رمضان المبارک کے آداب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانان عالم کو ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کے بابرکت ایام نصیب ہوئے ہیں، اور خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو ان دنوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے رب کا قرب، اس کی خوشنودی، اس کا رحم اور فضل اور برکتیں تلاش کریں گے جو ان بابرکت ایام میں اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھی ہیں۔

خود رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کے ایام اور اس بابرکت مہینہ کی عظمت اور شان اس طرح بیان فرمائی ہے۔

عظمت رمضان:

حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ کو ہم سے خطاب فرمایا:

اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت اور شان والا مہینہ سایہ کرنے والا ہے۔ ہاں! ایک برکتوں والا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ہے جو ثواب و فضیلت کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی رات کی عبادت کو نفل ٹھہرایا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ اور یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آنحضرت ﷺ نے اس بابرکت مہینہ کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء نزولِ رحمت ہے اور جس کا وسط مغفرت کا وقت ہے اور جس کا آخر کامل اجر پانے یعنی آگ سے نجات پانے کا زمانہ ہے۔

(بیہقی بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح۔ تحفۃ الصیام صفحہ 28 )

ایک اور حدیث جو مسلم کتاب الصیام میں درج ہے اور اس کے راوی حضرت ابوہریرہؓ ہیں عظمت رمضان کے بارے میں آپؐ فرماتے ہیں :

”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے خوب کھول دیے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے اچھی طرح بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں۔ “

حضرت ابوہریرہ ؓ سے ہی ایک اور روایت مسلم کتاب الصیام میں یوں آتی ہے۔

فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیریں ڈال دی جاتی ہیں۔

ایک حدیث میں ”دَخَلَ رَمَضَانَ“ کے الفاظ ہیں یعنی جب کوئی شخص رمضان کو اپنے اندر داخل کرلے تو پھر رحمت کے دروازے اس پر کھل جاتے ہیں اور وہ نیک اعمال بجا لا کر جہنم کے دروازوں کو بند کر لیتا ہے اور ایسے شخص کی اپنی کوششوں اور خدا کے فضل سے اس کا شیطان بھی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔ وباللہ التوفیق۔ اگر آپ اپنے ماحول کا غور سے جائزہ لیں تو یہ بات سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے گی کہ کئی لوگوں کے شیطان کھلے رہتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں ہی ہوتے ہیں۔ رشوت ستانی، جھوٹ، غیبت، تہمت، چوری، ڈکیتی، مہنگائی، لوگوں کے حقوق غصب کر کے، تو ایسے لوگوں کا شیطان کھلا ہی رہتا ہے۔ شیطان کو انسان خود ہی زنجیر ڈالتا ہے اور وہ اس کے نیکی کے اعمال ہیں۔ ” (تحفۃ الصیام صفحہ 33 )

اسلام میں مختلف قسم کی عبادات کا مقصد تزکیہ نفس ہی ہے نماز سے بھی یہی غرض ہے، زکوٰۃ سے بھی یہی غرض ہے روزہ سے بھی یہی غرض مقصود ہے وعلیٰ ہذا القیاس یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ :

”روزے ڈھال ہیں پس روزہ کی حالت میں نہ کوئی شہوانی بات کرے نہ جہالت اور نادانی کرے اور اگر کوئی اس سے لڑائی یا گالی گلوچ کرے تو وہ کہے میں روزہ دار ہوں میں روز ہ دار ہوں۔ “ (بخاری کتاب الصوم)

حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح کی روایت ہے کہ روزہ اس وقت تک ڈھال کا کام دیتا ہے جب تک روزہ دار خود اس ڈھال کو گزند نہ پہنچائے اور اس میں کوئی ٹوٹ پھوٹ اور رخنہ نہ ہونے دے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے اور آگ سے بچانے کے لئے حصن حصین ہے۔ اور خدا کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ۔ (تحفۃ الصیام صفحہ 39 )

حضرت ابوہریرہؓ سے ہی روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا۔ جو روزہ دار جھوٹی بات اور غلط کام نہیں چھوڑتا اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی بھی ضرورت نہیں۔ (بخاری کتاب الصوم)

پس اگر کوئی شخص روزہ کے آداب کا لحاظ اور خیال نہیں رکھتا تو اس کا محض بھوکا پیاسا رہنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ ایک عبادت ہے جو مقررہ شرائط کے ساتھ فرض ہے لیکن کئی بدقسمت ایسے بھی ہوتے ہیں جو بادی النظر میں تو روزہ رکھتے ہیں مگر اس کے اعلیٰ ثواب سے غلط کام اور لغو کام سرانجام دے کر ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ابن ماجہ کی ایک روایت اس مضمون کو مزید یوں کھولتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا:

”کئی روزہ دار ایسے ہیں جن کو ان کے روزہ سے سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی رات کو اٹھ کر عبادت کرنے والے ہیں مگر ان کو سوائے بیداری اور بے خوابی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ “

1۔ نماز باجماعت

نماز مسلمانوں پر باجماعت ہی فرض قرار دی گئی ہے۔ سب سے اول بات جاننے کی یہی ہے کہ نماز باجماعت ہی ادا کی جائے اس کے لئے پوری کوشش کی جائے۔

اس وقت مساجد میں نمازیوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ مصروفیت بہت زیادہ ہے، مساجد دور دور ہیں، کام اور جاب سے فراغت نہیں ملتی، وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں یہ اختیار تو نہیں کہ کسی کے جج مقرر ہو جائیں ہر شخص اپنی مصروفیت کو خوب جانتا ہے مگر چند چیزیں اور امور ایسے ہیں کہ اگر ہم وہ کر لیں تو ہمیں ثواب ملے گا۔ ان میں اول یہ ہے کہ ہم نماز باجماعت کی اور مسجد جانے کی نیت کریں۔ اور پکی نیت کریں کہ ہر حال میں ہم نے جانا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر دل میں پختہ عزم ہو تو وہ کام ہو جاتا ہے۔ نیت کے بعد اگر کوئی موانع ہو جائیں تو اس کو نماز باجماعت کا ثواب مل جائے گا۔

دوسرے اگر واقعۃً گھر مسجد سے دور بہت دور ہے تو پھر گھر میں فیملی کو اکٹھا کر کے سب کے ساتھ نماز باجماعت پڑھ لی جائے۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سات ایسے اشخاص ہوں گے جن پر خدا کے سایہ کے علاوہ اور کسی کا سایہ رحمت نہ ہو گا اور ان میں ایک وہ شخص ہے ”وَ رَجُلٌ قَلْبُہٗ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ“ کہ جس کا دل مسجد میں لٹکا رہے۔ (صحیح مسلم کتاب الزکٰوۃ باب فضل اخفاء الصدقۃ)

فجر اور عشاء کی نماز پر آنے والوں کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی مہمانی کرتا ہے۔

پس رمضان میں نماز باجماعت کا خاص اہتمام فرمائیں کہ یہ قرب خداوندی کا ذریعہ ہے۔ برائیوں سے روکنے کا ذریعہ اور مومن کی معراج ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امام سید شمشاد احمد ناصر، ڈیٹرائٹ امریکہ کی دیگر تحریریں
امام سید شمشاد احمد ناصر، ڈیٹرائٹ امریکہ کی دیگر تحریریں