صحافتی جدوجہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل ضیا الحق کے بدترین مارشل لاء دور میں جب ہر طرف ظلم و بربریت کا بازار گرم تھا۔ جنرل ضیا نے الیکٹرانک میڈیا کو زنجیروں میں جکڑ دیا تھا۔ کسی کو سر اٹھانے کی جرات نہیں تھی۔ کوئی قلمکار اپنے قلم کی نوک سے اس بدترین بربریت کے خلاف لکھنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ ان ہی مخدوش حالات میں جہاں خوف و ہیبت کی فضا قائم تھی وہاں آزادی صحافت کی مہم شروع کی گئی اس سخت ترین آزادی صحافت کی جنگ میں ملک کے نامور ادیبوں، شاعروں، اور صحافیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انھوں نے اس دور میں بھی اپنے قلم کی نوک سے ضیاء الحق کہ تِخت حکومت کو اچھالا اور جواب میں ان کو اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی۔

اس وقت پرنٹ میڈیا کے لکھاری نا تو اپنے اداروں لاکھوں روپے میں بھاری تنخواہ وصول کرتے تھے نا وہ مسلح محافظوں کہ ساتھ لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومتے تھے۔ زیادہ تر صحافی ادیب یا تو سیکینڈ ہینڈ موٹر سائیکلوں یا بسوں میں سفر کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ممتاز شاعر جون ایلیا مرحوم جیسا بڑا نام میرے والد نسیم شاد مرحوم کہ ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہمارے گھر تشریف لائے تھے۔

ہہ بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس وقت کہ ادیب صحافی شاعر اور لکھاری کسی طرح کی اسائشوں سے محروم تھے۔ مگر اس کہ باوجود وہ اپنے محدود وسائل میں نا صرف خوش تھے بلکہ ان مخدوش حالات میں بھی جہاں ان کہ اداروں کی جانب سے ان کو تین تین ماہ بعد تنخواہ ملتی تھی اس پر بھی انھوں نے اپنے قلم کی حرمت کو پامال نا ہونے دیا۔ اور اپنے قلم کو فروخت نہیں کیا۔ کون سا ایسا ظلم تھا جو ضیاء حکومت نے ان پر نہیں کیا۔ ڈرا دھمکا کر ان کے اداروں سے ان کو جبری نوکریوں سے برخاست کرایا گیا۔

ان کو پابند سلاسل کیا گیا۔ ان کہ قلم کی نوک ٹوڑنے کی کوشش کی گئی۔ گرفتاریاں کرائی گئیں ان پر فوجی عدالتوں پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ مگر قلمکاروں نے قید و بند کی صوبعتیں برداشت کریں۔ کوڑے کھائے۔ طویل مفروریاں کاٹیں۔ مگر ضیا کہ آگے بیت نہیں کی اور آزادی صحافت کے لئے لڑتے رہے۔ ان کہ اہل خانہ نے مالی مسائل کا شکار ہوگئے۔ کئی کئی ماہ بچوں اسکولوں کی فیسیں ادا نا یوسکیں۔ دودھ والے اور راشن والوں مے ان کو مزید ادھار دینے سے انکار کردیا۔

مگر وہ باہمت نڈر بہادر ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ وہ مسلسل نس انصافیوں و ضیا آمریت کے خلاف نا صرف جیل بھرو تحریکیں ّکامیابی سے چلاتے رہے بلکہ ظلم و بربریت کا شکار ہوتے رہے۔ جنرل ضیا نے اپنی طاقت کہ زور پر ملک کہ کئی اخبارات و جرائد کو بند کردیا۔ اور تحریک کہ سینکڑوں ارکان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ اور کچھ زیر زمین چلے گئے اور وہاں سے بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی مگر آمریت کے آگے سر نہیں جھکایا۔ صحافتی آزادی کہ اس قبیلے میں نا صرف صحافیوں بلکہ ممتاز ادیبوں و شاعروں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ممتاز شاعر حبیب جالب مرحوم نے اپنی نظموں کہ ذریعے ضیا الحق کی آمریت کا للکارا اور اس ہی ظلم و بربریت اور سینسر شپ پر جالب نے یہ نظم کہی۔

ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

پتھر کو گوہر، دیوار کو دَر، کرگس کو ہما کیا لکھنا

اک حشر بپا ہے گھر گھر میں، دم گھٹتا ہے گنبدِ بے دَر میں

اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں

اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا۔

جالب صاحب کی اس ہی للکار کی پاداش میں ان کو قید و بند کی صوبعتیں برداشت کرنا پڑیں۔ مگر اس کہ باوجود وہ اپنی جدوجہد سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔ معراج محمد خان مرحوم۔ شوکت صدیقی۔ نثار عثمانی مرحوم احفاظ الرحمن صاحب۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اس آزادی کہ لئے لاتعداد مصائب کا سامنا کیا۔ ان کہ ساتھ ان کہ اہل خانہ نے بھی مخدوش حالت کسپرسی کا سامنا کرا۔ آج کی موجودہ صحافتی برادی اور ٹی وی اینکرز پر نظر دوڑاتا ہوں تو ان میں وہ جنون وہ قلم کی حرمت کا جذبہ نظر نہیں آتا۔

کہاں گئے منہاج برنا صاحب مرحوم۔ کامریڈ معراج محمد خان مرحوم، نثار عثمانی مرحوم، احفاظ الرحمن صاحب اور نسیم شاد جیسے لاتعداد صحافی جنھوں نے ساری زندگی اپنے قلم کی حرمت کو پامال نہیں کیا۔ اہنی صحافت کو زرد نہیں ہونے دیا۔ اب نا جالب ہے نا معراج محمد خان جیسا کامریڈ نا وہ جانباز لکھاری۔ آج صرف چند ایسے صحافی اور لکھاری رہ گئے ہیں جو آج نامناسب حالات میں بھی کسی نا کسی طرح جدوجہد کررہے ہیں مگر ان پر بھی غداری اور لفافے کہ فتوے لگائے جاتے ہیں۔

اور آزادی صحافت کی وہ ٹیم جس نے ضیا دور میں صحافت کو آزاد کرایا اس کی بربریت کے خلاف جدوجہد کری ان میں سے بہت سارے عالم برزخ پہنچ چکے ہیں اور جو حیات ہیں وہ عمر کہ اس حصہ میں بھی اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے جن میں ایک نام احفاظ الرحمن صاحب کا ہے۔ جو آج بھی عمر کہ اس حصہ میں اپنی بیماری کہ باوجود اپنی اس دوبارہ زنجیروں میں جکڑی آزادی کو دوبارہ آزاد کرانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ نا جانے کیوں ہماری حکومتیں ہماری ریاست یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جس معاشرے میں اختلاف رائے برداشت کرنے کا حوصلہ نا ہو وہ ُفاسشٹ ہوتی ہیں۔

کسی بھی ریاست اور سماج کو مضبوط، محفوظ اور تہذیب یافتہ بنانے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>