Author: خاور نعیم ہاشمی
نور جہاں سے انتقام
وہ مجھے نوے کی دہائی میں پہلی بار شاہنور اسٹوڈیوز میں سید شوکت حسین رضوی کے گھر ملا تھا ۔ ڈرائنگ روم میں نیو ائیر نائٹ پارٹی چل رہی تھی ۔ میرے ساتھ ، پینٹر مصطفی اور میجر رشید وڑائچ بھی تھے۔ وہاں پارٹی والے سب لوازمات تو موجود تھے ، لیکن سرور بھٹی کے ساتھ بیٹھا ہوا ایک شخص جس بے دردی سے نوٹ لٹا رہا تھا۔ وہ میرے لئے ناقابل برداشت تھا۔ مجھے احساس ہوا جیسے نوٹوں کی
Read moreخاوند چاہتا تھا کہ نرگس ابھی اور ناچے
آج اس نرگس کے بعض واقعات لکھ رہا ہوں ، جس کے بولڈ ڈانسز نے اسٹیج ڈرامے کو موت کی نیند سلا دیا تھا، اس ’’نیک کام‘‘ میں وہ اکیلی نہیں تھی، اس کی تقلید میں بہت ساریوں نے اس جیسے مکالمے بولنا شروع کر دیے تھے اور اس جیسا لباس اوڑھنا شروع کر دیا تھا ، اس واردات میں اس کی بہن دیدار نے بھی خوب ہاتھ بٹایا،،،،، نرگس کو عالمی شہرت ملی۔ ایک تھانیدار کے بہیمانہ تشدد سے،
Read moreسنتوش کمار نے ظہیرکاشمیری سے کیا کہا؟
بابا ظہیر کاشمیری میرے والد کے دوستوں میں شامل تھے ، اسی رشتہ کی بنیاد پرمیں نے ہمیشہ ان کا حد سے بڑھ کر احترام کیا۔ بابا جی کو جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے روزنامہ ’’مساوات ’’ کا ایڈیٹر بنایا ، میں اسی ادارے میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کررہا تھا ، ایڈیٹر بننے سے پہلے باباجی اخبار کے ایڈیٹوریل ہیڈ تھے اور اداریہ کے ساتھ روزانہ ’’ قطعہ’’ بھی لکھا کرتے تھے۔ وہ بنیادی طور پر
Read moreکاش تمہارا بھی کوئی مرشد ہوتا
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ لوگ مجھے ایک ترقی پسند انقلابی تصور کرتے ہیں، لیکن آج میں کھلی کھلی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ میری ترقی پسندیدیت اور میرا انقلاب حدود و قیود کے اندر ہے، میں معاشرے میں مساوات اور انصاف کے لئے جنگیں لڑتا رہا ہوں، معاشرے کو مادر پدر آزادی دینے کے لئے ہرگز ہر گز نہیں، اگر آپ اپنی معاشرتی اور مذہبی حدوں کو پھلانگیں گے تو انقلاب نہیں صرف انتشار پیدا ہوگا۔ مجھے
Read moreاداکارہ آسیہ جب جوئے میں ہار دی جاتی تھی
9 مارچ 2012 ء کو اگر سہیل ظفر مرحوم کے فرزند خرم کو امریکہ سے ایک خاتون فیملی فرینڈ کی کال نہ آتی تو کبھی کسی کو آسیہ کے مرنے کی خبر نہ ملتی، اس خاتون نے آسیہ کے ساتھ اپنی ایک تازہ تصویر بھی فیس بک کے ذریعے بھجوائی، جو بظاہر کسی شادی تقریب میں اتاری گئی، کبھی لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی آسیہ کے آخری دن کیسے گزرے؟ تصویر سب کچھ بتا رہی ہے، اسے چار دہائیاں
Read moreڈاکٹر لال خان: جدو جہد کبھی قبر میں نہیں اترتی
میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ کالم لکھنے میں کوتا ہی نہیں ہوگی۔ لیکن اتوار کا کالم پھر نہ لکھ سکا۔ میرا یار۔ میرا غمگسار۔ میرا دوست مر گیا تھا۔ لکھنا تو کجا میں سب کچھ ہی بھول گیا تھا۔ غم اتنا شدید تھا کہ ہوش میں آتے آتے بھی چار دن لگے۔ میں تو اس کی جدائی کی خبر سن کر اتنا بد حال ہوا کہ سوائے اپنے کسی اور کے ساتھ تعزیت بھی نہ کر سکا۔ جہاں دکھ ہوں میں وہاں کے در و دیوار سے بھی گریزاں ہوجاتا ہوں۔ لوگ پتہ نہیں ایک دوسرے کا درد کیسے بانٹ لیتے ہیں؟
Read moreمیں اس تقریب میں کیوں نہ گیا؟
بہت خیال بہت خواب سو گئے تھک کر خدا کرے! تری یادیں کہیں نہ سو جائیں اس وقت تخلیق اردو زبان کا واحد ادبی جریدہ ہے جو آٹھ سال پہلے اپنے بانی مدیر کی رحلت کے باوجود پوری آب و تاب اور تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے، اس کا سارا کریڈٹ اظہر جاوید کے ہونہار فرزند سونان کو جاتا ہے، سونان کا ادب و فن کی جانب کوئی رحجان نہ تھا مگر باپ کی وفات کے بعد اس
Read moreکاشانہ سکینڈل کی بے بس کائنات ختم کر دی گئی
یتیم خانوں میں پلنے والی بچیوں کے خلاف جرائم کی گواہ اقراء کائنات کو بالآخر زندگی سے محروم کر دیا گیا۔ کاشانہ اسکینڈل کی اہم ترین کردار کی آواز ہمیشہ کے لئے دبا دی گئی۔ کیا اب یتیم خانوں میں جوان ہونے والی درجنوں نہیں سینکڑوں لڑکیوں کی پراسرار اموات کا نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ یہاں کچھ بھی بعید نہیں۔ کاشانہ کی سابق سپرینٹنڈنٹ افشاں لطیف کی زندگی بھی محفوظ نہیں دکھائی دے رہی۔ افشاں لطیف نے ہی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے آواز بلند کی تھی کہ سیاستدان اور اعلی افسران یتیم خانوں سے جوان اور نو عمر لڑکیوں کو زبردستی ساتھ لے جاتے ہیں۔
Read moreمائیں نی میں کینوں آکھاں
آپ پچھلے دو کالم پڑھنے سے محروم رہے، بعض مخلص دوستوں نے سمجھ لیا شاید میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے، لکھنا ہی تو میری زندگی ہے، پچاس سال سے لکھنے کے سوا اور کچھ کیا ہی نہیں، لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کچھ لکھنا شروع کرتا ہوں، عام عوام کی محرومیاں میرے قلم کو جکڑ لیتی ہیں اور سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا لکھوں اور کیسے لکھوں؟ دکھ درد کی کہانیاں بیان کرنا کوئی
Read moreکرپشن مہنگائی ، زبان خلق نقارہ خدا
میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان کی حکومت دنوں کے اندر اندر فارغ ہونے والی ہے،دوسری جانب مہنگائی سے ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی کرپشن رپورٹ تک کسی چیز کی تردید بھی نہیں کی جا سکتی، سوائے خود وزیر اعظم کے ان کے کسی وزیر، مشیریا پارٹی لیڈر نے بھی مہنگائی اور کرپشن کے الزامات مسترد نہیں کئے، ہاں فردوس عاشق اعوان نے غیر منتخب مشیر اطلاعات ہونے کے حوالے سے ضرور وزیر اعظم کی زبان بولی، ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی
Read moreلیڈی ڈیانا کے بعد شاہی خاندان میں ایک اور بغاوت
آنجہانی لیڈی ڈیانا کا بیٹا شہزادہ ہیری جس طرح اپنی بیوی میگھن مارکل کے ساتھ شاہی محل سے فرار ہوا اس نے پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔ گھر سے فرار اور وہ بھی بیوی کے ساتھ ایسا تو جھونپڑیوں میں بھی شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ملکہ نے پوتے کے اس اقدام کا برا منایا ۔ بہت غصے میں آئیں پورے شاہی خاندان کا اجلاس طلب کر لیا لیکن بالآخر اپنے پوتے کو معاف کر دیا اور
Read moreدنیا کا نقشہ بدلنے جا رہا ہے
دنیا بدلنے جا رہی ہے، دنیا کا نقشہ بدلنے جا رہا ہے اور اس ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا، آج ہمیشہ ماضی کا حصہ بنتا چلا آیا ہے، یہ قانون فطرت ہے، ہماری پچھلی تین نسلیں تاریخ پڑھتی چلی آئی ہیں اب وہ خود تاریخ کا حصہ بن جائیں گی، الحمد للہ پاکستان قائم و دائم رہے گا، سبز ہلالی پرچم لہلہاتا رہے گا لیکن یہ پاکستان نئے دور کا حصہ ہوگا جو معرض وجود میں آ رہا ہے،
Read moreایران کس سے بدلہ لے گا؟
امریکہ نے بغداد میں ایران کی دوسری طاقتور ترین شخصیت جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرکے مشرق وسطی میں اپنی تھانیداری کو تسلیم کرانے کی جو سعی کی ہے وہ تیسری عالمی جنگ کی بنیاد رکھنے کا الارم ہے، مشرق وسطی میں لگی ہوئی آگ کو بھڑکنے سے اب روکنا ممکن نہیں رہا، بے شک اس وقت ایران معاشی زبوں حالی کا شکار ہے لیکن آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان کہ ”بدلہ لیا جائے گا“ محض دھمکی کے
Read moreکچھ باتیں ظہیر کاشمیری کی
آج کا کالم میں پیرزادہ غلام دستگیر کے نام موسوم کرتا ہوِں ، جنہیں آپ بابا ظہیر کاشمیری کے نام سے جانتے ہیں، مجھے نہ صرف ان کی ماتحتی میں صحافت سیکھنے کا موقع ملا بلکہ وہ میرے ساتھ تحریک آزادی صحافت کے دوران سنٹرل جیل میں اسیر بھی رہے۔ کہتے ہیں کہ آدمی کی اصلیت کا پتہ یا تو جیل ملتا ہے یا ریل میں، جیل میں پتہ چلا کہ وہ واقعی عظمت انسان کی جدوجہد کے سچے داعی
Read moreتوسیع کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی
پاکستانی سیاست کی تاریخ دھماکہ خیز واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن جو دھماکے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کر دیے ان کی گونج کبھی ختم نہ ہوگی۔ سوچا تھا اب جمہوریت پٹری پر چڑھ جائے گی۔ 1977ء کے بعد اب تک جمہوریت کا چہرہ داغ دار ہے، اس کی سرجری کی ضرورت تھی، چیف جسٹس اس کے لئے آخری حد تک گئے۔ میرا کیا ہے میں تو دو اور دو چار والا آدمی ہوں اور یہ
Read moreوزیر اعظم کو سب ماموں بنا گئے
وزیر اعظم عمران خان چلتے پھرتے نواز شریف کو ٹی وی اسکرینوں پر دیکھ کر بہت پریشان ہیں اور ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم نے نواز شریف اور ان کے خاندان کی بجائے وزیر اعظم پر اعتبار کیا، مریم اورنگ زیب کی نواز شریف کی صحت کے بارے میں روزانہ بریفنگ ہمیں متاثر نہیں کر رہی تھی ہمیں تو نواز شریف کی بیماری کی سنگینی کا اعتبار اس وقت آیا تھا جب خود وزیر اعظم نے اس کی مسلسل
Read moreڈیل کس نے کی ہے : نواز شریف نے یا عمران خان نے؟
میرا یقین تو اب تک کامل ہے کہ نواز شریف واقعی علیل ہیں اور ان کی بیماری اس خطرناک موڑ تک پہنچی ہوئی ہے جہاں، کچھ، بھی ہو جایا کرتا ہے، لیکن“میرے اس یقین کا کسی ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے، بتایا جا رہا ہے کہ میاں صاحب آج شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو رہے ہیں، میں میاں صاحب کی علالت اور ان کی بیرون ملک روانگی کو علیحدہ علیحدہ منظر میں
Read moreنواز شریف کی روانگی، غلام سرور خان کا بیان اور عمران کی بے بس خاموشی
میرا یقین تو اب تک کامل ہے کہ نواز شریف واقعی علیل ہیں اور ان کی بیماری اس خطرناک موڑ تک پہنچی ہوئی ہے جہاں“ کچھ“بھی ہو جایا کرتا ہے، لیکن“میرے اس یقین کا کسی ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے، بتایا جا رہا ہے کہ میاں صاحب آج شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو رہے ہیں، میں میاں صاحب کی علالت اور ان کی بیرون ملک روانگی کو علیحدہ علیحدہ منظر میں دیکھتا
Read moreاہل صحافت کیا کیا گل کھلاتے رہے
پاکستان میں آج سیاست اور صحافت جس نازک موڑ پر کھڑی ہیں یہ کئی نام نہاد سیاستدانوں اور نادان صحافیوں کا نامہ اعمال ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہو گیا، اس تباہی کے پیچھے ایک طویل’’جدوجہد‘‘ ہے۔ طے شدہ منصوبوں اور حادثاتی طور پر صحافی اور سیاستدان بن جانے والے افراد نے تباہیوں اور بربادیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور یہ کہانی ہے کم از کم نصف صدی کی اور میں سمجھتا ہوں کہ صحافت اور
Read moreمولانا کی جیت اور خان کی ٹیم
مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں بظاہر ’’سبز انقلاب‘‘برپا ہو چکا ہے، اگر ن لیگ ’’ ڈنڈی‘‘نہ مارتی تو اس مارچ کا رنگ مخصوص نہ ہوتا، مولانا کا امن مارچ اسلام آباد پہنچنے سے ہی پہلے کامیاب ہو چکا تھا۔ اب وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے یا ان کے استعفیٰ دینے کی بھی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ مطلوبہ نتائج برآمد ہو چکے ہیں، مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی تو اپنی حکمت عملی کے تحت اس
Read moreروٹی سے محتاج قومی ہیرو
پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ نواز شریف مارچ دوہزار بیس سے پہلے پہلے رہا ہو جائیں گے، لیکن نواز شریف کی اچانک علالت اتنی شدید نظر آ رہی ہے کہ ’’قدرت‘‘ کی طرف سے ماہ مارچ سے پانچ مہینے پہلے یعنی اکتوبر کی رخصتی کا بھی انتظار کئے بغیرسر پر کھڑا دکھائی دینے لگا ہے۔ وزیر اعظم اور حکومتی مشینری کے رویے بدل گئے ہیں۔ عمران خان ن لیگ کے قائد کی ناساز طبیعت کو خود مانیٹر
Read more’’نواز شریف رہا ہو رہے ہیں‘‘
بعض دوسرے ’’خاموش سیاسی مبصرین‘‘ کی طرح میری صحافیانہ چشم بھی میاں نواز شریف کو اکتیس مارچ دو ہزار بیس سے پہلے جیل سے باہر آتے دیکھ رہی ہے،،،( خاموش سیاسی مبصرین سے مراد ’’پولیٹیکل انٹلکچوئلز‘‘ کا وہ گروپ ہے جسے عوام نہ تو نیوز چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں اپنی اپنی نظریاتی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اخبارات میں ان کے تبصرے اور بیانات شائع ہوتے ہیں)۔ پاکستان میں یک جماعتی نظام حکومت مسلط
Read moreاپوزیشن تحریک کی نئی ، صحافی پر تشدد کی پرانی کہانی
آج کل اہم ترین موضوع گفتگو مولانا فضل الرحمان کا کراچی سے اسلام آباد تک امن مارچ اور ممکنہ دھرنا ہے، مولانا کو اپنی اس ’’جدوجہد‘‘ میں پہلی بڑی کامیابی یہ ہوئی کہ حکومت ’’ مذاکرات‘‘ پر آمادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ مولانا نے بات چیت کے لئے بھی استعفیٰ ساتھ لے کر آنے کی شرط لگا دی ہے۔میں اس موضوع پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے پوری طرح مولانا کے
Read moreلاپتہ ساتھی ، ذاتی ڈائری کا ایک ورق
میں نے اس دور میں روزانہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی جب واقعتاً صحافت پابہ زنجیر تھی مگر زندہ تھی اور محب وطن صحافی آزادی صحافت کے لئے جہد مسلسل میں مصروف تھے۔ آج اگرآزاد صحافت اورآزاد صحافی کا تصور ختم ہو رہا ہے یا ختم کیا جا رہا ہے تو یہ عمل ایک سال میں شروع نہیں ہوا۔ آج سوشل میڈیا نے ہر شہری کو صحافی بنا دیا ہے تو یہ بھی کوئی عجوبہ نہیں۔ سوشل میڈیا نے آج
Read moreاجمل نیازی کی علالت اور حکومتی بے حسی
اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں میرا ایک بھائیوں جیسا دوست ایسا بھی ہے جو دوستیوں اور محبتوں میں مجھ سے چار قدم آگے ہے۔ یہ میں نے بارہا عملی طور پر دیکھا ہے کہ وہ جب بھی کہیں بھی میرے ساتھ ہوتا ہے تو لوگوں کا رخ اس کی جانب ہوجاتا ہے۔ یہ بات میرے لئے قابل فخر بن جاتی ہے کہ میرے اس دوست کو لوگ کتنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ہی نہیں، بیرونی ممالک میں بھی اس کی مقبولیت کا یہی عالم ہے، میرے اس دوست کا نام ہے ڈاکٹر اجمل نیازی۔
Read moreامتیاز راشد بھی اک یاد بن گئے
انیس سو ستر میں جب پہلے عام انتخابات ہونے جا رہے تھے، اس وقت میں اس اخبار میں کام کر رہا تھا جو شیخ مجیب الرحمان اور ان کی جماعت،، عوامی لیگ،، کا ترجمان تھا، یہ شعبہ صحافت میں میری پہلی جاب تھی، مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی ،، مقبولیت،، کا یہ عالم تھا کہ بائیں بازو کے گنے چنے دانشوروں کے سوا اس کا کوئی ووٹر دکھائی نہیں دیتا تھا، میں اس زمانے میں شاہ حسین کالج میں
Read moreمٹی کے کھلونے اورلنگرخانے
مجھے اعتراض مولانا فضل کے آزادی مارچ یا دھرنا پر نہیں، خوف یہ ہے کہ جب ملک بھر سے دینی مدارس کے طالبان سڑکوں پر نکلیں گے تو انہیں واپس بھجوانا مشکل ہوجائے گا، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن والے بھی شاید اسی خدشے کی بنیاد پر مولانا کے ساتھ چلنے یا نہ چلنے کا حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے، لیکن تازہ ترین صورتحال میں اب مولانا فضل الرحمان کو ان دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی
Read moreجنرل ٹکا خان کی ’فراست ‘: بی بی شہید کے پہلے دور کا ایک واقعہ
جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی جو دو چار بڑے اقدامات کئے تھے، ان میں سے ان کا نمایاں ترین ’’کارنامہ‘‘ صحافیوں اور اخباری کارکنوں میں نفاق ڈالنا اور یونین (پی ایف یو جے) کا بٹوارہ کرنا تھا۔ اس کام کے لئے انہیں سارے لوگ لاہور سے ہی مل گئے تھے۔ لاہور کی مٹی نے جہاں بڑے بڑے قومی ہیروز اور سرفروشوں کو جنم دیا، وہیں اس شہر کی مٹی سودے بازوں، مفاد پرستوں، کاسہ لیسوں اور سازشیوں کے
Read moreاپنے شہر کے لوگوں کی باتیں
جب ہم نے شہر گردی شروع کی،لاہور اس وقت تک آلودہ نہیں ہوا تھا، سارا شہر گھر کی مانند تھا۔ ایک دوسرے پر اعتماد کا عالم یہ کہ اگر کوئی مہمان دروازے پر کھڑا ہو کر اندر آنے کی اجازت طلب کر لیتا تو گھر والے برا مناتے، اسے کہا جاتا کہ تم کوئی غیر تو نہیں ہو، آ جاؤ اندر ۔ کسی کو بھوک لگتی تو وہ کسی بھی جاننے والے کے گھر چلا جاتا ، کوئی دکھاوا نہیں
Read moreبیوی کا بھی ماموں
منو بھائی مرحوم سے اکثر مجالس میں یہ سوال پوچھ لیا جاتا تھا کہ،، آپ کی بیگم آپ کو کیا کہہ کر مخاطب کرتی ہیں؟ وہ ہمیشہ بے ساختہ اور برجستہ جواب دیتے،، منو بھائی،، آج میں شہر کی ایک اور مقبول عام اور ہر دلعزیز ہستی سے آپ کو ملواتا ہوں جو جگت ماموں ہیں اور انہیں ان کی اہلیہ ہی نہیں، اپنے بچے بھی ماموں کہہ کر پکار نے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، ماموں کا لاحقہ
Read moreجناب وزیراعظم آپ نے ہم غریبوں کو مایوسی اور بھوک دی ہے
پچھلے کالم میں شاید تھوڑاجذباتی ہوگیا تھا، میں واقعی غصے میں تھا، غصہ پر بمشکل قابو پایا تھا اور کالم کا رخ اصل موضوع سے ہٹا کر،، جہانگیر کی کہانی،، کی جانب لے گیا تھا، لیکن کب تک؟ کب تک کوئی اپنے جذبات پر قابو رکھ سکتا ہے؟ ہم ان لوگوں کی اگلی نسلیں ہیں جو عمر بھر یہ کہتے اور یہ سنتے قبروں میں اترتے رہے کہ حالات جلد ٹھیک ہو جائیں گے، عمران خان صاحب! آپ ’’ہم عوام‘‘
Read moreضرورت جب گھنگرو باندھ لیتی ہے
عمران خان کی حکومت صحیح سمت میں رواں دواں ہے، مہنگائی اور غربت کا رونا پیٹنے والے سب کے سب پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین اور مولانا فضل الرحمان کے پیروکار ہیں، اگر معاشی حالات ابتر ہیں تو پھر بتائیے کہ شرح اموات میں اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ خود کشیوں کی شرح نواز شریف کے دور سے کیوں نہیں بڑھی؟ آپ کے پاس میرے سوال کا جواب ہے یا نہیں، جواب بھی میں خود ہی دیے دیتا ہوں۔ضرورت آخری
Read moreاس صحافی کی لاہوری بیوی برطانیہ کی شہزادی تھی
وہ اخبار میں میرے ساتھ کام کرتا تھا، قلم میں روانی تھی، ترقی پسندانہ اور لبرل سوچ کا مالک تھا، جی چاہتا تو شاعری بھی شروع کر دیتا، کئی ادبی، فلمی اور ثقافتی جرائد کا ایڈیٹر رہا، ادب کی دنیا میں اس کے دوستوں کا وسیع حلقہ تھا۔ دوستوں میں وہ ہر دلعزیز بھی تھا، ادیبوں شاعروں سے ہی نہیں اس کا میل ملاپ فلم نگر کے لوگوں سے بھی تھا۔ ایک رات میں مصطفیٰ قریشی صاحب کے گھر گیا
Read moreعمران خان کب کسی کی سنتا ہے !
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما سید خورشید شاہ کو نیب نے جس عجلت میں گرفتار کیا، اس سے لا محالہ سوالات تو اٹھنے ہی تھے، یہ شاید کسی اپوزیشن لیڈر کی کرپشن کے الزام میں پہلی گرفتاری ہے جس کی پیش گوئی پی ٹی آئی کے کسی لیڈر نے نہیں کی تھی، البتہ اگلی گرفتاری کے چرچے تو پچھلے کئی ماہ سے زبان زدعام ہیں، وہ ممکنہ نام ہے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا۔ خورشید شاہ کی
Read moreحسن، شباب اور کراچی
میں خوش نصیب ہوں کہ میں اس زمانے میں دو بار کراچی شہر میں رہا جب ایم کیو ایم اور بعض اس جیسی دوسری متشدد تنظیموں نے جنم نہیں لیا تھا، اس دور کے شہر کے بارے میں راوی چین ہی چین لکھا کرتا تھا، کراچی کا سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچہ لاہور سے مختلف نہیں بلکہ زیادہ مضبوط تھا، اس دور کو سوچتا ہوں تو سوچتا ہی رہ جاتا ہوں، گو آج کراچی پھر پر سکون ہے لیکن اس
Read moreظہیر کشمیری: عظمت انسان کا علمبردار
آج کا کالم پیرزادہ غلام دستگیر کے نام موسوم کرتا ہوں، جنہیں آپ ظہیر کاشمیری کے نام سے جانتے ہیں۔ مجھے نہ صرف ان کی ماتحتی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا بلکہ وہ میرے ساتھ تحریک آزادی صحافت کے دوران سنٹرل جیل میں اسیر بھی رہے۔ کہتے ہیں کہ آدمی کی اصلیت کا پتہ یا تو جیل میں چلتا ہے یا ریل میں۔ جیل میں پتہ چلا کہ وہ واقعی عظمت انسان کی جدوجہد کے سچے داعی ہیں۔
Read moreبدمعاشی کی سیاست، مولانا مودودی، عنایت حسین بھٹی اور میں
یہ کہانی تو ہے گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک ان پڑھ اور ان گڑھ نوجوان کی، لیکن آپ تھوڑا سا غور فرما لیں تو پتہ چلے گا کہ یہ تو شاید پاکستانی سیاست کی داستان ہے اور اگر آپ مزید گہرائی میں چلے جائیں تو اسی کہانی میں امریکہ، روس اور دوسری بڑی عالمی طاقتوں کی طے شدہ پالیسیاں بھی آپ کے سامنے آ جائیں، لگتا ہے جیسے یہ دنیا ہی گلیوں، محلوں کے چھوٹے چھوٹے بدمعاشوں کی پالیسیوں
Read moreاداکار کی لاش کہاں پہنچانی ہے؟
یہ کہانی نہیں میری شرمندگی کی داستان ہے، لوگ مجھے ایک بہادر آدمی سمجھتے ہوں گے لیکن اس واقعہ نے مجھ پر ثابت کر دیا تھا کہ میں کتنا کمزور اور بے بس شخص ہوں،کاش اس دن جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا، اس دن کا سورج ہی نمودار نہ ہوتا، کاش میں اس دن بھی سماج سے بغاوت کر دیتا اور ایک بیٹی کے مکالمے پر زندگی قربان کرکے اسے سینے سے لگا لیتا اور اسے اپنے وجود کا
Read moreلوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
یہ بات ہے اس زمانے کی جب پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی تھی۔ 1977-1978ء میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے بے باک اور دوٹوک صحافیوں کے ہاتھوں میں تھی۔ کارکن صحافیوں کی ملک گیر فوج ظفر موج اپنے راہنماؤں پر اندھا اعتماد رکھتی تھی۔ ایک پر حملہ سب پر حملہ کا تصور ایمان کی حد تک مستحکم تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی آمریت
Read moreایک بگڑے ہوئے عسرت زدہ فلمی ہیرو کی کہانی
وہ اب مر چکا ہے، مرنے سے ایک سال پہلے مجھے اس کے فون آنا شروع ہوئے، اوئے مجھے مل لو، میں بیمار ہوں، تمہارا باپ میرا بھی باپ تھا، وہ ایسے مکالمے بولتا اور پھر رونا شروع کر دیتا، سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے وہ؟ وہ مجھے اپنا نام بتانے سے بھی گریز کر رہا تھا، ایک دن میں نے اس کے پاس جانے کا ارادہ کر ہی لیا، میں اس کے دروازے پر کھڑا تھا، اندر سے آواز تو آ رہی تھی لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا تھا
Read moreایک ماڈل بننے کی شوقین لڑکی کی کہانی
ماڈلنگ آج سینکڑوں، ہزاروں لڑکیوں کے لئے پسندیدہ ترین شعبہ بن چکا ہے، بے شمار ایسی بچیاں بھی دکھائی دیتی ہیں جن کا ماڈل گرلز کی شان و شوکت کے حوالے سے خبریں پڑھ پڑھ اور دیکھ دیکھ کر پڑھائی سے بھی جی اکتا گیا ہے، کئی طالبات تو ایسی بھی دیکھی گئی ہیں جو تعلیم ادھوری چھوڑ کر راتوں رات ماہرہ خان، مہوش حیات، عمیمہ ملک، مومل شیخ، ونیزہ احمد اور آمنہ حق جیسی کامیاب ماڈلز کی صف میں کھڑی ہونا چاہتی ہیں، ایسا کیوں نہ ہو۔
Read more1947 ء کی جنگ کشمیر
بھارت اپنی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لداخ، جموں اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے اپنی اکائی بنا چکا ہے، 15 اگست تک اور خطرناک خبریں بھی سامنے آ سکتی ہیں، خدشہ یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں کشمیر سے کشمیریوں کو بے وطن کر دیا جائے گا، کشمیر کی جنگجو، دلیر بچیوں کے اغوا اور انہیں غائب کرنے کا عمل شروع ہوگا، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کا قتل عام ہوگا، جو بچ جائیں گے انہیں
Read moreجب ایک ”ہیرو“ کی فلم سٹوڈیو میں اصلی پٹائی ہوئی
ایک سینئیر موسٹ اور بین الاقوامی شہرت کی حامل خاتون فیشن ڈیزائنر کی والدہ کسی زمانے میں فلموں میں چھوٹے موٹے رول کیا کرتی تھیں، میں نے اس خاتون کو پہلی بار 1968 ء میں باری اسٹوڈیوز میں دیکھا، وہ فلور فائیو میں ایک گھنٹہ دورانیہ کی ڈاکومنٹری فلم“ مقدس امانت“ میں ایک معمولی سے رول کے لئے بلوائی گئی تھیں، اس مزدور فنکارہ کی دس بارہ سال کی بیٹی بے بی بھی اسی فلم میں ایک اہم رول ادا کر رہی تھی، میرا کردار اس فلم میں مرکزی نوعیت کا تھا، رنگیلا میرے باپ اور ناصرہ ماں کے کردار میں تھے، ایک دن اس بوڑھی ایکسٹرا فنکارہ نے مجھے بتایا کہ وہ نعیم ہاشمی صاحب کی 1957 ء میں ریلیز ہونے والی فلم۔
Read moreریشماں کا نیا خاندانی پس منظر
عرصہ دراز کے بعد دوستوں کے ساتھ پہاڑوں اور سمندروں کی سیر کا موقع ملا، ذوالقرنین اور نعیمہ میاں بیوی ہیں اور دوستوں کے دوست، انہیں احمد فراز، منیر نیازی، اجمل نیازی، جاوید قریشی جیسی شخصیات کی مستقل میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہے، ان کے گھر کا دروازہ کبھی دوستوں کیلئے بند نہیں دیکھا، آپ جب بھی ان کے گھر جائیں نعیمہ کو ہمیشہ باورچی خانے میں پہلے سے موجود مہمانوں کیلئے کھانا تیار کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ان
Read moreکپتان کا دورہ واشنگٹن دو سو فیصد کامیاب رہا
حضرت علیؓ کاقول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اپنے ان دوستوں سے کنارا کشی کرلو، جن کا دوستانہ تمہارے دشمنوں سے بھی ہے‘‘سالہا سال پہلے جب میں نے یہ قول پڑھا تو کچھ اس طرح دل میں اترگیا کہ زندگی کو قرار آگیا، چاروں طرف سکون ہی سکون پھیل گیا،اور دوستوں کے حوالے سے کوئی بد اعتمادی باقی نہ رہی ،اب یہ قول مجھے یاد آیا ہے نیوز چینلز پر ’’ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے معصوم‘‘
Read moreمٹھو کی واپسی: عشق کی تشریح آسان نہیں
عشق کا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا اور عشق محض مرد اور عورت کے درمیان ہی نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی لازم نہیں کہ عشق مجازی محض دو انسانوں کے مابین ہی استوار ہو۔ عشق تو جنگل اور انسان کے مابین بھی ہوجاتا ہے۔ عشق ویرانوں اور روحوں کے درمیان بھی پروان چڑھتے ہیں۔ میں نے تو انسانوں کو بربادیوں سے محبتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے بسا اوقات توآدمی کسی ایک لمحے کے عشق میں بھی ڈوب جاتا ہے۔
Read moreعارف لوہار نہیں جانتا اپنے باپ کی مشکل
یہ بہت ہی اچھی بات ہے کہ آج شو بز کی دنیا میں فنکار بہت اچھے معاوضے لے رہے ہیں، اور بہت سارے تو کراچی اور لاہور کے پوش علاقوں میں اپنے ذاتی گھروں میں بھی رہ رہے ہیں، یہ موج گو سارے فنکارنہیں منا رہے لیکن ماضی کے مقابلے میںآج کے حالات فن اور فنکاروں کیلئے سازگار ہیں، وہ زمانہ جب ہماری فلم انڈسٹری ہمسایہ ملکوں کی فلموں کے بھی چھکے چھڑا رہی تھی اور ایک سے بڑھ کر
Read moreسیاسی قیدی شورش جیسوں کو کہتے ہین
میں بارہ تیرہ برس کا تھا جب پہلی بار کسی سیاسی قیدی کو دیکھا، کسی کے ساتھ میو اسپتال گیا تھا، شدید گرمی کے دن تھے، مریض کی عیادت کے بعد واپس آتے ہوئے ایک لحیم شحیم شخص زنجیروں میں جکڑا ہوا اسپتال کے وارڈ کے دروازے پر لیٹا ہوا تھا، گورے چٹے رنگ کا چالیس برس کی عمر کا یہ قیدی پسینے سے شرابور تھا، وردیوں میں ملبوس کئی پولیس اہلکاروں نے اس کے ارد گرد آہنی زنجیروں کی
Read moreبات بڑھتی چلی جا رہی ہے
اصل جرم یہ نہیں کہ جج ارشد ملک نے کیا کیا؟ اصل جرم یہ ہے کہ ن لیگ اور شریف خاندان نے ایک انڈر ٹرائل آدمی کو سزا سے بچانے کے لئے جج کو خریدنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جو مقدمے کی سماعت کر رہا تھا، بد قسمتی یہ بھی ہے کہ میرے سمیت زیادہ تر لکھاریوں کے قلم کا ٹارگٹ جج صاحب ہی ہیں، شایدآج کے کالم میں بھی آپ کو یہی جھلک نظرآئے۔ لیکن حقائق کو
Read moreمریم نواز اک کالعدم شہزادی اور انتقام
مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو لیک کرکے یقیناً بہت بڑا جرم کیا ہوگا، اس جرم کو ن لیگ ’’شہزادی کا کھڑاک‘‘ قرار دے رہی ہے، ایک ایسا کھڑاک جو کسی گنڈاسے سے نہیں الیکٹرونک آلات کی مدد سے کیا گیا ،جس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی، ہاں یہ انتقام کا کھڑاک بھی ہے، نواز شریف کی بیٹی کی جارحانہ مزاحمتی سیاست نے ایوانوں کے ایوان ہلا کر رکھ دیے ہیں، لیکن پہلا اور آخری
Read moreگوتم سے گستاخی اور لال قلعہ
اوائل عمری میں لکھنا شروع کیا تو اس زمانے میں سب سے زیادہ شائع ہونے والے اخبار کا آفس نسبت روڈ پر لیبر ہال کے قریب ہوا کرتا تھا، میں کبھی کبھی اپنے والد کے دوست اشرف طاہر صاحب کے پاس جا کر بیٹھ جاتا ، جو وہاں نیوز ایڈیٹر تھے، اشرف طاہر صاحب سینئر ٹی وی اداکارہ روبینہ اشرف کے والد تھے،غلام محی الدین نظر مشرق میں بچوں کے صفحہ کے انچارج تھے، ان سے بھی سلام دعا ہوتی
Read moreنیک دل مزدور حسیناؤں کا جذبہ
فنکار برادری نے کینسر کے مرض میں مبتلا کامران کامی نامی نوجوان گلوکار کے علاج کی رقم جمع کرنے کیلئے چیریٹی شو کا اہتمام کیا تو مجھ سے رابطہ کرکے کہا گیا کہ آپ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوں، ایک نیک مقصد کے لئے ہونے والی اس تقریب میں جانے سے انکار نہ کر سکا ، لیکن یہ ضرور سوچتا رہا کہ کامران کامی ہے کون سا گلوکار، جس کا نام کبھی نہیں سنا، انٹر نیٹ پر تلاش
Read moreان پڑھ صحافیوں کی دہشت
پاکستانی صحافت کی تاریخ کے ہر دور میں ہر قسم کے صحافی دستیاب رہے ہیں اورآج بھی ہیں، مگرآج کے دور میں مثبت بات یہ ہے کہ اب کم از کم انگوٹھا چھاپ صحافی خال خال ہیں، ماضی میں تو ہر ادارے میں دو چار اخبار نویس ایسے ضرور موجود ہوتے تھے جو بے چارے خود اخبار بھی نہیں پڑھ سکتے تھے، وہ خبریں جن کے انہوں نے پیسے پکڑے ہوتے تھے ان کے دماغ میں ہوا کرتی تھیں جنہیں لکھوانے کے لئے وہ آدمی ڈھونڈا کرتے تھے، ایسے ان پڑھ صحافیوں کی دھاک بھی بہت ہوا کرتی تھی، وہ دوسرے اخبارات میں اپنی خبریں چھپوانے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہوا کرتے تھے۔
Read moreلوگوں کو چونا لگانے والے فنکار
انگلستان کے بادشاہ جارج پنجم کو گھڑ سواری کا بہت شوق تھا، فرصت کے اوقات میں وہ اپنے پسندیدہ سفید گھوڑے پر سوار ہوتے اور دریائے ٹیمز کے کنارے پہنچ جاتے، دوسرا شوق انہیں ننھے منے بچوں سے دوستی کرنے کا تھا، ٹیمز کے کنارے وہ گھوڑے کو دوڑاتے رہتے جب تھک جاتے تو گھوڑے کو کسی سمت کھڑاکرکے وہ دریا پر سیر کے لئے آنے والے بچوں سے باتیں کرتے، انہیں نظمیں اور کہانیاں سناتے اور پھر واپس گھوڑے
Read moreجارج پنجم اور طوطا فال والا
انگلستان کے بادشاہ جارج پنجم کو گھڑ سواری کا بہت شوق تھا، فرصت کے اوقات میں وہ اپنے پسندیدہ سفید گھوڑے پر سوار ہوتے اور دریائے ٹیمز کے کنارے پہنچ جاتے، دوسرا شوق انہیں ننھے منے بچوں سے دوستی کرنے کا تھا، ٹیمز کے کنارے وہ گھوڑے کو دوڑاتے رہتے جب تھک جاتے تو گھوڑے کو کسی سمت کھڑاکرکے وہ دریا پر سیر کے لئے آنے والے بچوں سے باتیں کرتے، انہیں نظمیں اور کہانیاں سناتے اور پھر واپس گھوڑے
Read moreجو انجو بلاتا تھا ، انجمن کو وہ یاد نہیں آیا ؟
یہ سانحہ دنیا کے ہر انسان پر گزرتا ہے کہ کبھی کبھی وہ اس جگہ بھی نہیں پہنچ پاتا جہاں اس کا جانا انتہائی ضروری ہوتا ہے، ہر انسان رشتوں کے بندھن میں بندھا ہوا ہے، انسانی رشتے نباہنا ایک ایسا عمل ہے جس سے چھٹکارا ممکن نہیں، میں یہ بات آپ کو آسانی سے سمجھا دیتا ہوں کہ خاندان صرف خونی رشتوں کے گٹھ جوڑ کا نہیں انسانوں کے باہمی تعلقات کا نام ہوتا ہے، جو بھی آپ کی
Read moreکیا مسلم لیگ ن میں مسلم لیگ شین کے نام سے ایک نیا دھڑا قائم ہوگا؟
بے شک کالمسٹ کو اسے اپنے موضوع کو انجام دینا پڑتا ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے کہ کسی کہانی کا کوئی انجام ہوتا ہی نہیں ہے، کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی، جس کہانی کا اختتام ہو جائے اسے کہانی نہیں محض ایک واقعہ کہا جا سکتا ہے، ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس کا آغاز دو، چار یا دس سال پہلے نہیں ہوا، ہماری کہانی تو اس دن شروع ہوئی جب برصغیر میں پہلے مسلمان نے قدم رکھا تھا، ہمارے عہد میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم بھی موجود ہیں اور مولانا ابو الکلام آزاد، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا مودودی جیسے جید کردار بھی۔
Read moreاپنے عہد کیلئے لکھنا اپنے لیے لکھنا
آج کا کالم میں اپنے بارے میں لکھ رہا ہوں،یہ سب کالمسٹوں اور ادیبوں کیلئے نہیں ہے، کیونکہ گہرے طبقاتی نظام میں تنکوں کی طرح بکھرے ہوئے سارے لکھاریوں کے اپنے اپنے نظریات اور اپنے اپنے مفادات ہیں، سب میری طرح اپنے اپنے مشن پر ہیں،اور کوئی کسی کو کسی کے مشن سے دستبردار کرانے کا حقدار نہیں. یہ لکھنا بھی دوڑ کے مقابلے کی طرح ہوتا ہے، جس کے منصف قارئین ہوتے ہیں، کون سا لکھاری کس سیڑھی پر
Read moreاس ملک میں ہر شخص ہی جاسوس ہے
الحمد للہ ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس کا ہر فرد جاسوس ہے، ہرآدمی دوسروں کی جاسوسی پر اتنا مگن ہے کہ باقی سب کاموں سے بیگانہ ہو چکا ہے، نو نو عمری میں کرکٹ کاشوق پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ عمران خان اگاتھا کرسٹی کے ناول بھی شوق سے پڑھتے رہے ہیں، اسی لئے تو انہوں نے وزیر اعظم بننے سے پہلے پہلے ہی سے جاب پر موجود لوگوں سے پچاس لاکھ نوکریوں کا وعدہ کر لیا تھا، انہیں معلوم تھا کہ نوکریاں نہ بھی دیں تو کوئی کسکے گا بھی نہیں، کسی کو فرصت ہی نہ ہوگی حکمرانوں کے کسی وعدے کے ایفاء ہونے یا نہ ہونے کو یاد رکھنے کی، ہم تو اتنے مصروف رہتے ہیں کہ اپنے ہمسایوں تک کی جاسوسی کرنا پڑتی ہے، کس کے گھر کون آیا؟ کون گیا؟
Read moreکاش رقاصہ علینہ کی کہانی فرضی ہوتی
پندرہ سال قبل علینا کو میں نے پہلی بار علامہ اقبال ٹاؤن میں بولان ایوارڈز والے خلیق احمد کے دفتر میں دیکھا تھا، اسے وہاں ایوارڈ تقریب میں پرفارمنس کی دعوت دینے کے لئے بلوایا گیا تھا، میرے جیسے کئی دوستوں کو شاید اس کا دیدار کرانے کے لئے جمع کر لیا گیا تھا، اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ شہر کے کلچرل فنکشنز، مخصوص گھروں میں ہونے والی پارٹیوں، ناچ گانے کی کھلی تقریبات اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی محو رقص نظرآنے لگی، اس نے بڑی بڑی رقاصاؤں کی چھٹی کرادی تھی۔
اچھا ناچتی ہی نہیں بہت اچھی دکھتی بھی تھی، لوگوں نے بتایا تھا کہ اسے سرکار، دربار تک پذیرائی مل رہی ہے، لوگ اس کی سمندر کی لہروں کی طرح چڑھتی جوانی، اس کی اداؤں اور اس کی پازیب کی جھنکار کے دیوانے ہونے لگے تھے، وہ مختار بیگم سے تربیت پانے والی مرحومہ رانی کی طرح مجسم رقص تھی، خمار بھری آنکھیں، کمان جیسے ابرو، گھنیرے بال، مسکراتا ہوا چاند سا چہرہ، بہت ہی ملنسار اور سخی، نام تھا، علینا، پرویز کلیم نے اسے اپنی فلم، پہلا سجدہ، میں ہیروئن لے لیا، شوٹنگز کے دوران اسے شمیم آراء کی، منڈا بگڑا جائے، سمیت دو چار فلمیں اور مل گئیں۔
Read moreاسمبلی میں بلاول کی تقریر نہ ہونے کا سبب شیخ رشید ہیں یا شہباز شریف؟
ڈائس کا گھیراؤ کر لیا گیا اور مسلسل نعرے بازی کی گئی، اس دوران دو تین بار شیخ رشید نے بولنا شروع کیا، شیخ رشید کی آ واز پیپلز پارٹی کے احتجاج پر بھاری تھی، وہ شہباز شریف کے الزامات کا جواب دینا چاہتے تھے، جواب انہوں نے دے بھی دیا اور ان کے جواب دینے کی تصدیق خود جناب اسپیکر نے بھی کردی، لیکن اس کے باوجود مائیک بلاول بھٹو کو دینے کا اعلان نہ کیا گیا، اسپیکر صاحب دس منٹ تک دومنٹ دو منٹ کا ورد کرتے رہے، مسئلہ حل نہ کیا، شاید یہی پیر کے اجلاس کا ایجنڈا تھا کہ بلاول تقریر نہیں کرے گا، دوران خطاب شیخ رشید نے نہ صرف یہ اعلان کیا کہ اگر آ ج شیخ رشید تقریر نہیں کرے گا تو پھر تقریر بلاول بھی نہیں کرے گا، شیخ رشید نے حکمیہ انداز میں اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے انہیں ایڈوائس کیا کہ اجلاس ملتوی کر دیا جائے، ہوا بھی ایسے ہی
Read moreایدھی صاحب سے ایک حادثاتی انٹرویو
پچیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، جب ایک سہ پہر صدی کے عظیم ترین شخص عبدالستار ایدھی اخبار کے آفس میں میرے ساتھ بیٹھے بڑی روانی سے اپنی زندگی کے اوراق الٹ رہے تھے۔ میں نے دو سوال سنبھال رکھے تھے ایدھی صاحب کے لئے۔ ایک دن جب وہ اچانک میرے آفس آ گئے تو میں سب کام چھوڑ کر ان کی جانب متوجہ ہو گیا۔ ہمت باندھ کر وہ دو سوال بھی کر ہی دیے۔ سوال تھے
Read moreڈاکٹر انور سجاد کا نوحہ
ڈاکٹر انور سجاد کا انتقال جن حالات میں ہوا۔ وہ پاکستان میں کوئی انوکھی بات نہیں اور نہ ہی سچے فنکاروں کے قبیلے کی تاریخ میں یہ کوئی پہلی بے بسی کی موت ہے۔ ہر حساس فنکار یہاں ایسے ہی مرتا رہا ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد کو بھی ایسے ہی مرنا تھا۔ اگر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا ہوا معمول کی موت مرجاتا تو فنکار کہاں کا تھا؟ اسی لئے تو میں ہمیشہ سے یہی کہتا چلا آیا ہوں کہ“۔ فن کے لبوں پر ہمیشہ زہر رقصاں رہتا ہے اور یہ پیالہ یہاں ہر سچے فنکار کو پینا پڑتا ہے“ ڈاکٹر انور سجاد کے تو ویسے بھی کئی اور گناہ ایسے تھے جن کی اسے سزا ملنا ہی ملنا تھی۔
ایک مسیحا فن کے قاتلوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا سب کچھ جانتے بوجھتے۔ وہ فن کے استحصالی طبقات کے کچھ زیادہ ہی قریب ہوگیا تھا۔ اسے شاید اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا کچھ زیادہ ہی زعم تھا کہ عشق بھی کر بیٹھا تھا۔ فنون لطیفہ کی کون سی صنف ایسی تھی جس میں وہ منہ نہیں مارتا۔ باپ دلاور علی ایک فقیر منش ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھا۔ چونا منڈی میں کلینک تھا۔ پورے لاہور میں مشہور تھا کہ ڈاکٹر دلاور غریب مریضوں سے فیس نہیں لیتا۔
Read moreہم نے مانا کہ عید آئی ہے
ان تمام پاکستانیوں کو دلی عید مبارک جو اس عید پر بھی اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے خرید کر نہ دیکھ سکے، عید ان لوگوں کو بھی مبارک جنہوں نے ماہ مقدس میں دوسروں کا خیال رکھا،عید یقینا روزہ داروں کی ہوتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ خیال بھی سو فیصد درست ہے کہ عید بچوں کی ہوتی ہے، عام آدمی نے تو صرف گھر والوں کی خوشیوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے چاہے اس نے روزے
Read moreشوکت خانم ہسپتال کو عارف علوی کا اعلان کردہ عطیہ موصول نہیں ہوا
آئینی اور قانونی ماہر ہونا تو بہت دور کی بات، میں کسی ایک فن میں بھی مہارت نہیں رکھتا، تمام عمر اسی کام میں گزری ہے کہ کوئی خبر آپ کے پاس آئے تو پہلے اس کی اچھی طرح تصدیق کریں اور اس کے بعد اسے بر وقت مشتہرکر دیں، اگر کسی خبر کو عام کرنے میں تاخیر کریں گے تو آپ جرم کریں گے، جو خبریں بر وقت لوگوں تک نہیں پہنچتیں وہ خبریں نہیں رہتیں تاریخ بن جاتی
Read moreمنصف کٹہرے میں، پردے کے پیچھے کیا ہے؟
لوگ تو چیئرمین نیب کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کا خطرہ محسوس کر رہے تھے مگر قرعہ نکل آیا سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام، معزز جج کے خلاف الزامات نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری پر لگنے والے الزامات سے مختلف نہیں ہیں، تین بار وزیر اعظم بننے والا جیل جا سکتا ہے تو کوئی منصف کیوں نہیں، جسے حکمران سے زیادہ صادق اور امین ہونا چاہیے۔
حکومتی حلقے دعوے کرتے ہیں کہ برطانیہ اور سپین میں بہت جائیدادیں پکڑی گئی ہیں، برطانیہ میں بھی ان کی آف شور کمپنیاں ہیں، ان کی اہلیہ محترمہ کے پاس بھی بہت مال ہے، میرے خیال میں اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں، ہمیں جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کی اہلیہ محترمہ کا خاندانی پس منظر معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔ تاریخ کے صفحات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ دونوں میاں بیوی جدی پشتی امیر ہیں، جسٹس فائز کے والد کو قائد اعظم کا قریبی ساتھی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، قائد اعظم کے حکم پر ہی انہوں نے بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی، اس نیک مقصد میں ان کا ساتھ سردار عثمان جوگیزئی، جان محمد کاسی، ارباب کرم خان، غلام محمد ترین اور میر جعفر خان جمالی نے دیا۔
Read moreاحتساب کا ٹریپ
چھج تے بولے پرچھاننی تے نہ بولے۔۔۔۔۔۔خیال تھا کہ یہ ایک قدیمی مقولہ ہے جسے ہم بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں ،لیکن اب پتہ چلا یہ مقولہ اتنا بھی قدیمی نہیں ہے ،یہ تو جناب شہباز شریف کی پیدائش کے بعد ایجاد ہوا تھا، اس بات کا انکشاف ایسے ہوا کہ جب چیئرمین نیب کے خلاف من گھڑت خبر کا معاملہ شروع ہوا تو سب سے پہلا رد عمل جس سیاستدان کی طرف سے سامنے آیا وہ سیاسی
Read moreیہاں تو مائیں بھی محفوظ نہیں
بچے کسی بھی ملک میں مقدس امانت ہوتے ہیں، انہی کی وساطت سے قومیں آ گے بڑھتی ہیں، مائیں بچوں کی بنیادی درس گاہیں قرار دی جاتی ہیں، بیٹیاں گھروں کی زینت ہوتی ہیں، مگر ہمارے ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے ،ملک و قوم کے مستقبل کو ہم نے ابتدا سے ہی کھلونا بنا رکھاہے، خیبر سے کراچی تک کون سا وہ علاقہ ہے جہاں ہمارے بچے، بچیاں محفوظ ہیں، روزانہ درجنوں کے حساب سے بچے اغوا ہوجاتے
Read moreافطاری کا میلہ مریم نواز نے لوٹ لیا
بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر اور اس کے اثرات پر لوگ اپنے اپنے نظریات کے مطابق تبصروں میں مصروف ہیں، لیکن سچ یہی ہے کہ میلہ صرف مریم نواز نے لوٹا اور خوب لوٹا، یہ سیاست میں نواز شریف کی بیٹی کی پہلی باضابطہ انٹری تھی جو پیپلزپارٹی کے جواں سال چیئرمین کی وساطت سے ہوئی، مریم نواز نے ایک تیر سے کئی شکار کئے، سب سے زیادہ گھائل حمزہ شہباز ہوئے، جن کاخیال تھاکہ وہ میدان سیاست میں
Read moreبھوکے وزیر کی تیسری کہانی
پروین ملک لاہور کے ادبی حلقوں میں ایک معتبر نام ہے، ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ وہ مجھ پر خاکہ لکھیں گی، اگر انہیں اس کے لئے اب بھی وقت مل گیا تو یقیناً میرے لئے بڑا اعزاز ہوگا، پروین ملک جرنلزم میں ماسٹرز کرنے کے بعد روزنامہ آزاد سے منسلک ہوئی تھیں، میں اس اخبار میں ان کا جونئیر کولیگ تھا، پروگریسو خیالات کی حامل پروین ملک عورتوں کے حقوق اوران کے خلاف ہونے والے مظالم کے
Read moreقوم کو آئی ایم ایف سے معاہدہ مبارک
بالآخر عالمی مالیاتی فنڈ سے پاکستان کا معاہدہ طے پاگیا،اب ہمیں اگلے تین سال کے دوران چھ ارب ڈالر ملیں گے اور پاکستان کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے، وزیر اعظم عمران خان کا ذہنی بوجھ بھی اتر گیا اب وہ سکون کے ساتھ عوام سے کئے گئے سارے انتخابی وعدے آسانی سے پورے کر سکیں گے بشمول پچاس لاکھ سستے گھروں اور ایک لاکھ نوکریوں کے، آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ ماضی کے معاہدوں سے یکسر مختلف ہے،
Read moreحمیرا ارشد کو اپنے کمرے میں طلب کرنے والے افسر کی نئی واردات
آج تک ہزاروں تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں، لیکن جو واقعہ عباس اطہر صاحب کی برسی کی تقریب میں دیکھا وہ اپنی نوعیت کا منفرد اور ناقابل یقین واقعہ لگتا ہے، جسے میں نے ہی نہیں لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی ہال میں موجود سو سے زیادہ لوگوں نے دیکھا اور یہ سب کے لئے ہی عجب تھا۔ اس سے پہلے کہ اس انہونی پر بات کی جائے پہلے تھوڑا سا ذکر امریکہ سے آئی ہوئیں فوزیہ عباس
Read moreمبین ملک کے جنازے پر انجمن کی اداکاری
وہ 16اکتوبردو ہزار تیرہ کو عید والے دن ڈیفنس کے علاقے میں بہت بہیمانہ طریقے سے قتل ہو گیا تھا۔ مبین ملک اپنی مطلقہ بیوی انجمن کے گھر بچوں سے عیدی ملنے گیاتھا،انجمن ہی کے گھر میں قربانی کا فریضہ ادا کرکے وہ اپنی22 سالہ بیٹی کے ساتھ اس گھر میں واپس آرہاتھا جہاں وہ انجمن سے خلع کے بعد اپنے چھوٹے بھائی زری خان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ دونوں گھروں میں فاصلہ سو گز کے قریب تھا، اسے
Read moreانجمن اور مبین ملک کی کہانی
میری اس سے پہلی ملاقات منور انجم نے کرائی تھی، وہ ایک کاروبار میں منور انجم کا پارٹنر بھی رہا تھا،نام تھا اس کا مبین ملک،بہت جوان، بہت خوبصورت، لاہور کے ککے زئی خاندان سے تعلق تھا، لباس پہننے کا سلیقہ بھی خوب جانتا تھا، لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رقصاں رہتی،محکمہ انکم ٹیکس کا اعلیٰ افسر تھا ،لیکن اس کی کرپشن کی کوئی کہانی کبھی نہیں سنی تھی،ایک دن منور انجم نے دھماکے دار انکشاف کیا کہ مبین ملک نے
Read moreپرواز کی تیاریاں یا کچھ اور
سوچ رہا تھا کہ میشا شفیع اور علی ظفر کی لو اسٹوری پر ایک سال بعد پھر کالم لکھا جائے اور ان دونوں گہرے اورپرانے دوستوں کی لڑائی کے اصل محرکات سے پردہ اٹھا دیا جائے، ان حقائق سے جنہیں علی ظفر نے ابھی تک سینے میں چھپا رکھا ہے۔ حقائق تو بڑی حد تک ہمارے علم میں بھی ہیں، جیسا کہ علی ظفر نے اپنے آخری بیان میں کچھ اشارے بھی دیے ہیں لیکن کالم تو شائع ہونا تھا
Read moreپانچ روپے کا ادھار
ہمارے دادا حضور نورالدین جنہیں ہم باباجی کہتے تھے، سعدی پارک مزنگ میں اپنے ہم عمروں کی بیٹھک میں بیٹھا کرتے تھے، مزنگ بازار اور چاہ پچھواڑا کے درمیانی راستے میں ایک چھوٹا سا لکڑی کادروازہ تھا، جو بظاہر کسی چھوٹے سے گھر کا داخلی راستہ معلوم ہوتا تھا، درحقیقت یہ دروازہ (جو اب بھی موجود ہے)، سعدی پارک اور چاہ پچھواڑے کا شارٹ کٹ تھا جسے صرف محلے کے لوگ ہی جانتے تھے۔ ہم اسی دروازے سے اسکول جایا
Read moreہارون رشید کا ایک خط جو مجھے 43سال سے رُلا رہا ہے
خاور…!میں تمہارے ابو کے جنازے پر نہیں پہنچ سکا، آج دوپہر سے دل کی حالت یہ ہے کہ اسے سڑک پر حرکت کرتی ہوئی ہر چیز ایک جنازہ لگتی ہے۔ ہرچیز اپنی زندگی کا سفرپورا کر کے دم بدم موت کے اندھیروں میں گم ہوتی جا رہی ہے۔میرا خیال تھا کہ دوسرے لوگ بھی دیر سے آئیں گے اور رخصت ہونے والا ’’دانشوروں‘‘ کے انتظار میں اپنا سفر دراز کر دے گا۔قبرستان میں رکشہ جا کر رکا میں نے دیکھا
Read moreڈونلڈ ٹرمپ ، میرا بھی تو ہے
اللہ کتنا بے نیاز ہے، امریکہ کو ڈونلڈ ٹرمپ دیا تو پاکستان کو عمران خان دیدیا، اگر دنیا کی سپر پاور اور امداد پر گزارا کرنے والے ملک کے سربراہ مملکت ایک جیسے ہیں تو پھر یقین جانیے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی دنیا کی ایک نئی سپر پاور بن کر ابھرے گا اور امریکہ کی طرح فیصلے کیا کرے گا کہ کس غریب کو کتنی امداد دینی ہے اور اس کے بعد اس امداد کے عوض
Read moreگیسٹ ہاؤس کی ایک رات اور مسرت شاہین
ضلع کچہری راولپنڈی کے مین گیٹ کے عین سامنے ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا، جو دو دہائیاں پہلے بیشمار واقعات اور داستانوں کا امین بنا جب بینظیر بھٹو کے آخری دور حکومت میں مجھے لاہور بدر ہونا پڑا تھا۔ لاہور سے راولپنڈی تبادلہ کیوں کرایا؟ یہ ایک علیحدہ کہانی ہے جس سے پھر کبھی پردہ اٹھاؤں گا۔ میرے وہاں جانے سے پہلے جواد نظیر بھی پنڈی پہنچا ہوا تھا، اس کی بھی خواہش تھی کہ میں وہاں آ
Read moreشاہ محمود قریشی کی حسرت کیا ہے؟
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجودہ حکومت کے پرفیکٹ فارن منسٹر ہیں، حالیہ دنوں میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران انہوں نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان ایک پر امن اور دہشت گردی کا دشمن ملک ہے اور بھارت کا ہمارے مقابلے میں کتنا وحشیانہ کردار ہے، انہوں نے غیر ممالک سے اپنے ملک کو چلانے کے لئے مالی امداد اور قرضے لینے کی مہم میں بھی
Read moreسارے شاعر دیوانے نہیں ہوتے
جب وہ ابھرتا ہوا نوجوان شاعر تھا، مشاعروں میں بلوایا جاتا تھا، ادبی رسائل و جرائد میں کلام چھپتا تھا، شاعری اور مشاعروں کے باعث اس کی کئی بڑے افسروں اور پیسے والوں سے علیک سلیک بھی ہو گئی تھی، وہ شاعروں ادیبوں کے ایک گروپ میں بھی شامل ہو گیا جس کے نتیجے میں اسے بیرون ملک مشاعروں میں شرکت کے موقعے ملے، پھر کسی کی سفارش سے ایک چھوٹی سی سرکاری ملازمت مل گئی، تنخواہ تھوڑی تھی، کھانا
Read moreدکاندار صحافی، خوبصورت مینا جی اور پروین آپا کا ادھار
ملک صاحب کبھی بڑے ڈیرے دار ہوا کرتے تھے، کچھ عرصہ سے تھوڑے سے نان فنکشنل ہوگئے تھے مگر ڈیرے داری کسی نہ کسی طور قائم رکھی، دو ہفتے پہلے ان کا انتقال ہوگیا، مجھے خبر بہت دیر سے ملی اور میں ان کے گھر تعزیت کیلئے نہیں گیا، ہمارا کئی سال تک گہرا تعلق رہا، سوچتا ہوں کہ ان کے گھر جاکر وہ زخم کسے دکھاؤں گا جو ان کے انتقال سے سینے پر لگا ہے۔۔۔سوچا کیوں نہ ان
Read moreاس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے تھے!
آوارہ گرد فریب سود و زیاں سے گزرے ہوئے لوگ ہوتے ہیں، ان کے مشاہدے اور تجربے کو کسی کتابی علم سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، بیشمار آوارہ گرد عمر بھر میرے ساتھ رہے، کیونکہ میں نے بھی آوارہ گردی کے سوا کوئی منفعت بخش کام نہیں کیا، یہ آوارہ گردی کا اعجاز ہی تھا کہ حبیب جالب جیسے بڑے لوگ بھی میرے مہربان رہے جالب صاحب سفید کرتے پاجامے پر سلوکہ پہنتے تھے (جس کی بڑی بڑی جیبیں
Read more



