علی وزیر اور محسن داوڑ محب وطن ہیں : قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف


پارلمینٹ کی راہداریوں میں کمیٹی روم نمبر پانچ میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا ۔ میں جب اجلاس کو کور کرنے پہنچا تو دیکھا کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ بھی موجود تھے ۔

کمیٹی کا اجلاس شروع ہوتا ہے۔ بالترتیب ایجنڈا پر بحث ہوتی ہے۔ ایجنڈا کے آئٹم نمبر چار پر بحث ہوتی ہے اس کے موور محسن داوڑ ہوتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ فاٹا جو پچھلے عرصے سے جنگ کی وجہ سے تباہ حال ہے، جنگ کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر چکے ہیں فاٹا کو کے پی کے میں ضم ہونے کے بعد ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی بارہ نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی سولہ نشستیں دی گئی یہ خصوصی رعایت صرف اب کی بار دی گئی اگے جب بھی انتخابات ہوں گے تو قومی اسمبلی کی نشستیں بارہ کی بجائے چھ ہو جائیں گی اور صوبائی اسمبلی کی قومی اسمبلی کے برابر ہوں گی انہوں نے مطالبہ کیا ہم چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی بارہ اور صوبائی اسمبلی کی چوبیس نشستیں ہونی چاہئے ۔

رانا ثناءاللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جناب چیئرمین صاحب سرکاری طور پر پی ٹی ایم کو را اور این ڈی ایس سے فنڈنگ لینے کا الزام لگایا گیا اور ان کی حب الوطنی پر شک کا اظہار کیا گیا ۔چونکہ یہ الزامات سرکاری طور پر لگائے گئے ہیں کیا آپ کی جماعت اس کو endorse کرتی ہے اس پر پارلیمانی سیکرٹری ملائکہ بخاری بولی کہ یہ بڑا احساس معاملہ ہے اسے یہاں ڈسکس نہیں ہونا چاہئے, کمیٹی میں موجود ممبران اسمبلی بیک زبان بولے اگر یہاں بات نہیں ہو گی تو پھر کہاں ہو گی؟ چئیرمین کمیٹی بولے کہ پارلیمینٹ بالاتر ہے اور ادراے اس کے ماتحت آتے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق کے لبوں نے حرکت کی اور وہ گویا ہوئے کہ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پارلیمنٹ کتنی طاقتور ہے. ہمیں آپس میں متحد ہونا چاہئے اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے ستر سالوں میں جتنی بھی سویلین یا فوجی حکومتیں آئی, شعوری طور پر فاٹا کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے نظر انداز کیا گیا ان لوگوں نے پچھلی دو دہائیوں میں جنگ کا سامنا کیا ہے جنگ کی وجہ سے انفراسٹرکچر تباہ حال ہو گیا فاٹا کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی نہیں ہونی چاہیئے۔

چئیرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کی حب الوطنی پر کسی کو شک نہیں کرنا چاہئے یہ پارلیمنٹ کے معزز ممبر ہیں انھوں نے آئین پاکستان کے تحت حلف اُٹھایا ہوا ہے جب بھی کسی تقریب میں قومی ترانے کی دھنیں بجائی جاتی ہیں یہ اس کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ان کے دل میں پاکستان کی اتنی ہی عزت و محبت ہے جتنی دوسرے پاکستانیوں کے یہ پکے سچے محب وطن ہیں سید نوید قمر نے بات کو آگے بڑھایا اور بولے کہ ہمیں حب الوطنی کا کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔

(رپورٹ: بشارت راجہ )

Facebook Comments HS