سری لنکا کا نائن الیون اور ہمارا اجتماعی رویہ؟
21 اپریل کا اتوار یوم ایسٹر سری لنکن مسیحیوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا جب یہ لوگ سیدنا مسیحؑ کے دوبارہ جی اٹھنے کی خوشی یعنی اپنی عید کی مذہبی عبادات کے لیے گرجا گھروں میں منہمک تھے یا ہوٹلز میں خوشیاں منا رہے تھے عین اس وقت خود کش حملہ آوروں نے انہیں آگ اور خون میں نہلا دیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اذیت ناک موت مرنے والوں کی تعداد 359 ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے بھی اوپر ہے۔ یقینا یہ سانحہ سری لنکا کا نائین الیون ہے جس سے پوری دنیا کی مہذب اقوام اور درد مند انسان دلگرفتہ ہیں جس وقت یہ تفصیلات آرہی تھیں درویش اپنے احباب کے ہمراہ لبرل ہیومن فورم کی تقریب میں معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی سے محو گفتگو تھا۔
سب لوگ اپنے اپنے تخمینے پیش کر رہے تھے ایسے بھی تھے جو انڈیا کی طرف کھرا تلاش کرنے کے لیے کوشاں تھے دور کی کوڑیاں لانے والے اس ے قلابے امریکا سے ملانا چاہ رہے تھے عین اس وقت دوستوں سے عرض کی کہ اگر آپ لوگ مائنڈ نہ کریں تو ناچیز کو یہ ساری کارستائی ہمارے اپنے ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی دکھائی دیتی ہے آواز آئی کہ آپ کو تو ہر وقت اپنے آپ سے ہی شکایت رہتی ہے عرض کی کہ یہ گمان تین وجوہ سے ہے۔ اول ہمارے جن متشدد لوگوں کے منہ کو خون لگ چکا ہے وہ اس کا کوئی نہ کوئی جواز نکالتے رہتے ہیں لہٰذا فوری جواز نیوزی لینڈ کی مساجد کے سانحہ کا نکالا جائے گا جس کا شاخسانہ اگرچہ کوئی مذہبی گروہ یا سوچ نہیں ہے نسل پرستانہ اپروچ ہے پھر بھی ہماری صفوں میں موجود ایسے غیر ذمہ دار عناصر کی کمی نہیں ہے جو بدلے کی آگ کے نام پر ظلم و ستم کی کسی بھی حد کو پار کرنے تک جا سکتے ہیں باوجود اس امر کے کہ کیوی مسیحیی و غیر مسیحیی عوام اور ان کی لبرل سیکولر وزیراعظم نے سنگ دلانہ حملے کا شکار بننے والوں کی دلجوئی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے مگر ہماری شدت پسندی پر تلی ہوئی تنظیمیں جوابی وار کی دھمکیاں دینا شروع بھی ہو چکی تھیں۔
ہمارے خدشے کی دوسری وجہ ایسٹر پر مینیج کیے گئے خود کش حملے ہیں وہ بھی فائیو سٹار ہوٹلز کے علاوہ چرچز میں عبادت کرتے ہوئے مسیحیوں پر۔ ہماری شدت پسند سائیکی تو کرسمس پر ناک بھوں چڑھاتی ہے حالانکہ اس حوالے سے ہمارے عقائد مسیحیوں سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہیں جبکہ ”ایسٹر“ کے یوم عید کو تو اس سے بھی زیادہ حقارت و نفرت سے دیکھا یا پیش کیا جا تا ہے صلیب پر چڑھائے جانے، مرنے اور پھر دوبارہ جی اٹھنے کوہمارے کئی لوگ الہامی آیات سے ٹکراوکے ضمن میں دیکھتے ہیں اس پس منظر میں اس نوع کی شدید واردات کی توقع کسی اور ظالم گروہ یا قوم سے کم ہی کی جا سکتی ہے۔
تیسری وجہ حق کے لیے جان دینے کی ہماری تڑپ ہے دنیا کی کوئی قوم اس سلسلے میں ہمارا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے جذبہ ایمانی کے ساتھ جان پر کھیل جانے کا حوصلہ اگر ہمارے سے زیادہ کسی میں ہے تو اس ظالم قوم کی نشاندہی کی جائے۔ حالیہ برسوں میں خود کش حملوں کی جتنی بھی کارروائیاں ہوئی ہیں ان میں 95 فیصد ہماری تنظیموں کی ایمانی سوچ کارفرما رہی ہے۔ ہمارے عامتہ المسلمین یا سیاسی مولوی صاحبان اگرچہ ان کا کریڈٹ لینے سے گھبراتے ہیں لیکن جن تنظیموں کے کارکن اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں وہ اپنی محنت، لگن اور جد وجہد کا کریڈٹ لینے سے بالکل نہیں شرماتی ہیں۔
ان خوفناک خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے بعد معروف جہادی تنظیم داعش یعنی اسلامی ریاست ISISنے اپنی آن لائن نیوز ایجنسی اعماق کے ذریعے ان کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین نے ان خود کش حملہ آوروں کی شناخت اور دیگر تفصیلات شائع کی ہیں۔ یہ راسخ العقیدہ نوجوان تعلیم سے بے بہرے تھے اور نہ ہی غربت کے ہاتھوں مجبور و بے بس تھے۔ کمی تھی تو وہ صرف اندھی جنونیت کی جگہ شعوری آگہی کی۔
داعش کو مقامی سطح پر سری لنکا کی ایک غیر معروف شدت پسند جہادی تنظیم قومی توحید جماعت کا دستِ تعاون بھی حاصل تھا جو ماقبل بدھا کے مجسمے توڑنے کی پہچان رکھتی ہے۔ سری لنکن وزیر دفاع وجے وردن نے اپنی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں جو چیز سامنے آئی ہے اس کے مطابق یہ سب کرائسٹ چرچ کی مساجد میں مسلمانوں پر ہونے والے حملے کا ردِ عمل ہے جس میں توحید جماعت ملوث ہے اور اسے دیگر بیرونی شدت پسند عناصر کی اشیر باد یا تعاون بھی حاصل تھا۔
لنکن وزیر داخلہ نے اپنی ”سیکیورٹی ناکامی“ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے سری لنکن حکومت نے دیگر کئی عہدوں پر فائز ذمہ داران کو بھی سیکیورٹی لیپ کی وجہ سے ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا ہے۔ تانبا فیکٹری کے مالک انشاف احمد ابراہیم اور اس کے بھائی الہام احمد ابراہیم کو ان تباہ کن حملوں کا ماسٹر مائنڈ بیان کیا جا رہا ہے ایک خاتون حملہ آور فاطمہ ابراہیم کا نام بھی سامنے آیا ہے جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ دو دہشت گرد بھائیوں میں سے ایک کی حاملہ بیوی تھی۔ پولیس کارروائی کے دوران اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ہے۔ یونیسف کے اطلاع کے مطابق ان حملوں میں 45 کے قریب بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں امریکا نے ایسے مزید حملوں کے خدشات پر لوگوں کو گرجا گھروں میں نہ جانے کی اپیل کی ہے۔
درویش یہاں اپنے لوگوں کے سامنے ایک سوال رکھنا چاہتا ہے کہ نیوزی لینڈ میں جو پچاس ہلاکتیں ہوئیں ان کے خلاف ہمارے لوگوں میں بجا طور پر شدید غم و غصہ تھا جس کا اظہار نہ صر ف عوامی سطح پر بلکہ میڈیا میں بھی بڑی شدومد کے ساتھ ہوا اور ہونا بھی چاہیے تھا مگر سر ی لنکا میں جو اتنے زیادہ 359 بے گناہ انسان مار ے گئے ہیں ان ہلاکتوں کے خلاف اُس نوع کا غم وغصہ عوامی سطح پر چھوڑ ہمارے میڈیا میں بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہا نہایت عاجزی کے ساتھ کیا اس کی وجہ معلوم کی جا سکتی ہے؟ اگر وہ پچاس عبادت کے لیے جمع تھے تو ان کی بڑی تعداد پچاس سے بھی کہیں زیادہ عبادت گاہوں میں مذہبی عبادت کے لیے جمع تھی اور دیگر بے گناہ جو لوگ ہوٹلز میں بے دردی سے قتل کیے گئے ہیں کیا اُن سب کا دکھ انسانی دکھ نہیں ہے؟
بظاہر انسانیت کی باتیں کرتے ہمارے گلے خشک نہیں ہوتے ایک بے گناہ انسان کی موت پوری انسانیت کی موت کے برابر قرار دیتے ہوئے بھی ہم لوگ نہیں تھکتے لیکن یہ ایک باریک نقطہ ہے کہ جو مظلوم ہمارے ہم مذہب نہ ہوں یا جن کے قاتل ہمارے ہم مذہب ہوں کیا ہمارا زیادہ بڑا فریضہ نہیں بنتا ہے کہ کیوی وزیراعظم کی طرح ان قاتلوں کی گوشمالی اور مذمت کے ساتھ مقتولین کے حق میں ہم لوگ زیادہ زور شور سے آواز اٹھائیں اور پوری دنیا کو یہ پیغام پہچائیں کہ ہم امن و سلامتی اور انسانیت کے علمبردار ہیں۔ ہمارے متشدد جہادی گروہ ہمارے مذہب کے روشن چہرے پر دہشت گردی کے جو سیاہ داغ دھبے لگاتے ہیں ہم آگے بڑھتے ہوئے انسانیت کی آواز بلند کر کے اپنے طرزِ عمل سے خود ان سیاہ دھبوں کو دھوئیں گے۔
دوسرے درویش اپنی قوم کے فہمیدہ طبقات کے سامنے دست بستہ یہ گزارش کرنا چاہتا ہے کہ وہ مسلمانوں اور دیگر اقوام کے درمیان بڑھتے ہوئے تہذیبی افتراق یا عقیدہ کی خلیج کو پاٹنے کے لیے جاندار رول ادا کریں ہمارے انتہا پسند طبقات اپنے تشخص کو نمایاں تر کرنے کے لیے سوچی سمجھی سکیم کے تحت اس خلیج کو وسیع تر کر رہے ہیں ہمارے سنجیدہ باشعور اور انسان نواز دانشور انسانیت کی ابدی مشترکہ اقدار کو اجاگر کرتے ہوئے ان فاصلوں کو سمیٹنے کے لیے جدوجہد کریں ایک طرف ہمارا دعویٰ ہے کہ تمام انسان خواہ وہ کسی مذہب، نسل یا جنس سے تعلق رکھتے ہوئے خدا کا کنبہ ہیں اور خدا کوسب سے محبوب وہ انسان ہے جو اس کے کنبے سے محبت رکھتا ہے کیا ہمارا موجودہ مذہبی تفاوت کو بڑھانے والا طرزِ عمل ہمارے اس پیغام سے مماثلت رکھتا ہے کہ ہم دنیا میں عظمتِ انسانی کے علمبردار اور امن سلامتی کے سچے داعی ہیں۔


