پشتون تحفظ موومنٹ: بھاپ نہیں، ایندھن روکیں


جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ پشاور کے دوران طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”پی ٹی ایم کوئی مسئلہ نہیں۔ اس تحریک کی طرف سے جن مسائل کی نشاندہی کی جا رہی ہے وہ جائز معاملات ہیں۔ البتہ بعض افراد غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بنتے ہوئے دہشت گردی کا شکار ہونے والے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ دہشت گردی کی وجہ سے تکالیف اٹھا چکے ہیں اور ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور افواج اس سے قطع نظر کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے، قبائلی علاقوں کے باشندوں کے جائز مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

ہمارے لئے سماجی و معاشی اقدامات کے ذریعے پائیدار امن کا قیام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ افواج ان کوششوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنادیں گی ”۔ بلاشبہ جنرل باجوہ کے ان خیالات کی پوری قوم حمایت کرے گی۔ کوئی شبہ نہیں کہ دشمن پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کرتا ہے اور ہمارے داخلی مسائل کو ہوا دے کر نا اتفاقی کا بیج بونے کی سعی بھی وہ کرے گا۔

کسی طاقتور منصب پر بیٹھے شخص کے لب و لہجے اور الفاظ کے وسیع اثرات ہوتے ہیں۔ بہت سے ذہنوں میں محفوظ ہو گا سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بلوچ سردار اکبر بگٹی کو کس انداز میں دھمکی دی اور نشانہ بنایا، اس حماقت کے بد اثرات سے آج تک بلوچستان دہک رہا ہے۔ عوام کی دل جوئی اور ان کے مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار پاک فوج کے سربراہ کی بصیرت کا اظہار ہے اور اس سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی تلخی اور شدت میں یقینا کمی آئے گی جس میں انہوں نے پی ٹی ایم پر الزامات لگائے تھے۔

واضح رہے کہ میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ ہفتے پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت پر انڈیا اور افغانستان سے فنڈ لینے اور ان کی ایماء پر ملکی سر زمین پر شورش برپا کرنے کے الزامات لگائے تھے۔ دوسری طرف پی ٹی ایم قیادت نے خود پر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ بہرحال ملکی سلامتی کے حوالے سے بہت اہم ہے اور اگر ملکی اداروں کے پاس اس متعلق ٹھوس شواہد ہیں تو کسی بھی قسم کی رعایت اور ڈھیل کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

ماضی میں بھی جناح پور، گریٹر پختونستان اور اگر تلہ سازش جیسی باتیں یہاں شدت سے ہوتی رہیں، کچھ وقت گزرنے کے بعد مگر وہ گرد اور بھول بھلیوں کی نظر ہو گئیں۔ بیش بہا قربانیوں کے بعد ارض پاک سے ٹی ٹی پی اور ایم کیو ایم کا گند پاک ہوا ہے، اگر واقعتا پی ٹی ایم کے بارے یہ الزامات حقیقت پر مبنی ہیں تو اسے چھوٹ خواہ وہ کسی بھی مصلحت کے تحت ہو ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ اس وقت ملک میں ایک بڑا طبقہ پی ٹی ایم سے متعلق نرم گوشہ رکھتا ہے ثبوت کی عدم فراہمی کی صورت میں ایسے لوگوں کے دلوں میں لا محالہ اس تنظیم سے متعلق مزید ہمدردی پیدا ہوگی۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پشتون تحفظ کے ساتھ نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے بہت سے مطالبات عوامی مفادات پر مبنی ہیں۔ اکیسویں صدی میں بارہا یہ تجربہ ہوچکا کہ عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف احتجاج کو ریاستی طاقت سے دبانے کی ترکیب نے ایسا رد عمل کھڑا کیا جس سے ریاست کا وجود ہی عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔ یہ بات بھی ثابت ہو چکی کہ اب سرکاری طاقت سے میڈیا پر کنٹرول کے ذریعے احتجاج دبانا بھی ممکن نہیں۔

آج کل سوشل میڈیا کی صورت ایک بہت بڑا ہتھیار عوام کے ہاتھ لگ چکا ہے اور اس پر قابو پانا یا پھر اس پر اپلوڈ ہونے والا مواد کسی سنسر شپ سے گزارنا ممکن نہیں۔ بہت سی عرب ریاستوں میں حکومتوں کے دھڑن تختے اور بقیہ کو فالج میں مبتلا کرنے والی عرب بہار تحریک میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار تھا۔ یہ تحریک ایک معمولی محنت کش کے استحصال پر رد عمل میں پیدا ہوئی تھی۔ اس سے سمجھنا چاہیے عوامی ردعمل کی بنیاد پر استوار کوئی احتجاجی تحریک ریاستی سلامتی کے لئے کتنی مضر ہو سکتی ہے۔ اس تحریک کے پاس اگر سوشل میڈیا بھی موجود ہو اور نوجوان افرادی قوت بھی دستیاب ہو تو مسئلہ دو آتشہ ہو سکتا ہے۔

اب پشتون تحفظ موومنٹ کے مسئلے کی جانب واپس آتے ہیں۔ میرا احساس ہے کہ میڈیا پر اس تحریک کی سرگرمیوں، غرض وغایت اور خد و خال کے بارے میں کوریج کی مکمل آزادی خود اس تحریک سے زیادہ ریاست کے مفاد میں ہے۔ جب تک عوام کو اس تحریک کے بارے درست آگہی نہ ہوگی وہ اس کی تہہ میں چھپے مقصد کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے اور پراپیگنڈے کا شکار ہونے اور دشمن کے جال میں پھنسنے کا خطرہ موجود رہے گا۔ اس تحریک کے چند بڑے مطالبات یہ ہیں کہ نقیب اللہ محسود کے قاتل راؤ انوار کو سزا دی جائے۔ قبائلی علاقوں میں موجود ملٹری فورسز کی چیک پوسٹوں پر عوامی تذلیل بند کی جائے۔ مبینہ طور پر تیس ہزار کے قریب لا پتہ کیے گئے پشتون نوجوان پیش کیے جائیں۔ پندرہ ہزار کے قریب اغوا کی گئی پشتون خواتین بازیاب کرائی جائیں۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگوں کا خاتمہ اور آپریشن کے نتیجے میں مقامی آبادی کے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

یہ مطالبات ایسے ہیں جن کی بنیاد پر واقعتا ریاست کے خلاف بڑی احتجاجی تحریک شروع ہو سکتی ہے۔ ان میں پہلا مطالبہ کافی حد تک جائز ہے، راؤ انوار کو سزا دلوانا ریاست پر لازم ہے اور کسی ایسی سیاسی شخصیت پر جو آج کل اپنے مسائل میں گردن تک دھنسی ہے، الزام دھرنے سے ریاست اپنی ذمہ داری سے دامن نہیں چھڑا سکتی۔ جہاں تک لاپتہ افراد کے معاملے کا تعلق ہے پوری دنیا کے علم میں ہے ٹی ٹی پی کو تمام تر افرادی قوت فاٹا اور خیبر پختون سے ہی حاصل ہوئی تھی۔ جن افراد کی گمشدگی کا الزام ہے، ممکن ہے ان میں سے بیشتر یا تو مارے جا چکے ہوں یا فرار ہو کر سرحد پار افغان سر زمین پر موجود ہوں، لہذا کسی ثبوت کے بغیر ریاستی اداروں پر اس کا الزام کس طرح لگایا جا سکتا ہے؟ آج کل لوگ اپنی بکری گم ہونے پر بھی آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، یہ بھی کیسے ممکن ہے غیرت مند پشتون قوم اپنی خواتین کی بے حرمتی پر اب تک خاموش ہے؟

بارودی سرنگوں کا شکوہ بجا ہے مگر سوچنا چاہیے کہ چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اب تک افغانستان میں روسی بم پھٹنے سے ہلاکتوں کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں تاحال جنگ چل رہی ہے اور ان مائنز کی صفائی میں لازما وقت لگے گا۔ آپریشن میں ہونے والے مالی نقصانات کا معاملہ نہایت حساس ہے۔ اس کا ازالہ بات چیت سے ممکن ہے اور اس کے لئے پاک فوج کی جانب سے کمیٹی بنائی گئی تھی، لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے، جب تک وہ مطلوبہ مقدار میں فنڈز فراہم نہیں کرتی اس وسیع پیمانے پر تعمیر نو مکمل نہیں ہو سکتی۔

چِیک پوسٹوں پر تذلیل کی بات جواب طلب ہے مگر، ایک ضمنی بات یہ کہ فوج شورش کچل ضرور سکتی ہے لیکن مستقل کسی جگہ کا کنٹرول سنبھالنا اس کے مزاج کے مطابق نہیں۔ فوج کو سویلین اداروں کی جگہ پر انتظامی معاملات میں مصروف رکھا جائے گا تو اس کی تربیت کے پس منظر میں ایسی بد گمانیاں پیدا ہوتی رہیں گی۔ اس بارے میں بھی مگر فوج پر براہ راست الزام نہیں بنتا کیونکہ، پشتون تحفظ کا علم اٹھائے سیاست دان ہی تھے، جن کے طفیل عملاً قبائلی علاقے اب تک بے آئین و قانون ہیں۔

فاٹا کے انضمام کا معاملہ اپنی روح کے مطابق اور وقت پر مکمل ہوتا تو آج یہ مسائل نہ ہوتے۔ آخر میں عرض ہے کہ پشتون تحفظ تحریک ایک پریشر کوکر ہے جس میں ہر گزرتے لمحے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور اسے پھٹنے سے روکنے کے لئے لازم ہے اس کے سیفٹی والو کو بند نہ کیا جائے۔ انہیں بولنے کی پوری آزادی دی جائے تاکہ بھاپ نکلتی رہے اور دانشمندی سے کام لے کر اس بھانپ کی بنیاد بننے والے ایندھن کے خاتمے کی تدبیر کی جائے۔

Facebook Comments HS