پاکستانی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کا کردار


نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور علاج کے لئے بیرون ملک روانگی کی درخواست مسترد ہونے کے فوری بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں تبدیلیوں کی خبروں نے ایک بار پھر پاکستانی سیاست میں قیاس آارئیوں، اندازوں اور امکانات کا طوفان برپا کردیا ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت میں تبدیلی کے فیصلے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب نواز شریف علالت کی وجہ سے العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں ملنے والی 7 برس قید میں چھے ہفتے کی ضمانت کے بعد بدھ کو واپس جیل جانے والے ہیں۔ اور پارٹی کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے برطانیہ میں اپنا قیام طویل کردیا ہے۔

حکومتی نمائندے دعویٰ کر رہے ہیں کہ شہباز شریف اب ملک واپس نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ انہیں کرپشن کے متعدد الزامات میں مقدمات کا سامنا ہے اور واپسی کی صورت میں انہیں ایک بار پھر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ ا س لئے وہ ملک سے باہر رہنے کا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیں گے۔ دوسری طرف سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ شہباز شریف کی مصالحانہ حکمت عملی کی ناکامی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

اب پارٹی کے رہبر نواز شریف براہ راست حکومت یا اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی کو پھر سے اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کے طور پر خواجہ آصف کی تقرری اور مریم نواز کو پارٹی کی تبدیل شدہ قیادت میں نائب صدر کا عہدہ ملنے کو اس دلیل کے جواز کے طور پر پیش کیا جا رہاہے۔

ایک سوال تو یہ ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت جس میں شریف خاندان سر فہرست ہے، کو ’ڈھیل‘ دینے کی جو خبریں عام کی جارہی تھیں کیا وہ غلط ثابت ہوچکی ہیں اور سزاؤں اور مقدمات کے معاملے میں دی جانے والی ہر رعایت کا امکان ختم ہو چکا ہے؟ ملک کے مبصر اس سوال کا جواب ہاں یا ناں میں تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کسی کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے۔ خاص طور سے شہباز شریف کی طرف سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ اور ملک سے باہر قیام اور نواز شریف کی علالت کے باوجود سپریم کورٹ کا ضمانت میں توسیع سے انکار، ایسے اشارے ہیں جو شریف خاندان کی مشکلوں میں کمی کی نوید نہیں دیتے۔

ملک کی سیاست چونکہ افراد کے گرد گھومتی ہے لہذا شریف خاندان کے بغیر مسلم لیگ (ن) کے کسی کردار کا تصور بھی موجود نہیں ہے۔ اسی لئے نواز شریف ہوں یا شہباز شریف ان کے عدالتی معاملات اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو باہم ملاکر ہی دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا غلطی ہوگی کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کا فیصلہ نیب مقدمات کے حوالے سے ان کی حتمی شکست ہے۔ گزشتہ روز بھی سپریم کورٹ نے ضمانت میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے مستقبل کے امکانات کو مسترد نہیں کیا اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث پر واضح کیا تھا کہ 26 مارچ کو چھے ہفتے کی ضمانت دیتے ہوئے اس فیصلہ کی حدود متعین کردی گئی تھیں۔  کہ نواز شریف علاج کے لئے ملک سے باہر نہیں جاسکیں گے اور وہ اس مدت میں توسیع کی درخواست دائر نہیں کرسکیں گے۔ انہیں ضمانت کی نئی درخواست دائر کرنے کے لئے ایک بار پھر گرفتاری دینا ہو گی۔ اس لئے اس امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گرفتاری دینے کے بعد نئی درخواست کے نتیجہ میں نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے از سر نو ضمانت مل جائے۔

پاکستانی سیاست میں ڈھیل اور ڈیل کی خبروں کے تناظر میں صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف جیسے ہائی پروفائل سیاسی لیڈر کو ضمانت میڈیکل یا لیگل میرٹ پر نہیں بلکہ کسی درپردہ ڈیل کی شرائط کی بنیاد پر ملتی ہے۔ یہ مؤقف سامنے لانے کا بالواسطہ یہی مقصد اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن ہو یا دوسرے الزامات، ان پر عدالتوں سے بھی وہی فیصلے صادر ہوتے ہیں جو نظام کی ضرورت ہوتے ہیں۔

اس نظریہ کے تحت ملک میں جمہوریت ایک ڈھونگ کا نام ہے جسے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے رچایا جاتا ہے۔ اور سیاسی لیڈر اس کھیل میں حسب ضرورت کردار ادا کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ اپنے کردار سے ہٹ کر اہمیت کا تقاضا کرنے والے لیڈر کو سزا کے طور پر عبوری یا مستقل پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ نظام ایک ایسی نادیدہ قوت ہے جسے کوئی نام نہیں دیا جاسکتا لیکن حتمی فیصلوں کے لئے سب اسی ’قوت‘ کے اشاروں کے منتظر رہتے ہیں اور ان کی پابندی بھی کرتے ہیں۔ اس طرح صرف پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ عدالتیں بھی ملکی آئین و قوانین کے پابند نہیں ہوتیں بلکہ درحقیقت وہ اسی ’غیبی اشارے‘ کی بنیاد پر قانون بنانے یا اسے کسی صورت حال پر منطبق کرنے کے کام پر مامور ہیں۔

اس افسوسناک تصویر کو سچ ثابت کرنے والے دیگر باتوں کے علاوہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں سے کی گئی گفتگو کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر سابقہ حکمرانوں کو بدعنوانی اور لوٹ مار کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ان لوگوں کے لئے کسی ’این آار او‘ پر دستخط نہیں کریں گے۔ خواہ اس انکار کی قیمت کے طور پر انہیں اپنے عہدہ سے ہی علیحدہ ہونا پڑے۔ گویا اگر اقتدار کے اصل مراکز میں کہیں پر یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ نواز شریف یا آصف زرادری کے ساتھ رعایت کرنی ہے پھر یا تو عمران خان اس فیصلہ کو مانتے ہوئے اس کا قانونی اہتمام کریں گے یا انہیں اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ اسی لئے وزیر اعظم اپنے عہدے اور این آر او کے معاملہ کو ملا کر پیش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali