے مالک کا تحفظ کرتے ہیں۔ کمرشل روزگار کرنے والے مزدور، دوکاندار پر بھی یہی مافیا مسلط ہے جو ریاستی اداروں اور مزدوروں کے درمیان ٹاوٹ کا کردار زیادہ اور مزدوروں کے روزگار کا تحفظ کم کرتے ہیں۔

کئی ایسے شعبے ہیں جن میں یونینز نہیں مثلا گھریلو مزدوروں، دکانوں پر کام کرنے والے مزدوروں وغیرہ جن کی حالت یہ ہے کہ گھریلو ملازمین کو تین سے چار ہزار ماہوار پر کام کرنا پڑتا ہے اور دکانوں پر کام کرنے والے پانچ سے دس ہزار پر کام کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں بھی تعلیم یافتہ اساتذہ سات سے پندرہ ہزار ماہوار پر کام کرتے ہیں۔ روزگار کی کوئی گارنٹی نہیں، پنشن اور اولڈ ایج کی حالت بھی خراب ہے۔

زمینوں پر کام کرنے والے کسان، مزدور بھی رزق اور بنیادی ضروریات کے لئے مجبور ہیں۔ غرض پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک طرف تعلیم کے بعد روزگار کی ضمانت نہیں ہے تو دوسری طرف روزگار ملنے کے بعد مناسب معاوضہ ملنے کے امکانات بھی نہیں ہیں۔ ٹیکس کا نظام بھی ایسا ہے جو سرمایہ دارکی بجائے محنت کش دیتے ہیں۔ سرکاری ملازمین، محنت کش، مزدور اور عام عوام ٹیکس دیتے ہیں۔ جبکہ سرمایہ دار نہیں دیتے ہیں۔ سیکیورٹی ریاست کی وجہ سے سب سے زیادہ بجٹ دفاع اور سیکیورٹی اداروں پر خرچ ہوتا ہے۔

پاکستان کے بجٹ پر نظر کریں ٹوٹل ریوینو چارہزار پانچ سو ارب کی بجٹ ہوتی ہے جس میں چھیالیس پرسنٹ قرضو ں اور سود کی واپسی پر جبکہ بیالیس پرسنٹ سیکیورٹی پر خرچ ہوتی ہے۔ ترقیاتی، تعلیمی اور سول اداروں کے لئے بارہ پرسنٹ بچ جاتی ہے اس میں ملک چلانا ممکن نہیں اسی لئے اسٹبلشمنٹ کی جو فیورٹ سیاسی حکومت بھی ہوتی ہے ان کے ساتھ بھی ہر وقت دست و گریبان ہوتے ہیں۔

یوم مئی، یوم مزدور پر ان تمام بحث کا جو لب لباب ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے تو دوسری طرف مزدوروں اور عام عوام کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ ملک مکمل طور پر انارکی میں ہے، آئین و قانون کی حکمرانی خواب بن چکی ہے۔ سرمایہ دار اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور باہر سے بھی سرمایہ دار یا صنعت نہیں آرہی ہے تو ایسے حال میں اگر حکمرانوں نے اپنا رویہ نہیں بدلا اور ہمسایہ ممالک افغانستان، ایران، بنگلہ دیش، انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر نہ کیے اور پراکیسیز کے ذریعے مداخلت بند نہ کی تو مئی کے ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ سے بچنا اور ملک چلانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

ملک میں آئین و قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی وقت کی ضروت ہے۔ سیاسی، سماجی، مزدوریونینز، طلبا یونینز پر پابندیاں ختم کرکے ملک کو حقیقی فیڈریشن بنانا، نہ صرف ملک کی ترقی کے لئے بلکہ حکمرانوں کی بقا کے لئے بھی ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •