اب نہیں آئے گا گلیوں میں غبارے والا


’کھلونے‘ نظم برطانوی شاعر Coventry Patmore کی تخلیق ہے جس میں ایک بچہ اپنے باپ سے بڑوں کی طرح بات کرتا ہے۔ باپ کو بچے کا یہ رویہ ناگوار لگتا ہے۔ بیٹے کی ساتویں بار نافرمانی پر باپ اسے پیٹتا ہے اور معمول کا بوسہ لیے بغیر اسے سونے کے لیے کمرے میں بھیج دیتا ہے۔ بچے کی ماں کب کی فوت ہو چکی ہے۔

ضمیر کی خلش باپ کو چین سے سونے نہیں دیتی۔ اسے ڈر ہے کہ دکھ کے باعث بچے کی نیند میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔ وہ اسے دیکھنے اس کے کمرے میں جاتا ہے۔ بچہ گہری نیند سو رہا ہوتا ہے۔ اس کے سیاہ پپوٹے اور بھیگی پلکیں گواہی دیتی ہیں کہ بچہ سسکیاں لیتا رہا تھا۔

یہ منظر دیکھ کر باپ کو بہت پچھتاوا ہوتا ہے۔ وہ بچے کو بوسہ دیتا ہے اور خود رونے لگتا ہے۔

بچے کے پاس میز پر کچھ کھلونے پڑے ہیں۔ انہی کھلونوں نے بچے کو دکھ میں سہارا دیا تھا۔

نظم میں بچپن کے دل لبھانے والے رنگ اور دکھ گندھے نظر آتے ہیں۔ باپ سے مار کھانے کے بعد دکھی بچہ اپنے سادہ سے کھلونوں سے دل بہلاتا ہے۔ کھلونے اس کے دکھ کو سکھ میں بدل دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔

اس کے میز پر گوٹیوں کا ڈبہ، ایک سرخ پتھر، ساحل سے ملنے والا شیشے کا ٹکڑا، چھ سات گھونگھے، ایک بوتل اور چند سکے پڑے ہیں۔ بڑوں کے لیے بیکار اور فضول چیزیں بھی بچوں کے لیے کھیلنے اور خوشی کشید کرنے کا سامان ہوتی ہیں۔

نظم پڑھتے ہوئے مجھے اپنے بچپن کا وہ وقت یاد آیا جب ہم معمولی چیزوں سے گھنٹوں کھیلا کرتے تھے۔ کیسے ان چیزوں کو سنبھال رکھتے تھے۔ سگریٹ کی خالی ڈبیوں کو چن کر ان کی تاش بنا لیتے تھے۔ وہی تاش ہمارے کرنسی نوٹ بھی ہوتے تھے۔ موٹر سائیکل کے پرانے ٹائر ہماری گاڑیاں بن جاتے۔ مٹی کے ٹوٹے گھڑوں کے ٹکڑے ہماری گائیں بھینسیں ہوتیں اور درختوں کے جھڑے پتے ان کا چارہ۔ ماچس کی خالی ڈبیا میں دھاگا ڈال کر ہم ٹریکٹر ٹرالی بنا لیتے۔ پرانی اخباروں سے تصویریں کاٹ کر ٹی وی ڈرامہ چلا لیتے اور فلمی اشتہار کاٹ کر سینما چلنے لگتا۔ غرض یہ کہ کوئی بھی چیز ہاتھ لگتی تو ہمارا کھلونا بن جاتی۔ یہ سبھی کے بچپن کا حسین تجربہ ہے۔ یہ عالمگیر حقیقت ہے۔

اس نظم میں باپ خدا کی علامت ہے اور بچہ انسان کی۔ گھر میں باپ کا حکم چلتا ہے۔ وہ طاقتور ہے۔ اس کے سامنے بچہ کمزور، لاچار اور بے بس ہے۔ جیسے فطرت کے سامنے انسان بے بس سی مخلوق ہے۔ فطرت اسے کچل سکتی ہے اور دکھ دے سکتی ہے۔ انسان ایک بچے کی طرح آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ یا پھر اپنا غم بھلانے کے لیے ادھر ادھر کھلونوں میں دل بہلا سکتا ہے۔ شیکسپئیر نے بھی کہا ہے کہ ہم انسان خدا کے ہاتھوں میں ایسے ہی ہیں جیسے چنچل بچوں کے ہاتھوں میں تتلیاں۔ وہ اپنے کھیل کھیل میں ہی انہیں مسل ڈالتے ہیں۔

کھلونے اس خوشی، مشغلے یا کام کی علامت ہیں جن میں مصروف رہ کر انسان اپنا دل بہلاتا ہے اور وقت کاٹتا ہے۔ کھلونے زندگی کے ان ذرائع کا استعارہ ہیں جن سے خوشی نصیب ہوتی ہے۔

بچے کی نیند، غفلت و لاپرواہی اور نا فرمانی انسان کی اس قدرتی اور ازلی جبلت کی علامت ہے جس کے ساتھ وہ پیدا ہوتا ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ غلطی کرنا اس کی سرشت میں شامل ہے۔

باپ بچے کو سزا دیتا ہے اور غصے کے منفی جذبات سے گزرتا ہے۔ بچے کو دکھ دینے کی وجہ بنتا ہے۔ اس کے برعکس بچہ عام سی چیزوں سے خوشی سمیٹ لیتا ہے۔ ہم جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا لطف لینا چھوڑ دیتے ہیں اور منفی جذبوں کو پالنے میں لگے رہتے ہیں۔

یہ نظم پڑھنے کے بعد میں مائرہ کے کھلونوں سے بھرے بیگ کا جائزہ لینے لگا۔ بیٹی کی عمر پانچ سال ہونے کو ہے۔ نئے کھلونوں کے علاوہ چند پرانی اور استعمال شدہ چیزوں کے لیے ایک الگ پرانا بیگ بنا رکھا ہے۔ وہ پرانا سکول بیگ ہے۔ اس میں ناکارہ موبائل فون ہے جس کی اسکرین پہ دراڑیں ہیں۔ میک اپ کا پرانا سامان ہے جس میں لپ اسٹک، نیل پالش، ٹیلکم پاؤڈر وغیرہ کی ڈبیاں ہیں۔ ایک عدد اسٹڈ کی خالی ڈبیا ہے۔ ایک گھڑی ہے جو وقت نہیں بتاتی۔ ایک عینک ہے جس کی کمانی ٹوٹی ہوئی ہے۔ ایک پرانا ٹوتھ برش بھی ہے جس سے شاید گڑیا کے دانت صاف ہوتے ہیں۔ کھلونا گاڑی کے ٹائر ہیں۔

ایک کنگھی اور ایک چھوٹا سا آئینہ ہے جس میں شکل دیکھنے کے لیے کافی غورو خوض کرنا پڑتا ہے۔ گڑیا کے کچن کے لیے کٹوری، پلیٹ، چمچ اور دیگچی بھی ہے۔ بیگ میں ایک بادام بھی پڑا ہے۔ اس کا نہ جانے مائرہ کیا کرتی ہے۔ کسی موبائل کے رنگ برنگے کور بھی ہیں۔ موبائل کب کا ختم ہو چکا اس کے کور رہ گئے۔

اس کے علاوہ انگوٹھی، ہینگر، کی رنگ، بلاکس پلاسٹک کی ٹوٹی ہوئی گن، جینز سے اترے چمڑے کے ٹیگ، پرانی سی ڈی، گڑیا کا فراک، پرانی ایوو ڈیوائس، بیوٹی کریم کی خالی ڈبیہ، شاپنر پنسل، پچھلی کلاس کی چند کتابیں اور کاپیاں، دو چار بنٹے اور نہ جانے کیا کیا بستے میں رکھا تھا۔ یہ سب چیزیں ہمارے لیے بھلے بے کار ہوں لیکن مائرہ کو بے حد عزیز ہیں۔ جب ان چیزوں سے کھیلتی ہے تو اسے یقیننا انمول خوشی ملتی ہے۔

نظم ’کھلونے‘ پڑھنے والوں کے دل و دماغ میں نئے خیالات کے بیج بوتی ہے۔

بعض اوقات انسان جس سے محبت کرتا ہے، جسے پوجتا ہے اسی سے غم اور دکھ ملتے ہیں۔

جس ذات سے وجود جڑا ہو وہی ذات hurt کرتی ہے۔

ایک بچے کے لئے باپ محبت و شفقت کا پیکر ہوتا ہے جو بچے کا سہارا ہے۔ ہر مشکل میں ساتھ دینے والا اور آسانیاں بانٹنے والا۔ اگر وہی باپ بچے کو بے دردی سے پیٹنے لگے تو بچہ کہاں پناہ ڈھونڈے؟

جلد بازی اور غصے پر پچھتانا بھی انسانی فطرت ہے۔

انسان بھی ایک بچے کی طرح دنیا کے جھمیلوں میں الجھ جاتا ہے۔ کھلونوں میں بہل جاتا ہے۔

انسان سکون کا متلاشی ہے۔ خوشی کا طلبگار ہے۔ پابندی اور قید کو فطری طور پر پسند نہیں کرتا۔ اس سے خطائیں سرزد ہوتی ہیں۔ یہ اس کی فطرت ہے۔ اس میں اس کا کیا قصور؟

معاف کر دینا باپ کی خصلت ہے۔ خدائی صفت ہے۔

Facebook Comments HS

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti