آپ مرد بنیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشاپنگ سینٹر میں آویزاں اس مخلوق کی قدآور مگر دانستہ بے چہرہ کیے جانے والی تصاویر دیکھ کر مجھے چند سال قبل پیش آنے والا واقعہ یاد آگیا کہ کس طرح ”جذبہ ایمانی“ سے لبریز جوان و بزرگ افراد کے کچھ جتھے شہر بھر کے ایڈورٹائزنگ بورڈز پر موجود اسی ایک ”خاص مخلوق“ کی تصاویر پر سیاہی پھینکنے میں مصروف تھے۔

سیاہی پھینکنے والے ان حضرات کا یقین کامل تھا کہ ایڈورٹائزنگ بورڈز پر موجود اس مخلوق کا چہرہ نظر آنے سے ان کی دنیا و آخرت خطرے میں ہے، معاشرہ خطرے میں ہے، اسلام خطرے میں ہے۔

یہ تصاویر آخر کس مخلوق کی تھیں؟

یہ تصاویر ”عورت“ نام کی مخلوق کی تھیں تو یہ طے کیا گیا کے یہ عورت ایک نہایت بھیانک اور خطرناک مخلوق ہے۔ لہذا شہر بھر میں ہر اس تصویر پر جس میں اس عورت نام کی مخلوق کا چہرہ نظر آ رہا ہے اس پر سیاہی کا پردہ ڈال دینا چاہیے۔

اس واقعہ کو کچھ سال گزر گئے ہیں مگر اب بھی اس مخلوق کے حوالے سے سوچ بھی وہی ہے ذہنیت بھی وہی ہے۔ بس اب اس خطرناک مخلوق کے چہرے پر سیاہی کے بجائے سفیدی کا پردہ ڈالا جا رہا ہے۔

ویسے سوچا جائے کہ جس مخلوق کی تصویر معاشرے کے لئے اتنی خطرناک ہے وہ بذات خود کتنی خطرناک ہو گی۔ لہذا تمام اہل ایمان مرد حضرات کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں موجود اس عورت نام کی مخلوق جو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں موجود ہے اور معاشرے کو ناقابل تلا فی نقصان ہہنچا رہی ہے اسے نذر آتش کردیں۔ خداوند تعالی روز آخرت ضرور اجر دے گا (ہا ں اجر میں ملنے والی عورت سے مشابہت رکھنے والی ستر حوروں کے لئے نامنظور، نامنظور کے نعرے بلند کر کے خداوند تعالی کے حضور اپنا احتجاج ضرور ریکارڈ کروائیے گا کہ جس کا چہرہ عارضی دنیا میں باعث فساد تھا اس کا اس جنت الفردوس میں بھلا کیا کام) ۔

مہذب دنیا محو حیرت ہے کہ آج کے دور میں بھی پردے کے نام پر اس درجہ جہالت کا اس دیدہ دلیری کے ساتھ مظاہرہ کیسے ممکن ہے۔ ذہنی پسماندگی کی یہ انتہا بے حد افسوسناک ہے۔

اور بات ان چند جتھوں کی ہی نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی پائی جاتی ہے کہ جو مسجد کے منبر پہ ہوں یا گلی کے نکڑ پر، بابوؤں کی طرح ٹھنڈے دفاتر میں پینٹ کوٹ میں ملبوس ہوں یا گرم دکانوں میں لمبی داڑھیوں کے ساتھ ”کاروبار گلشن“ چلا رہے ہوں، انٹر نیٹ پر قابل اعتراض ویب سائٹ دیکھ رہے ہوں یا کسی انجان خاتون کو فیس بک پر فرینڈ ریکوسٹ بھیج رہے ہوں لیکن پردہ نہ کرنے والی خواتین کے خلاف حسب توفیق اور حسب طاقت زہر اگلنا اپنے مذہبی ایمان کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔

کاش یہ توانائی اور جذبہ کسی بامقصد کام میں صرف کیا گیا ہو تا تو آج ہم بھی اقوم عالم میں سر ا ٹھا نے کے قابل ہوتے۔

ذرا سوچئے دنیا تاریخ کے کس دور سے گزر رہی ہے اور ہم کس معاشرے میں زندگی گذار رہے ہیں۔ اقوام عالم کے عزت اور وقارکے پیمانے کیا ہیں اور ہماری ترجیحات کیا ہیں؟

ہماری انہی حرکات و اوصاف کے باعث ہم اکیسویں صدی میں کسی چوپائے کی طرح داخل ہو ریے ہیں۔

کیا یہ ذہنی و اخلاقی گراوٹ کی انتہا نہیں ہے کہ مذہب کی آڑ میں یہ چھوٹے دماغ والے مرد حضرات ان خواتین کو مسلسل اورقدم قدم پر اپنی جہالت کا نشانہ بناتے ہییں جنہوں نے معاشرے کی سنجیدہ ذمہ داریوں کو قبول کرتے ہوئے پردے جیسی غیر فطری اور غیر انسانی روایت کو مسترد کردیا ہے اور اب ان خواتین کو پردہ نہ کرنے کے جرم میں قدم قدم پر وحشیانہ مردانہ تعصب پر مبنی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یقیناً مردوں کی اس جعلی مردانگی کی داد دینے والوں میں ایک کثیر تعداد ان خواتین کی بھی ہے جنہوں نے خود کے مکمل انسان نہ ہونے پر یقین کر تے ہوئے پردے جیسی روایت کو اپنا اول و آخر اور واحد فرض سمجھ لیا ہے اور ہمیں پردے کی عظمت کے قصے سناتے ہوئے یہ گمان کرتی ہیں کہ انھیں اس لا یعنی حرکت پر عزت وتکریم کی تمام ڈگریاں پیش کردی جائیں۔

ان خواتین کو چاہیئے کہ اب ہوش کے ناخن لیں اور پردے کی آڑ میں مکرو فریب کے بے مقصد اور طویل دورانیے کے ڈرامے کو بند کردیں۔ روایتی مشرقی معصومیث اور پردے کو لے کر شرم و حیا کے قصے بنانے اور سنانے سے قوم کا وقار ہر گز بلند نہیں ہونے والا۔ پردے سے جڑی کھوکھلی اخلاقیات اور منافقت سے ہر باشعور انسان بخوبی واقف ہے۔

جھوٹ اگر زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے تو سچ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت اور جب جھوٹ سے کوئی راہ نہ نکل رہی ہو تو سچ کو مان لینا کو ئی بری بات نہیں اور سچی بات یہ ہے کہ کون نادان نہیں جانتا کہ پردے کے پیچھے اور پردے کی آڑ میں ہمارے معاشرے میں کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔

تاہم پردے کو لے کر ان خواتین و حضرات کے رویوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ قوم کی ترقی و خوشحالی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ چہرہ نہ چھپانے والی خواتین ہی ہیں کہ گویا بے پردہ خواتین نے اگر پردہ کرنا شروع کردیا تو وطن عزیز میں تعلیم کی شرح 30 فیصد سے 100 فیصد ہو جائے گی۔ پردے کی برکت سے ملک میں بیروزگاری اور بیروزگاری سے جڑے تمام جرائم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ خواتین کے پردہ کرنے کے باعث ملک میں بھوکا سونے والے 60 فیصد عوام اور غذائیت سے محروم لاکھوں بچوں کا مستقبل سنور جائے گا۔ جعلی ادویات اور منشیات کا تو وجود ہی ختم یو جائے گا۔ بس ایک دفعہ پردے کا نفاذ ہو جائے تو عوام کو حق حکمرانی بھی مل جائے گا اور غیر ملکی قرضوں کا خاتمہ بھی ہو جائے گا یوں ہم دنیا کی نظر میں بھکاری قوم کے بجائے غیرت مند قوم کہلائیں گے۔

یقین کیجئے ان خواتین و حضرات کی پردہ داری پر کمٹمنٹ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عورتوں کا پردہ ہماری مذہب اور فرقوں میں بٹی ہوئی قوم کو یو ں ایک لڑی میں پرودے گا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال ایک دفعہ پھر کہہ اٹھیں گے۔

” ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمودوایاز“

یہ الگ بات کے ڈاکٹر اقبال کو تب بھی محمودوں اور ایازوں کی صفوں میں نہ پردے والیاں نظر آئیں گی نہ بے پردے والیاں صرف ”والے ہی والے“ نظرآئیں گے کیوں کے شیخ و شاہ کی نظر میں قوم صرف مرد ہوتی ہے۔ عورت تو کوئی نجس سی چھپانے والی، پردہ ڈال دینے والی چیز ہے۔

۔ ایسے تمام مرد حضرات جن کی معاشرتی اخلاقیات کی حدیں عورت کی نیل پاش سے شروع ہو کر عورت کے دوپٹے پر ختم ہوتی ہے۔ جن کا اسلام عورت سے شروع ہوکر عورت پر ختم ہوتا ہے ان سے گذارش ہے کہ اخلاقیات، شرم، غیرت اور حیا کا تعلق قطعأ پردے جیسی دقیانوسی رسم سے ہے اور نہ ہی ہو سکتا یے۔ شرم، غیرت اور حیا جیسے اعلیٰ اقدار کا تعلق انسان کے ذہن اور روح میں موجود جھوٹ فریب، سچائی، منافقت، بے حسی، رواداری، انسان دوستی اور حقیقی انصاف ہسندی جیسے اوصاف سے ہوتا ہے۔

لٹھ لے کر عورتوں کے پیچھے پڑ جانے ولے مردحضرات سے گذارش ہے کہ قوم کے حق میں بہتر یہ ہی ہے کہ وہ جاگیردارانہ سماج کی بخشی ہوئی مردانہ أنا سے جان چھڑواتے ہوئے اپنی انسانی صلاحیتوں پر بھروسا کرنا سیکھیں۔ پردے کی آڑ میں عورتوں کی زندگی کو کنٹرول کر نے اور ان کی انسانی آزادیوں کو سلب کرنے کے بجائے عورتوں کو انسان سمجھنا شروع کریں۔ بحثیت انسان جو ان کا حق ہے وہ دینا شروع کریں۔ عورتوں کو جاگیر سمجھنے کے بجائے ان کی عزت کرنا سیکھیں

براہ کرم یہ فیصلہ عورتوں پر ہی چھوڑ دیجئے کہ انھیں کب کیا پہننا ہے اور کیا اوڑھنا ہے۔ کیونکہ یہ عورتوں کے کام ہیں اور وہ ہی بہتر فیصلہ کرسکتی ہیں۔ اور آپ۔ آپ مردوں والے کام شروع کیجئے۔ جو بلاشبہ کٹھن ضرور ہیں مگر ناممکن نہیں۔

آپ معاشرے میں ہونیوالے بھیانک جرائم کے خلاف آوازاٹھانا شروع کردیں کیوں کہ آپ ایک ایسے ملک میں سانس لیتے ہیں جہاں ہر 40 منٹ بعد ایک عورت، ایک بچی یا ایک بچہ جنسی تشدد کا نشانہ بنتا ہے۔ جہاں ہر 48 گھنٹے بعد ایک عورت کے چہرے پر تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ جہاں ہر 6 گھنٹے بعد نام نہاد غیرت کے نام ہر ایک عورت قتل کردی جاتی ہے۔

جہاں شاہراؤں سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ تک، گھر کی چار دیورای سے جدید درس گاہوں تک، مساجد سے لے کر مدرسوں تک، دفاتر سے لے کر پارلیمان کہیں بھی کو ئی عورت محفوظ ہے نہ پھول جیسے بچے۔

ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جہاں 70 فیصد بچے اسکولوں سے محروم ہیں۔

جہاں اندرون سندھ اور اندرون پنجاب لاکھوں مرد، بچے اور خواتین وڈیروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں بدترین و ناقابل بیان استحصال کا شکار ہیں۔ جہاں منشیات سب سے منافع بخش کاروبارہے۔

جہاں جعلی ادویات انسان اور انسانیت دونوں کو نگل رہی ہے۔ جہاں غربت کا عفریت ہر اک اچھائی کو نگل رہا ہے۔ جہاں دولت اور طاقت کا وحشیانہ استعمال ہوتا ہے۔ جہاں قدم قدم پر انفرادی، اجتماعی اور ریاستی سطح پر انصاف و قانون کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں۔ جہاں قدم قدم پر انسانی حقوق روندے جاتے ہیں۔

عورتوں کے پردے کی آڑ میں معاشرے کے ان حقائق سے پردہ پوشی مردانگی نہیں ہے۔ آپ مذہبی سوداگروں اور مداریوں کے ہاتھوں دولے شاہ کے چوہے بننے سے انکار کردیں کہ مہذب و باوقار معاشرہ آپ سے حقیقی انسان اور مکمل مرد بننے کا تقاضہ کررہا ہے۔ سو آپ اپنے فرائض پہچانیں اورانسان بنیں، مرد بنیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •