پاکستانی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کا کردار
اسی تصویر کو کچھ لوگ یوں پیش کرتے ہیں کہ طاقت ور حلقے عمران خان کو لے کر آئے تھے اور اب وہ ان کی حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو رہے ہیں۔ خاص طور سے تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت کی دگرگوں صورت حال پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ وہ عناصر جو تحریک انصاف کو اقتدار تک لانے کا سبب بنے ہیں، وہ بدستور مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کی سیاست کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ یعنی اگر تحریک انصاف کارکردگی دکھا سکے تو اس کی سیاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اگر اس کی ناکامی کا سفر جاری رہا تو ملک کے مفاد میں تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
اس صورت میں مسلم لیگ (ن) کو اقتدار میں واپس لانا پڑے گا کیوں کہ اس خیال کے مطابق اسٹبلشمنٹ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) پر زیادہ بھروسہ کرتی ہے۔ گویا تحریک انصاف کی کارکردگی یہ فیصلہ کرے گی وہ برسراقتدار رہ سکتی ہے یا نہیں لیکن یہ فیصلہ ملک کے عوام یا قومی اسمبلی میں ان کے نمائیندے صادر نہیں کریں گے بلکہ کوئی ’اور‘ کرے گا۔
ملک میں سیاسی معاملات کے حوالے سے یہ دونوں قیاس آرائیں دراصل اس تاثر کو قوی کرتی ہیں کہ ملک میں جمہوریت تو ہے لیکن جمہوری قوتوں کا فیصلوں پر عمل دخل نہیں ہے۔ جمہوریت اگر مرضی کے نتائج فراہم کرنے میں کامیاب نہ ہو تو اس کا راستہ کاٹنے کے دسیوں طریقے دستیاب ہیں۔ اور انہیں نافذ کرنے میں عدالتوں سمیت تمام ادارے دست تعاون بڑھانے پر ’مجبور‘ ہوتے ہیں۔ ملکی انتظام کی یہ المناک تصویر ہے لیکن تمام سیاسی مباحث اسی تصویر کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں۔
کچھ اس صورت حال کو ملکی بقا کی ضمانت قرار دیتے ہیں اور کچھ اسے جمہوریت اور عوامی حاکمیت کے تصور کے برعکس کہتے ہیں۔ لیکن دونوں آرا میں اس سچائی کو معروضی حالات کا ناگزیر حصہ سمجھا جارہا ہے۔ ملک کے سیاست دان، فوج کے ترجمان حتیٰ کہ وزیر اعظم تک اپنے بیانات میں اس تاثر کو قوی کرنے کاسبب بنتے ہیں۔ سیاسی معاملات میں متعدد عدالتی فیصلے بھی اس تاثر کو راسخ کرتے ہیں۔ اسی لئے آصف زرادری کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملات ہوں یا نواز شریف کی ضمانت کا فیصلہ، اسے خالص قانونی تناظر میں سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
بدقسمتی سے عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے جس تواتر سے سابقہ حکمرانوں کی بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے ’این آر او‘ نہ دینے کا اعلان کیا ہے اس سے بھی عام لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم پر بھی اس حوالے سے کوئی دباؤ ہے۔ خاص طور سے گزشتہ روز تو عمران خان نے اس معاملہ پر وزارت عظمی کو داؤ پر لگانے کا عندیہ دے کر نادیدہ قوتوں کی موجودگی اور اپنی مجبوری کو نمایاں کرنے کا تاثر دیا ہے۔ یہی تاثر شہباز شریف کی ’مفاہمانہ سیاست‘ اور اس کے نتیجے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران نواز شریف اور مریم نواز کی ’خاموشی‘ سے مستحکم ہوتا ہے۔
یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ملک کے معاملات واقعی مضبوط اداروں کے دفاتر میں بیٹھے چند افراد کے اشاروں کے محتاج ہوتے ہیں لیکن اس حوالے سے سامنے آنے والی تصویر بہر حال قوم کے وقار اور جمہوری نظام کے لئے مسلسل اندیشے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس رویہ کو نواز شریف کا بیانیہ کہا جاتا ہے وہ دراصل ان معاملات کو سیاسی مباحثے کا حصہ بنانے کا نام ہے۔ یعنی سول ملٹری تعلقات، پارلیمنٹ کے اختیار اور عدالتوں کے دائرہ کار کے حوالے سے کھل کر بات چیت کی جائے اور قانون سازی کے ذریعے یہ طے کیاجائے کہ کس ادارے کو کن حدود میں کیا کام کرنا ہے۔
ملک کی لشٹم پشٹم جمہوریت، قیاس آرائیوں اور بدگمانیوں سے بھرپور ماحول میں یہ درست جانب راست قدم ہے۔ اسی لئے اسے پذیرائی بھی حاصل ہوئی تھی۔ تاہم نواز شریف نے قید ہونے اور مقدمات میں سزا پانے کے بعد خود ہی اس مؤقف پر خاموشی اختیار کرلی۔ اس سکوت اور عمران خان کے این آار او کے دعوؤں نے اس یقین کو قوی کیا کہ ملک میں ووٹ کی بجائے کسی نادیدہ قوت کے اشارے کو ہی اہمیت حاصل ہے۔
اب اگر مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو کے اعلان اور قومی اسمبلی میں تبدیلیوں کے فیصلے کا اصل مقصد ایک بار پھر سیاسی انتظام اور منتخب حکومت کے اختیار کے حوالے سے مباحث کو قومی سیاسی مکالمہ کا حصہ بنانا ہے تو یہ ایک خوش آئند اقدام ہو گا۔ تاہم اگر اس طرح پارٹی کے لئے سپیس اور شریف خاندان کے لئے رعایت لینا ہی مطمح نظر ہے تو اس سے جمہوریت یا ملک کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا۔
پاکستان میں سیاسی مباحث کو قیاس آرائیوں سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں اداروں کی آئینی پوزیشن واضح کرنا اور انہیں منتخب مقتدرہ کے سامنے جوابدہ قرار دینا ہی اس ملک کی نجات کا راستہ ہے۔

