عمران خان کی پریشانی اور دماغی صحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ایک پریشان کن خبر پڑھ کر ہم دیار غیر میں بھی ٹینشن میں بیٹھے ہیں۔ پہلے آپ بھی خبر پڑھ لیں تاکہ دیار یار میں آپ ہم سے بھی زیادہ پریشان ہو سکیں۔

صدر پاکستان عارف علوی نے بتایا ہے کہ عمران خان ملک کی حالیہ صورتحال پر کافی پریشان ہیں۔ ان کی پریشانی اس قدر زیادہ بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے صبح کی واک کرنا تک چھوڑ دی ہے۔ ”میں نے بارہا کہا ہے کہ ورزش آپ کی دماغی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے، آپ خود کو ایکٹو رکھیں۔ جس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہم چیزوں کو جیسے دیکھتے تھے، یہ ویسی نہیں ہیں۔ ہمارا تین ماہ کا پلان فیل ہو گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملکی حالات بھی آج تک ٹھیک نہیں ہو پا رہے اور نہ چیزوں پر کہیں کوئی عملدرآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ “

آج سے چالیس پچاس برس قبل سے ہی عمران خان فٹنس کو نہایت اہمیت دیتے رہے ہیں۔ پرانے وقتوں میں وہ دس دس کلومیٹر دوڑ لگایا کرتے تھے۔ اب بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ پیروں پر کئی کئی کلو وزن باندھ کر دوڑتے تھے۔ اگر ایسا شخص جسے فٹنس کا نشہ ہو وہ یکلخت دوڑنا تو کجا واک تک چھوڑ دے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ واقعی پریشانی والا ہے۔

محترم صدر پاکستان ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر ہیں اور ان کی بات کا وزن اس لئے بھی بہت زیادہ ہے کہ ان کی سپیشلائزیشن ہی دماغ سے ملحقہ جسمانی حصے میں ہے۔ ان کی بات کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا ہے۔ حالات و قرائن بھی کچھ اسی طرح اشارہ کر رہے ہیں کہ ان کی تشخیص درست ہے۔

ہم خود اس بات کے گواہ ہیں کہ باقاعدگی سے ورزش نہ کرنے کے سبب دماغی صحت شدید متاثر ہوتی ہے کیونکہ اکثر ہمیں بھی اپنی دماغی صحت کے متعلق باتیں سننی پڑتی ہیں۔ یہ سوچ سوچ کر ہی دل ہول رہا ہے کہ اگر ہمارے جیسی مشکوک دماغی صحت والا شخص پاکستان کا حکمران ہو تو عوام کی کیا حالت ہو جائے گی۔ وہ تو تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ ان کی جاب جاتی رہے گی۔ ان کے کاروبار ختم ہو جائیں گے۔ معیشت تباہ و برباد ہو جائے گی۔ قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ دوست ملک دوست نہیں رہیں گے۔ شکر ہے کہ عمران خان دوڑ لگانے کے باعث قوم کو ان ہولناک مصائب سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں جو ہمارے وزیراعظم بننے کے سبب اسے پیش آ سکتے تھے۔

جہاں تک پریشانیوں کی بات ہے تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر تین ماہ کا پلان فیل ہو گیا ہے تو نیا بنا لیں۔ بلکہ ہر ہفتے ایک نیا پلان بنا لیں۔ اس میں کیا جاتا ہے؟ ویسے بھِی بڑے لیڈر یو ٹرن لیا کرتے ہیں۔ ملکی حالات کی بات کی جائے تو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان گزشتہ 72 برس سے نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، اس میں ایسی نئی بات کیا ہے کہ اس کی ٹینشن لی جائے؟ چیزوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر تو ٹینشن لینے کی بجائے خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اگر کچھ کیے بغیر ہی ایسے حالات ہو گئے ہیں تو خدانخواستہ کچھ کرنے کی صورت میں ملک کا کیا حال ہو گا؟ ہماری مانیں تو عمران خان بلاتوقف صدر محترم کے مشورے پر عمل کریں اور فوراً دوڑ لگا دیں تاکہ ان کی دماغی صحت اور ملکی حالات میں بہتری آئے۔

عمران خان سخت پریشان ہیں، صبح کی واک تک چھوڑ دی ہے: صدر مملکت عارف علوی

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1136 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar