استقبالِ ماہِ رمضان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خالقِ کائنات نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق عبادت کا مکلف کیا اور اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔ دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے۔ حقیقت میں دونوں اپنی ضروریات و تسکین کی محتاج ہیں۔ اللہ رب العزت نے جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا کہ تمام تر اناج غلّہ پھل اور پھول وغیرہ زمین سے اُگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے کیا۔ سال کے گیارہ مہینے جسمانی ضروریات اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء سے پوری کی جاتی ہیں جبکہ روح کی غذا ئی ضروریات کو پوراکرنے کے لیے ایک مہینہ مقرر کیا گیا جسے رمضان کا مہینہ کہا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر روزہ رکھنا فرض کیاگیا تھاتاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورہ البقر: 183 )

ماہِ رمضان کو رمضان کہنے کی متعدد وجوہ ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رمضان ”رمض“ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں : جلادینا۔ ماہِ رمضان چونکہ گناہوں کوجلا دیتا ہے، اس لیے اسے رمضان کہا جاتا ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رمضان کو رمضان کیوں کہا گیا؟ (رمضان کو رمضان ) اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔ (کنز العمال: 24293 )

اللہ رب العزت نے ماہِ رمضان کو عفو، مغفرت، بشارت، رضا، سرور اور قبولیت کے ساتھ خاص کیا۔ اس نے روزے داروں کو اپنی رحمت سے اجرِ عظیم دینے کا وعدہ کیا۔ اس عظیم مہینہ کی آمد سے قبل رسول اللہ ﷺ خاص طور پر اہتمام فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو اس کی اہمیت اور فضیلت سے آگاہ فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ماہِ رمضان کی آمد سے پہلے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آنے والا ہے۔

۔ پس اس میں نیتوں کو درست کرلو، اس کی حرمت کی تعظیم کرو، بے شک اللہ کے نزدیک اس مہینہ کی بہت حرمت ہے، اس کی حرمت کو پامال مت کرو۔ (کنز العمال: 24268 ) ۔ اسی طرح ایک مرتبہ ماہِ شعبان کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ماہِ رمضان کی عظمت، فضیلت و اہمیت کے ساتھ ساتھ نیکیوں کی جانب رغبت دلاتے ہوئے مسلمانوں کوثواب کا مژدہ سنایا۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، یہ مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالی نے اس کے روزوں کو فرض قرار دیا اور رات میں قیام کرنے کو نفل قراردیا، اس مہینہ میں جس شخص نے نفل عمل کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینہ میں فرض اداکیا اور جس شخص نے اس میں ایک فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینہ میں ستر ( 70 ) فرائض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے۔

یہ غمخواری کا مہینہ ہے، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتاہے، اس مہینہ میں جس نے ایک روزہ دار کو افطار کروایا وہ اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے آزادی کا سبب ہے اور اسے اس روزہ رکھنے والے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے ثواب میں بھی کمی نہ ہوگی۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت کاہے، درمیانی حصہ مغفرت کاہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی کاہے۔ (شعب الایمان للبیہقی: 3336 )

رمضان ایسا پیار امہینہ ہے جس کے استقبال کے لئے آسمان پر بھی تیاریاں ہوتی ہیں اور جنت سجائی جاتی ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺفرماتے ہیں :ماہ رمضان کے استقبال کے لیے یقیناًسارا سال جنت سجائی جاتی ہے۔ اور جب رمضان آتا ہے تو جنت کہتی ہے کہ یا اللہ اس مہینے میں اپنے بندوں کو میرے لیے خاص کردے۔ (مجمع الزوائد : 4796 )

حضور نبی کریم ﷺ کا استقبال ماہِ رمضان المبارک کا انداز یہ ہوتا تھا کہ آپ ﷺ ماہِ رجب کے شروع میں دعا فرمایا کرتے تھے : اللہم بارک لنا فی رجب و شعبان وبلغنا رمضان (اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لیے برکت فرما اور (خیریت کے ساتھ) ہم کو رمضان تک پہنچا۔ (المعجم الاوسط: 3939 ) اور جب ماہِ شعبان شروع ہوجاتا تھا تو آپ ﷺ کثرت سے روزے رکھاکرتے تھے یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ شروع ہوجایا کرتا تھا۔

اسی طرح آمد ماہِ رمضان سے قبل آپ ﷺ صحابہ کرام کو بھی نفل روزے کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منبر پر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺماہ رمضان سے قبل منبر پر فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کے روزے فلاں فلاں دن سے شروع ہوں گے اور ہم اس سے قبل (نفلی) روزہ رکھ رہے ہیں، جو چاہے پہلے روزہ (نفلی) رکھے اور جو چاہے رمضان تک تاخیر کرلے۔ (سنن ابن ماجہ: 1647 ) یعنی کوئی چاہے تو اپنے آپ کو رمضان المبارک میں روزے رکھنے کے لیے پہلے ہی سے تیار کرلے اور ماہِ شعبان میں ہی روزے رکھنا شروع کردے تاکہ رمضان المبارک میں فرض روزے رکھنے میں دشواری اور سستی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جب ماہِ رمضان المبارک اپنی مبارک ساعتیں اور رحمتیں برساتا ہوا سایہ فگن ہوتا تو آقا حضور نبی کریم ﷺ کے معمولات میں تبدیلی رونما ہوجایا کرتی تھی۔ آپ ﷺکثرت سے عبادت میں مشغول ہوجا تے تھے۔ چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہعنہا سے مروی ہے :جب ماہ رمضان شروع ہوتا تو رسول اللہﷺکا رنگ مبارک متغیر ہو جاتا، آپ ﷺکی نمازوں میں اضافہ ہوجاتا، اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کرتے اور اس کا خوف طاری رکھتے۔

(شعب الایمان للبیہقی: 3352 ) اور آپ ﷺ اس بابرکت مہینہ کی آمد کی خبر اس طرح دیا کرتے تھے :بے شک تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ یہ مہینہ مبارک مہینہ ہے جس کے روزے اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کردیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ (سنن نسائی: 2106 ) اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مقول ہے کہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا تو آپ فرماتے : ایسے مہینے کا آنا مبارک ہو جس میں صرف بھلائی ہے، اس کے دن میں روزہ اور رات میں قیام ہوتا ہے۔ اس میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے مترادف ہے۔ (غنیۃ الطالبین) ۔ اللہ رب العزت ہمیں بھی رمضان المبارک کی ساعتوں کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •