اقلیتوں کا طرز انتخاب ایسا ہونا چاہیے


پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے طریقہ انتخاب میں مسائل تو ہیں اور یہ مسلئہ زیر بحث بھی بہت رہتا ہے۔ لیکن طریقہ انتخاب کیسا ہونا چاہیے، اس موضوع پر شاید بات کوئی نہیں کرتا۔ گزشتہ کالم میں موجودہ اور سابقہ انتخابی نظام اور ان میں موجود مسائل پر بات کی تھی اب ذرا بات ہو جائے کہ اقلیتوں کا طرز انتخاب ہونا کس طرح کا چاہیے۔ اس حوالے سے میرے خیال میں ایک تجویز پر ذرا بات کر لیتے ہیں۔

1968 میں امان اللہ نامی ایک شخص نے پاکستان سے روزگار کی تلاش میں برطانیہ ہجرت کی اور بس ڈرائیوری شروع کی۔ 1970 میں امان اللہ کے ہاں پانچویں بچے کی پیدائش ہوئی اس کا نام صادق خان رکھا گیا۔ صادق خان محنتی، پرعزم اور بلند حوصلے کا مالک تھا، محنت اور لگن سے اس نے قانون کی ڈگری حاصل کی اور 1994 میں برطانیہ کی لیبر پارٹی سے منسلک ہوئے۔ 2005 میں پہلی بار برطانوی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے، منسٹر فار کیمونٹی اور بعد میں ٹرانسپورٹ کے وزیر بھی رہے 2016 میں میئر لندن منتخب ہونے سے پہلے تک صادق خان کئی ذمہ دار عہدوں پر اپنی خدمات سر انجام دے چکے تھے۔

اب اگر برطانوی کے الیکٹورل سسٹم کو دیکھا جائے تو نہ تو وہاں کوئی اقلیتوں کے لیے کوئی محضوض نشستیں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی جداگانہ انتخاب کا چکر ہیں۔ سیاسی جماعتیں ان اقلیتی امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہیں۔ جو اپنی کیمونٹی میں اثرورسوخ رکھتا ہے اور دوسرا پارٹیاں اپنے ساتھ وفادار رہنے والے ساتھ کو ٹکٹ دیتی ہیں۔ وہاں انگریز بھی اقلیتی اراکین کو ووٹ ڈالتے ہیں اور ان کو سپورٹ کرتے ہیں۔ نیز ان کا انتخاب میرٹ اور ووٹ کی طاقت سے ہوتا ہے۔ یہ سسٹم ہی جمہوری عمل کا عکاس ہے۔ جس میں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا لندن جیسے شہر کا میئر بن جاتا ہے۔

میرے خیال میں پاکستان میں یہی ہونا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی پارٹیوں میں اقلیتی اراکین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیں، بے شک ان حلقوں میں ہی دیں جہاں بڑی بڑی اقلیتی آبادیاں ہیں پاکستان میں 28 حلقے ایسے ہیں جہاں اقلیتی ووٹ بنک 20 ہزار سے لے کر ڈھائی لاکھ تک ہے۔ اس طرح کا نظام ہونا چاہیے، جہاں ایک مسلم بھائی اپنے حلقے میں کھڑے اقلیتی نمائندے کو ووٹ دے نہ کوئی مذہبی بنیادوں پر تفریق ہو، نہ ہی کسی قسم کا امتیاز، تب ہی یہ دوریاں اور مذہبی بنیادوں پر موجود تفریق ختم ہو گئی اور اکثریت اور اقلیت کی خلیج کم بھی ہو سکے گئی۔

الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 میں ایک غیر معمولی شق ڈالی گئی۔ جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ جنرل نشستوں پر 5 فیصد خواتین کو ٹکٹ دیں گی۔ اس بات کی بہت واہ واہ ہوئی۔ اس ہی طرح کی ایک ترمیم اقلیتوں کے لئے بھی کر لی جائے تو کوئی حرج والی بات نہیں۔

لیکن شاید ہمارے ہاں یہ نفرتیں، دوریاں اور خلیج شاید اس حد بڑھ چکی ہیں کہ ہم کسی غیر مسلم کو کابینہ کا رکن بنتا تک نہیں دیکھ سکتے اس صورت حال میں یہ تجویز بہت سارے دوستوں کو شاید دیوانے کا خواب لگتی ہو۔

Facebook Comments HS