نواز اندر، شہباز باہر، میاں لطیف اور رانا تنویر وغیرہ


تین عشروں سے زائد پاکستانی سیاست پر چھائے نواز شریف کے ذکر کے بغیر آج بھی کاروبار سیاست میں کوئی جاذبیت، کشش اور گرم جوشی نہیں۔ جب سے فیصلہ کن قوتوں نے نواز شریف کو ان کی گستاخی پر سیاسی حوالے سے نشانِ عبرت بنانے کی شعوری اور بڑی حد تک احمقانہ کاوشوں کا آغاز کیا ہے، تب سے ان کی سیاست اور سیاسی کردار مزید اہم، دو ٹوک اور فیصلہ کن ہوتا جا رہا ہے۔

مقتدر اداروں کی چاکری کرنے والے صحافت کے پیشے سے منسلک درباری اور کاسہ لیس پانامہ کے ہنگامے کے وقت سے ہی نواز شریف کی سیاست کے خاتمے کی خوش خبری سنا نے پر مامور ہیں مگر الیکشن کا میدان ہو، عدالت کا ایوان ہو، عوامی و کاروباری حلقے ہوں، ملکی و قومی فضا ہو یا بین الاقوامی منظر نامہ ہو;ہر بار صحافت کے روپ میں منمناتی کالی بھیڑوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ خاص طور پر اس صحافی کو تو چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے جس نے نواز شریف کی ممکنہ ڈیل کی خبر بریک کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف نے اپنی رہائی کے بدلے حکومت کو ایک خطیر رقم دینے پر آمادگی ظاہر کر لی ہے۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی ہے۔ اس طرح ڈیل اور ڈھیل کی تمام خبریں اپنی موت آپ مر گئیں۔ اس سے قبل انہوں نے ان کے ووٹ کو عزت دو کے مشہور بیانیے پر سوال اٹھائے جانے پر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیانیے میں رتّی برابر فرق نہیں آیا۔ جو لوگ ایک عرصے سے میاں صاحب کی سیاست کی فرمائشی خاتمے پر بغلیں بجاتے آئے ہیں آج ان کا اپنا بینڈ بج گیا ہے۔ کوئی میدان ہو، کوئی فورم ہو، کوئی محفل ہو، کوئی اخبار ہو، کوئی چینل ہو، کوئی شہر ہو میاں نواز شریف کے تذکرے کے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔

نواز شریف ملکی سیاست پر ہی نہیں نئے پاکستان کی بے ربط اور بور فلم کے پروڈیوسروں، ڈائریکٹروں، اداکاروں اور معاونین کے اعصاب پر بھی بری طرح چھایا ہوا ہے۔ ن لیگ کی تنظیمِ نو کے مرحلے پر خواجہ سعد رفیق کو پارلیمانی لیڈر اور رانا تنویر کو پی اے سی کا چئیرمین مقرر کیے جانے پر میاں عبداللطیف کے ہلکے پھلکے تبصرہ نما شکوہ پر آج وہ لوگ بھی ن لیگ میں دراڑیں پڑنے کی پھبتی کس رہے ہیں جو حکومت میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے باہم متصادم ہیں۔ اس حوالے سے لال حویلی کے لال بجھکڑ ان گنت مرتبہ ن لیگ کے ٹوٹنے کی پیشن گوئی کر کے رسوا ہو چکے ہیں کیونکہ ہر بار ان کی پیشن گوئی یاوہ گوئی ہی ثابت ہوتی رہی ہے۔

میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کے مسترد ہونے سے بظاہر یہی دکھائی دے رہا ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کے حامل بیانیے کا سفر ابھی کئی کٹھن مراحل سے گزرے گا ا اور اس میں دو چار نہیں بہت سے سخت مقامات آئیں گے۔ مریم نواز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف استعماری طاقتوں سے کوئی ڈیل کر کے عوام کا سر جھکنے نہیں دیں گے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کر ے گا کہ مریم نواز درست ہیں یا غلط البتہ صدرِ پاکستان کے حالیہ انکشاف کے مطابق نئے پاکستان کی بنیادیں رکھنے کے دعویدار وزیر اعظم صاحب آغازِ سفر ہی میں بری طرح ہانپنے لگے ہیں۔ غریب عوام پر پے در پے مصائب و آلام کے پہاڑ توڑنے والے چار سو کنال کے محل میں فروکش یہ صاحب عوام کے غم میں گھل گھل کر آدھے ہو گئے ہیں۔ وہ جو شاعر نے کہا تھا کہ

ہجر میں تیرے گھل گھل کے آدھا ہو گیا
لے مسیحا! اب میں مُوسا ہو گیا (موسا مراد بالی کی طرح باریک)

کچھ ایسی ہی صورت حال آج کل نئے پاکسان کے بانی کی بھی ہے۔ کنٹینر کی بڑھک بازی اور ڈراما بازی حکومت میں آنے کے بعد جب حقائق سے متصادم ہوتی ہے تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے۔ وہ دل ہی دل میں کنٹینر پر کھڑا کرنے والوں کو کوستے ہوں گے۔ ابھی تو وزیراعظم صاحب کی مارننگ واک ختم ہوئی ہے، جس طرح ن لیگ کی تنظیم نو کے حوالے سے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ کپتان صاحب کی جلد ہی سٹّی بھی گم ہونے والی ہے۔

Facebook Comments HS