ہاروکی موراکامی ایک دوڑتے ناول نگار
اکیسویں صدی کے ادب کے بڑے ناموں میں ایک جپانی دوڑنے والے کا نام بھی ہے جو فقط لکھتا ہے اور دوڑتا ہے۔ بقول اس دوڑتے ہوئے ناول نگار کے اس نے زندگی میں دو کام ہی مستقل مزاجی سے سرانجام دیے ہیں، لکھنا اور دوڑنا۔ لکھنا اور دوڑنا ان کی زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل ہے وہ تو ان کی آپ بیتی کو ہاتھ میں پکڑنے سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس کا نام ہی انہوں نے ’واٹ وی ٹاک وین وی ٹاک اباؤٹ رننگ‘ ( ہم کیا بات کرتے ہیں جب ہم بات کرتے ہیں دوڑنے کی) رکھا ہے۔
ہاروکی موراکامی کو بس وہ نہیں جانتے جو بیچارے ’ادب‘ نہیں جانتے۔ موراکامی کی آپ بیتی شاید اس لیے بھی اتنی پاپولر نہیں کہ وہ دوڑنے پرلکھی گئی ہے۔ جیسا کہ اس دنیا میں زیادہ تر لوگ سست اور کاہل ہیں اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب فقط پڑھنے سے ہی کوئی 2 چار کلومیٹر اگر بھاگنا نہ بھی بڑے تب بھی پیدل تو چلنا ہی پڑ جائے گا۔
اور کچھ ہمارے جیسے بھی ہوں گے جو کتاب کا نام سن کر اپنی شائستہ زبان سے کچھ یوں بولتے ہوں گے کہ بھائی، اب لوگ بھاگنے پر بھی کتاب پڑھیں گے؟ اب ان کو کوئی یہ بتلائی کہ بھائی جب قدو شریف کے فضائل پر کتاب لکھی جا سکتی ہے اور بعد میں پڑھی بھی جا سکتی ہے تو پھر بھلا دوڑنا تو پھر بھی ایک تندرست اور صحت مند زندگی کا موضوع ہے اس پر کیوں نہیں۔
موراکامی کی آپ بیتی چار پانچ موضوعات کے اردگرد گھومتی ہے۔ جیسا کہ اس کا سب سے اہم موضوع دوڑنا ہی ہے، اس لیے بات بھلے کہیں سے بھی نکلی ہو واپس آکر ’دوڑ‘ پر ہی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ دوسرا سب سے بڑا اور اہمیت کا حامل موضوع موراکامی کے لکھنے کے اسٹائل پر ہے۔ ہاروکی موراکامی دنیا میں جاپانی ادب کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناول نویس ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے ادب میں ان لوگوں کی فہرست میں آتے ہیں جو سب سے زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ یہ غیر معمولی پذیرائی انھیں صرف ناول لکھنے سے نہیں پر روزنا چھ میل بھاگنے کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔ یہ میں نہیں وہ خود اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔
ہاروکی موراکامی کو مجیکل ریئلزم پر جتنی فوقیت حاصل ہے اور جس رفتار سے انہوں نے اپنے کام کو سرانجام دیا ہے بالکل اسی طرح، ان کی رننگ بھی کسی میجک سے کم نھیں۔ موراکامی نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ وہ 1982 ع میں جب وہ تینتیس سال کے تھے تو انھوں نے رننگ کرنا شروع کی جو آج تک جاری ہے۔ اگر بات کو اور سادہ کیا جائے تو موراکامی پچھلے 37 سالوں سے بھاگ رہیں ہیں۔
اک جگا وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار میں نیویارک کے سینٹرل پارک میں حسبِ معمول چھ میل کی دوڑ پر نکلا ہوا تھا کہ اک جگا میں نے آدھ منٹ کے لیے اپنی دوڑنے کی رفتار کو کم کیا۔ آگے سے چالیس پینتالیس سال کی ایک عورت جس نے میری ایک آدھا کتاب پڑھ چکی تھی مجھے سلام کیا اور حیرانگی سے پوچھنے لگی کہ ”آپ لکھتے کیسے ہیں؟ “ میں شاید اس بات کا جواب اسے مسکراہٹ میں دینا چاہتا تھا، جیسے عام طور پر کوئی سیلیبرٹی اپنے فین کے سامنے اتراتا ہوا نکل جاتا ہے مگر اس کے دوسرے سوال نے میری چھ میل کی دوڑ کو روکنے پر مجبور کر دیا۔
اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا ”کیا ادیب بھی جاگنگ کرتے ہیں؟ “ اس سوال کی نوعیت بہت گہری تھی۔ وہ یہ بتانا چاہتی تھی کہ ادیب تو ہمیشہ کمرے کی کسی کونے میں اپنے ٹائپ رائٹر پر انگلیوں کو دبانے کی آواز سے مست لگے رہتے ہیں اور تنہائی سے لطف اندوز ہوکر کسی شاھکار کو جنم دیتے ہیں۔ میں نے اس محترمہ سے عرض کی کے دوسروں کا جوابدہ میں نہیں مگر میں دوڑتا ہوں اور فقط دوڑتا ہوں۔ اس دن مجھے یہ اندازہ ہوگیا کہ عام آدمی کیوں ادیبوں، شاعروں، لکھاریوں اور آرٹسٹوں کہ لیے اس خاص طرح کے مسکنسیپشن کیوں جوڑ رکھتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ فلموں اور ڈراموں میں ادیب اور لکھاریوں کے کردار کو انتہائی سیریس بنا کر پیش کیا گیا ہے، خوا وہ اپنے کام میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی صحت کی فکر نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے کچھ ایسے ادیب ہوں جو شعوری طور پر ایسے کسی ادیبی اسٹینڈرڈ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذہنی وجسمانی صحت کو خاک کرنے پر تلے ہوں۔
موراکامی لکھتے ہیں کہ دنیا میں بہت کم ایسے ناولسٹ ہوں گے جو میراتھان میں حصہ لیتے ہوں۔ مسٹر موراکامی نے اپنی زندگی میں پینتیس سے زیادہ میراتھان میں حصہ لیا ہے۔ بقول ان کے کہ دوڑنا ان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور ان کے خیالوں کی راہ ہموار کرنے میں اس کا بڑا عمل دخل ہے۔ ”میں زیادہ تر لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتا اور اس کا سب سے بہتر طریقہ میرے لیے رننگ ہی ہے۔ کیوں کے رننگ کے دوران آپ سب کچھ دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں لوگوں سے دور بھی نہیں رہتے ان کے بیچ ہوتے ہوئے آپ آگے نکلتے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ خوبصورت بات کیا ہو سکتی ہے کہ اپ، لوگوں کے درمیان میں رہتے ہوئے بھی اپنی مزاج کا لطف پاتے رہیں۔ “
اک جگہ موراکامی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ جس طرح رننگ مجھے جھجتی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی اتنی پرکشش لگے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی کو رننگ کے لیے مشورہ نہیں دیتا۔ موراکامی لکھتے ہیں کہ ایک بار کسی اسپورٹس رسالے نے انہیں ایک جاپانی پروفیشنل رنر سے انٹرویو کرنے کا کہا جو کہ اس وقت رننگ سے ریٹائر ہوچکا تھا۔ ”جب میں نے دیکھا کہ وہ سوالات جو کہ ایک ایتھلیٹ سے پوچھنے چاہیے مکمل ہوچکے ہیں تو ایک سوال میں نے اس سے اپنی لیے پوچھا جس کا جواب سننے کے بعد مجھے یہ شدد سے احساس ہوا کہ میرا سوال کتنا احمقانھ اور بیوقوفانہ تھا۔
میں نے ان سے پوچھا، کیا کبھی آپ کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی یا ایسا کوئی دن آیا جس دن آپ کو لگا ہو کہ آج آپ بجائے رننگ کہ گھر بیٹھ کر سونا چاہتے ہوں، یا ایسا کچھ۔ ایتھلیٹ نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا جیسا کہ اس بھی یہ بات اتنی ہی احمقانہ لگی ہو جتنی مجھے جواب ملنے کے بعد لگ رہی تھی، اس نے ایک دم سے کہا ”ہاں، ہر بار! “ اس دن کے بعد میں نے کبھی کسی سے اس طرح کا سوال نہیں پوچھا۔ ”
دنیا میں شاید ہی ایسی کوئی آپ بیتی ہو جس میں لکھنے والے نے اپنی شخصیت کے اور باقی پہلوؤں کو نظر انداز کر کے اپنی کسی ایک عادت کو خودنوشت کی شکل بخشی ہو۔
ہاروکی موراکامی کے چاہنے والوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اس خودنوشت میں انہوں نے اپنے لکھنے کے بارے جو بحث کی ہے وہ بہت ہی سادہ قسم کی ہے۔ مطلب اگر کسی جگہ اپنے کسی ناول پر بات کی بھی ہے تو وہ بھی کچھ اس انداز سے کہ جیسے وہ بتانا چاہتے ہوں کہ فلاں ناول لکھتے سمے وہ کس میراتھان میں حصہ لے رہے تھے یا لے چکے تھے وغیرہ۔ موراکامی کی آپ بیتی کا نام ’ریمنڈ کاروہ کے افسانوں کی کتاب‘ واٹ وی ٹاک وین وی ٹاک اباؤٹ لوو ’سے لیا گیا ہے جو موراکامی نے خود جاپانی زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔
موراکامی کو 2016 ع میں نوبل لٹریچر پرائیز کے لیے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس پرائیز سے محروم رہیں پر یہ بدقسمتی نوبل کمیٹی کی ہے کہ جس نے امریکی گلوکار بوب دیلن کو اس عظیم انسان پر فوقیت دی۔ پر آج بھی ہروکسٹ ( موراکامی کے فینس) اس انتظار میں ہیں کہ ایک دن نوبل لٹریچر پرائیز موراکامی کہ قدموں کو ضرور چومیگا۔


