پرواز کی تیاریاں یا کچھ اور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوچ رہا تھا کہ میشا شفیع اور علی ظفر کی لو اسٹوری پر ایک سال بعد پھر کالم لکھا جائے اور ان دونوں گہرے اورپرانے دوستوں کی لڑائی کے اصل محرکات سے پردہ اٹھا دیا جائے، ان حقائق سے جنہیں علی ظفر نے ابھی تک سینے میں چھپا رکھا ہے۔ حقائق تو بڑی حد تک ہمارے علم میں بھی ہیں، جیسا کہ علی ظفر نے اپنے آخری بیان میں کچھ اشارے بھی دیے ہیں لیکن کالم تو شائع ہونا تھا جمعہ کو اور یہ جمعہ کسی پرانی فلم کو چلانے کیلئے ہرگز ہرگز مناسب نہ لگا، اور وہ بھی ان حالات میں کہ آج ایک بہت بڑی فلم کا اگلا پارٹ ریلیز ہونے جا رہا ہو، جس کا پورے پاکستان کو انتظارہے،۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں، آج۔۔۔ D-Day۔۔۔ ہو سکتا ہے۔

 مسٹر نواز شریف کے مرکزی کردار والی فلم،،پانامہ لیکس سے کوٹ لکھپت جیل تک کے مڈ کلائمکس کا۔۔ خود نواز شریف کے اپنے خیال کے مطابق ایسا ہی ہونے جا رہاہے۔ ویسے عام لوگوں اور اعلی پایہ کے بعض تجزیہ نگاروں کی قیاس آرائیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو پہلے مزید پینتالیس دن کی اور پھرممکنہ طور پر پکی چھٹی بھی مل سکتی ہے .

چونکہ وہ دل(دماغ نہیں) بلڈ پریشر،شوگر اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، اورعلاج کیلئے ملکہ کے دیس جانا چاہتے ہیں لہذا انہیں جیل سے مزید چھ ہفتوں کی چھٹی عنایت فرمائی جائے،پابندی کے فیصلے پر بھی نظرثانی کی جائے کیونکہ ان کا علاج گورے ڈاکٹر کے پاس ہی ممکن ہے، نواز شریف کو اصل انتظارتو اپنی اس درخواست پر فیصلے کا ہے جو انہوں نے چھبیس مارچ کو اپنی سات سالہ سزا کالعدم قرار دلوانے کیلئے عدالت عظمی کی خدمت میں پیش کی تھی، اب چونکہ طبی بنیاد پر ملنے والی چھ ہفتوں کی ریلیف کے دوران اس پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور جیل واپسی میں باقی رہ گئے ہیں فقط چار دن، تو انہوں نے مزید چھ ہفتوں کی غیر معمولی رعایت کی فرمائش کر دی ہے۔

پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا کا کردار کئی لحاظ سے قابل ستائش نہیں، جسے جو دل کو بھاتا ہے اسے فارورڈ کر دیتا ہے، سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے سبھی لوگوں نے ایڈیٹر اور رپورٹر کا کردار ہی ادا کرنا ہے تو پھر سب وہی پڑھیں گے ناں، جو سبھی لکھیں گے، چھ سات سال پہلے سوشل میڈیا پر ایک آٹھ دس سالہ انتہائی خوبصورت مگر روتے ہوئے بچے کی تصویر وائرل ہوئی تھی، جس کے نیچے کیپشن لکھا تھا، یہ بچہ دوران حج اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا ہے اور ایک سعودی رفاہی مرکز میں موجود ہے، اسے اس کے والدین سے ملوانے میں مدد کی جائے، یہی تصویر آج بھی بار بار وائرل ہو رہی ہے.

پتہ نہیں وہ بچہ کہیں اب خود کسی بچے کا باپ نہ بن گیا ہو، میرے خیال میں ضرورت سوشل میڈیا کے ماں باپ کو تلاش کرنے کی ہے۔

اب کہانی ایل ڈی اے کے اس افسر کی جس کے بارے میں پچھلے دنوں اخبارات میں شائع ہوا کہ وہ نیب کی تحویل کے دوران دوران تفتیش بیمار ہوا اور بقول نیب وہ اسپتال میں جا کر مر گیا، اس کہانی کے آپ کو سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بے شک نیب والے کرپٹ افراد کو پکڑتے ہونگے، مگر میرے خیال میں غیر سائنسی تحقیقات کا نتیجہ ہی ہے کہ زیر تفتیش افراد یا ملزمان کے جرائم اور ان کو دی گئی عدالتی سزا عموماًعوام کے سامنے نہیں آتی، پلی بارگیننگ کر لی جاتی ہے یا سودے بازی نہ ہونے کے سبب زیر حراست ملزمان کی اموات کی خبریں میڈیا کی زینت بن جاتی ہیں.

نیب میں قانون سازی کی ضرورت ہے اس حوالے سے سابق اور موجودہ چیف جسٹس صاحبان واضح ہدایات بھی جاری کر چکے ہیں، مگر اس ضروری کام کو حکومت کی جانب سے کوئی اولیت نہیں دی جا رہی، جس کے نتیجے میں ، اس ادارے کی محض سیاسی اہمیت باقی رہ گئی ہے یا اس کی من مانیاں۔

٭٭٭٭٭ اس سے مجھے ملوایا تھا اٹھارہ سال پہلے حاجی مقصود بٹ مرحوم کے پی اے شفیق نے، جو بعد میں ایل ڈی اے(لاہور ڈویلپمنٹ اٹھارٹی) میں ملازم ہو گیا تھا، اس کا کہنا تھا کہ خالد اس کا کولیگ ہے اور اسے آپ کی مدد درکار ہے،خالد نے ایک انگلش اخبار کی رپورٹر کی چھوٹی بہن سے شادی کی تھی، دو بیٹیاں پیدا ہوئیں،پھر ان بن ہو گئی، بیوی نے بچیوں کے حصول کے لئے دعوی کر رکھا تھا، خالد کا کہنا تھا کہ میں اس کی سالی صحافی خاتون سے بات کروں کہ بچیاں باپ کے پاس ہی رہنی چاہئیں، میں کسی کے نجی معاملات میں کبھی دخل نہیں دیتا، لیکن خالد سے کہہ دیا کہ بات کروں گا.

خالد نے اس کے بعد شفیق کے بغیر ہی میرے پاس آنا شروع کر دیا، وہ اپنے لباس اور اسٹائل سے کوئی افسر ٹائپ شے لگتا تھا، لیکن میں نے کبھی اس سے ایل ڈی اے میں اس کی پوزیشن نہ پوچھی، پھر کچھ دنوں بعد اس نے اصرارشروع کردیا کہ میں اس کے گھر ڈنر کے لئے چلوں، وہ مجھے اپنی بیٹیوں سے بھی ملوانا چاہتا تھا، بالآخر ایک اتوار کی شام وہ مجھے اپنی گاڑی پر اپنے گھر لے ہی گیا، علامہ اقبال ٹاؤن کے ایک بلاک میں شاندار کوٹھی تھی، پہلے اس نے مجھے اپنے آراستہ ڈرائنگ روم میں بٹھایاپھرمعصوم اور پھولوں جیسی ننھی بیٹیوں کے کمرے میں لے گیا جو ایسا ہی تھا جو کسی امیرترین آدمی کی بیٹیوں کے لئے ہونا چاہئیے.

دونوں معصوم بچیاں اپنی گڑیاؤں اور کھلونوں سے کھیل رہی تھیں،میں سوچ رہا تھا کہ باپ چاہے کتنے ہی لاڈ پیار سے رکھے، بچوں کا ماں کے بغیر رہنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی ایسے عالیشان محل میں رہ رہا ہو، جس کی چھت ہی نہ ہو، گھر میں بچیوں کی دیکھ بھال اور کھانا پکانے کے لئے ایک آیا بھی موجود تھی، خالد نے مجھے بتایا کہ اس کی دونوں بیٹیاں شہر کے سب سے مہنگے اسکول میں پڑھ رہی ہیں، وہ جیسے ان کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کر رہا ہے، یہ ان کی ماں کے بس کی بات نہیں ہے اور اگر اس عورت نے دوسری شادی کر لی تو بچیاں سوتیلے باپ کے مرہون منت ہو کر رہ جائیں گی، اور وہ پتہ نہیں ان سے کیاسلوک کرے؟

کچھ ہفتوں بعد خالد ملنے آیا تو اس کے ہاتھ میں پاسپورٹ تھا، جس پر دنیا جہان کے ویزے لگے ہوئے تھے، وہ بتا رہا تھا کہ سیر و تفریح کے لئے امریکہ اور فرانس جا رہا ہے ،اس کی عدم موجودگی میں اس کی ایک سسٹر بچیوں کی دیکھ بھال کرے گی، پھر اگلے سال بھی وہ کئی ملکوں کی سیاحت پر گیا۔ وہ جب بھی آتا اپنی امارت کا کوئی نہ کوئی جلوہ ضرور دکھاتا، پھر اچانک اس نے میرے پاس آنا جانا چھوڑ دیا، شاید اس لئے کہ میں نے بچیاں ماں کی تحویل سے بچانے کیلئے اس کی کوئی مدد نہیں کی تھی۔

کوئی پندرہ سال پہلے کی بات ہے میرا پہلی بار ایل ڈی اے بلڈنگ میں جانے کا اتفاق ہوا، ایک فلور پر مجھے شفیق مل گیا،ادھر ادھر کی باتوں کے دوران میں نے اس سے پوچھا، تمہارے دوست خالد کا کمرہ کدھر ہے؟ کون خالد؟ کس خالد کا کمرہ؟ اس کی حیرانی دیکھ کر میں نے اسے .۔یاد دلایا کہ وہی خالد جسے تم نے بیوی کو طلاق اور بچیوں کی حوالگی کے معاملے پر مجھ سے ملوایا تھا۔،، اوہ ،اچھا، وہ خالد، اس کا کمرہ کہاں ہونا ہے؟، وہ تو یہاں نائب قاصد ہے.۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •