اسامہ بن لادن: ایک بدنما داغ


دنیا میں پاکستان کے لیے شرمندگی کے مواقع تو کئی آئے لیکن بین الاقوامی سطح پر ایک خاص واقع پیش آیا جب کھل کر پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی اور پاکستان کو ندامت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آٹھ سال قبل آج کے روز پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ نے خفیہ فوجی آپریشن کر کے ہلاک کر دیا۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے کچھ فاصلے پر موجود بلال ٹاون کے علاقے میں واقعہ قلعہ نما کمپاونڈ میں فوجی آپریشن کیا گیا۔ امریکہ کی جانب سے نامور دہشت گرد تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کو مار کر اس کی لاش کو پانی میں بہا دیا گیا۔ لیکن اسامہ بن لادن کا قتل کئی اہم سوال چھوڑ گیا

آٹھ سال گزرنے کے باوجود ابہام ابھی بھی باقی ہے کہ کیا پاکستان کو اس بارے میں پہلے سے اطلاعات تھیں یا امریکہ نے پاکستان کی ایجنسز کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی؟ کیا پاکستان کی خفیہ ایجنسیز اتنی لاعلم تھیں کہ تین امریکی ہیلی کاپٹرز پاکستان کی حدود میں آکر انتہائی مطلوب شخص اسامہ بن لادن کو منطقی انجام تک پہنچا کر واپس چلے گئے اس سوال کے ساتھ ساتھ کئی اہم سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ اور بچے اس وقت کہاں ہیں؟ بعد میں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

اگر امریکی ہیلی کاپٹر بقول امریکہ کے تکنیکی خرابیوں کے باعث نہ گرتا تو کیا اسامہ بن لادن کی موجودگی کی خبر کسی کو ہو سکتی تھی؟ کیا اس وقت بھی اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کی حسین وادیوں میں پناہ گزین ہوتا؟

امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز کا اپنے سازو سامان کے ساتھ پاکستان میں داخل ہونا پاکستان کی سالمیت پر بڑا سوال تھا۔ یہ واقعہ رات کے اندھیرے میں پیش آیا۔ اس سے کیا یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ پاکستان کی حفاظت کرنے والے رات کے اندھیرے میں چوکنا نہیں رہتے اگر ایسا نہیں ہے تو کیا پاکستان کو اس واقعے کا علم تھا اور جان بوجھ کر ندامت کا سامنا کیا۔ اس واقعے سے دنیا بھر کو دو تاثر ملے کہ پاکستان نے خود اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں پناہ دی ہوئی تھی اور دوسرا یہ کہ پاکستان کی بیرونی حدود پر سیکورٹی برائے نام ہے۔

دنیا کی سوچوں سے اس واقعے کے اثرات ابھی صاف نہیں ہوئے تھے کہ اب منظور پشتن جیسے لوگ پاکستان کی ساکھ کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہیں۔ ریاست مخالف نعرے لگا کر دنیا میں پاکستان کے اداروں اور آئین کا نام ڈبونے کی تیاری کر رہے ہیں جسے بین الاقوامی میڈیا کی خاص توجہ بھی حاصل ہے

آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی ساکھ پر کوئی نمایاں مثبت اثر نہیں پڑا دنیا کے کئی ممالک آج بھی پاکستان کو اسامہ بن لادن کی پناہ گزین جگہ کے طور پر ہی پہچانتے ہیں نہ جانے پاکستان پر اس داغ کے نشانات کب تک دھلیں گے اس کے لیے منظور پشتین جیسے لوگوں کی حوصلہ شکنی بہت ضروری ہے تاکہ دوبارہ کوئی اسامہ بن لادن پیدا نہ ہو۔

Facebook Comments HS