الیکٹرانک میڈیا کی خدمت میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرے میں صحافیوں کی بہتات ہے مگر حقیقی صحافت کا قحط۔ آج آزادی صحافت کا عالمی دن ہے۔ سوچا اس پر لکھا جائے اور اپنی معروضات جدید میڈیا کی خدمت میں پیش کی جائے جس طرح ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے اسی طرح چیز وں کے بھی مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔

جس طرح اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے اتار چڑھاؤ کے ہنگام کھلبلی مچی رہتی ہے۔ سرمایہ دار بے چین اور مضطرب نظر آتے ہیں ویسے ہی ہمارے نیوز چینلز پر بارہ مہینے تیس دن ہر گھڑی شوروغل مچا رہتا ہے۔ ہمہ وقت اسکرینوں پر اہم خبر کے نام پر سرخ ڈبے گھومتے رہتے ہے۔ جیسے ناگہانی صورتحال میں ایمبولینس میں لال بتی اور سائرن بجتا ہے، اسی طرح میڈیا پر بھی ہر وقت سرخ ٹکرز کے ساتھ خبر پڑھی جا رہی ہوتی ہے، موٹرسائیکل لفٹر سے لے کر بیٹری چور، موبائل سنیچنگ، ون وے کی خلاف ورزی، گھریلو لڑائی، ایک چھٹانک چرس برآمد ہونے تک کی خبروں کو قومی میڈیا پر پرائم ٹائم میں اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ قومی اہمیت کی حامل خبریں ہو۔

ایک اندازے کے مطابق میڈیا پر چلنے والی کم و بیش 70 فیصد خبریں جرائم سے متعلق ہوتی ہے جس نے مزید بگاڑ پیدا کیا۔ آپ کو حیرت ہوگی یہ جان کر کہ پاکستان کا شمار ہائی ایسٹ کرائم ریٹڈ ملکوں کی فہرست میں 48 ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان سے کئی گنا زیادہ کرائم ریٹڈ ملکوں میں وینزویلا، میکسیکو، امریکہ، برازیل، نائیجیریہ، ارجینٹینیا، تنزانیہ، شام، صومالیہ، انڈیا سمیت دسیوں ملک شامل ہیں۔ لیکن ان ملکوں کے میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو آپ کو کرائم کے ساتھ ساتھ ماحولیات، سوک رائٹز، سماجی، سیاسی، اقتصادی، تحقیقاتی رپورٹنگ کے مابین توازن دکھائی دیگا۔

میں سمجھتا ہوں جدید میڈیا نے بریکنگ نیوز کے چکر میں دنیا کے سامنے پاکستان کے امیج کومتاثر کیا ہے۔ بریکنگ نیوز کلچر کی وجہ سے عوام میں بے یقینی اور بے اطمینانی بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں ہر جگہ شر ہی شر دکھتا ہے۔ کوئی امید نظر نہیں آتی۔ جس کے باعث پورا معاشرہ ہیجان کی کیفیت میں مبتلا اور سخت نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوچکا ہے۔ میں بطور ایک ناظر کے بذات خود اپنی بات کروں تو مجھے الیکٹرونک میڈیا سے کراہت سی ہوگئی ہے۔ روز ایک سے موضوع، وہی تبصرے وہی نکتہ چینی وہی مسائل وہی رونا پیٹنا دوسری طرف وہی نعرے وہی دعوے وہی لیڈر وہی فیصل واوڈا، فواد چودھری، دانیال عزیز، طلال چودھری، رانا ثنا اللہ اور خورشید شاہ اور ان جیسے دوسرے جنہوں نے اپنے رہنماؤں کا دفاع کرنے کی سوگند اٹھا رکھی ہے۔

اس سے آگے بڑھے تو الیکٹرونک میڈیا کی صحافت پریس کانفرنسز، پریس ریلیز اور واٹس اپ گروپ تک محدود ہے، ہمارے میڈیا کی نظر محدود ہے وہ ریجنل میڈیا بن کر رہ گیا ہے جو کراچی، اسلام آباد لاہور تک ہی محدود ہے یہ ایسا مینڈک ہے جو اپنے کنویں کو ہی کل کائنات سمجھتا ہے۔ کنویں کے باہر کی دنیا سے جس کا کوئی سروکار نہیں، اسے نا تو ملکی مسائل کا ادراک ہے نہ ہی کوئی دلچسپی۔

الیکٹرونک میڈیا کی ذمہ داری مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ تشخیص کردہ مسائل کے حل کے لئے تجویز دینا اور حل بتانا بھی ہے۔ کہتے ہے جس کا کام اسی کو سانجھے۔ ملک میں بہت سے ایسے معاملات ہیں جو میڈیا کی توجہ کے منتظر ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ مسائل کے حل کے لئے اپنے لیڈران کے ثناگر سیاستدان اور چرب زبان دانشوروں کے بجائے متعلقہ مسائل پر ایکسپرٹ اوپینین ٹیلی ویزن کے ذریعے عوام تک پہنچائے۔ اور پاکستان کے مثبت پہلووں کو بھی اجاگر کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
واثق احمد کی دیگر تحریریں