!آج یکم مئی ہے، میرا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج میرا عالمی دن تھا، آج تم بہت بن ٹھن کہ مجھ سے تعزیت کرنے ایک تقریب میں آئے تھے، شاید تم نے میری عیادت بھی کی۔ مگر تم مجھے شاید احساسِ کمتری کا بھی شکار بنانا چاہتے تھے، تم مجھے شاید پھٹے کپڑوں میں ملبوس دیکھ کر مسکرانا بھی چاہتے تھے اور تم مُسکرا بھی رہے تھے۔ آخر کو تم میری بے بسی سے آگاہ جو ہو، تم یہ بات جانتے ہو کہ جو پھولوں کا گلدستہ، اکڑے ہوئے لباس میں تم نے وصول کیا وہ میں نے بہت ارمانوں سے بنایا تھا۔ اور اسی ایک گلدستے کے باعث میں اپنے لعل کے لیے مرہم خریدنے کے قابل ہوا۔ میرے بچے کو سڑک کنارے کسی نے گاڑی تلے گھسیٹا مگر وہ بہت ڈھیٹ تھا، بچ نکلا۔ شاید مزدور کا خون تھا اس لیے۔

میرا ماننا ہے کہ تم خدا کے بہت قریب ہو تبھی تو تم، میرے حق میں یکم مئی کی تقریب سجانے آئے تھے۔ یہ اسی تقریب کا صدقہ جو مجھے مزدوری ملی وگرنہ میرے گھر کے شیطان ایک مرتبہ پھر بھوکے سو جاتے۔ شاید تم ایک عظیم وسیلہ ہو، اگر تم یہ تقریبات نہ رکھتے تواس خوبصورت ہال کو مزید خوبصورت بنانے کا کام کسی بیروزگار کو کیسے عطا ہوتا۔ اگر میرے حق میں کوئی تقریب ہی نہ ہوتی توکیسے کھانے، پکانے کا کام مجھے ملتا یہ تمہارا مجھ پر احسان ہے جو میں شاید بروزِ قیامت بھی اپنی گردن سے نہ اتار سکوں، جس کا مجھے شدت سے انتظار ہے۔

مجھے ایک بات اور بھی معلوم ہوئی ہے کے پچھلے دنوں خدا کے گھر میں ٹھنڈی ہوا والی مشینیں بھی تمہی نے لگوائی ہیں۔ اگر تم ایسا نہ کرتے تو شاید ایسے کئی گھروں سے آج میرے حق میں بھی بیانات آتے۔ مگر تم نے انہیں بھی خرید کر، وہاں اپنا ایک بُت نصب کر دیا ہے۔ اب وہ بُت ہفتہ وار اجتماع میں تمہاری عزت، شہرت اور دولت کے حق میں مزید برکت کی دُعا کریں گے۔ جس کی خاطر بھی، مجھے ہی مزید محنت کرنا ہو گی۔

اب تمہارا خدا سے رابطہ بھی تو اور زیادہ مضبوط ہے، جَبھی تو اُسکے موجودہ زمینی نمائندے تمہارے جیسے لباس اور گاڑی کو اختیار کرتے ہیں۔ وہ مجھ سے ملنے بھی اکثر آتے ہیں مگر تب سادگی، قناعت اور صبر کے موضوعات پہ ہی بات ہو پاتی ہے۔ میں نے سُنا ہے کہ وہ جب تم سے ملتے ہیں تو ”ھذا من فضل ربی“ ہی پڑھ کر سناتے ہیں۔ شاید وہ تمہارے خدائی اختیارات کو پسند کرتے ہیں۔ مگر میرے بچے، وہ تو تم دونوں ہی سے سخت نفرت کرتے ہیں۔

میں اکثر اُنہیں تمہاری بھجوائی ہوئی باتیں بتاتا ہوں کہ یہ خدائی فیصلہ ہے، مگر وہ اُس پہ یقین کرنے سے قاصر ہیں۔ میں نے اُنہیں یہ بھی بتایا ہے کہ پہلے اپنے اعمال درست کرو پھر خدا سے کچھ مانگو، مگر وہ گستاخ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔ کہتے ہیں آسمان کا خُدا تو بے نیاز ہے، وہ تمہاری طرح خود غرض تھوڑی ہے جو پہلے کچھ وصول کرے اور پھر رزق دے گا۔

اُن کا ماننا ہے کہ خدا کے ہاں صرف ظالم اور مظلوم کی تفریق ہے، جبکہ میں نے انہیں سمجھایا ہے کہ نہیں، تفریق تو صرف کافر و مسلم کی ہے۔

دیکھو میں انہیں ابھی سمجھا رہا ہوں۔ اور ابھی تو انہیں مسائل کی جڑ بھی معلوم نہیں۔ یہ تمہارے چند مظالم پہ بات ضرور کرتے ہیں، مگر تم نے میرے مشال کو پہلے ہی ٹھکانے لگا دیا۔ اور انہیں معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ طبقاتی نظام والا دو قومی نظریہ ہی اصل خرابی ہے۔ وہیں سے بھوک، افلاس اور جرائم پھوٹتے ہیں، وہیں سے وہ تمام خرابیاں پھوٹتی ہیں جنہیں بنیاد بنا کر تمہارے دانشور میرے بچوں کو قصور وار ٹھراتے ہیں۔ دیکھو! یہ ابھی نا سمجھ ہیں انہیں تمہاری طاقت کا اندازہ نہیں۔ میں تمہارے پاؤں پکڑتا ہوں کہ ان کو کچلنے کی کوشش مت کرو یہ بھی جلد ہی اپنی گستاخانہ حرکتوں سے باز آ کر تمہارے حق میں دُعا کریں گے۔ تمہارے خدا بننے کی، ۔ ہاں زمینی خدا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •