بونے آدمی اور عورت کا سہارا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کالم دیکھا!

 لکھا تو نامی گرامی مرد نے تھا پر عنوان بڑا زنانه تھا۔ (زنانہ جمہوریت) پڑھا تو اندر سے اور بھی زنانہ تھا۔ عورت اور ہیجڑے میں بال برابر فرق نظر آیا تھا انہیں۔ خیر ہیجڑا بھی ہماری طرح ہی کی مخلوق ہے اس لئے ہمیں تو فرق نہیں پڑتا لیکن وہ زندگی کو کس رخ سے دیکھتے ہیں، اس کی قلعی کھل گئی۔

عورت اور گالی ، گالی یا عورت، ایک ہی جنس کے دو نام ہیں اور پدرسری معاشرے کا مرد بہت نازاں ہے اس پہ۔

کسی دوسرے کی تضحیک کرنی ہو، کسی کی بھد اڑانی ہو، مذاق کرنا ہو ، تحقیر مدعا ہو، کسی کو کمزور بتانا ہو، کسی کا ٹھٹھا اڑانا ہو، ہے نا عورت ، آپ کی مشکل میں آپ کا ہتھیار۔

“یہ عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہا رہے ہو؟ “

“بڑے بزدل ہو یار عورتوں کی طرح “

“یہ منمنا کیوں رہے ہو عورتوں کی طرح، مرد بنو مرد “

“عورت جیسا نازک دل ہے تیرا”

“تیرے منہ میں تو زبان ہی نہیں ٹکتی، عورت کی طرح”

“یار تو نخرے بڑے کرتا ہے عورت کی طرح “

کسی صورت حال کا تجزیہ ہو، بازی الٹ رہی ہو، کوئی بات مناسب حال نہ لگ رہی ہو، پھر پڑ جائے گی ضرورت اس نام کی جو آپ کو ریلیکس کر دے

“جمہوریت زنانہ ہے”

“سیاست رنڈی ہے “

“دولت لونڈی ہے”

یہ تو ہوا جہاں ہمارے مرد کی زبان پھر بھی قابو میں تھی۔ تماشا اس وقت ہوتا ہے جب عورت کے اعضاے مخصوصہ کا ذکر ککلاشنکوف کی طرح منہ سے خارج ہوتا ہے، اپنی ذات کی فرسٹریشن نکالنے کے لیے۔ حسرت ہے کوئی جی دار، ماں بہن کی جگہ باپ بھائی کا استعمال کر چھوڑے تو کیا ہی لطف ہو۔

ہماری ایک دوست کے میاں بہت گالیاں دیتے تھے بس تکیہ کلام کے طور پہ زبان سے نازل ہوتی رہتی تھیں۔ پیار سے سمجھایا، غصہ دکھایا پر کچھ اثر نہ ہوا۔

چونکے وہ اس دن جب ان کی ماں بہن کی بلا ضرورت یاد کے سامنے ہماری دوست کے منہ پہ باپ بھائی کی تعریف تھی۔ سو نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہ کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچتے ضرور ہیں۔

کسی اور سے کیا گلہ کریں، جب ہمارے کپتان صاحب بھی اسی ڈگر کے راہی ہیں۔ کسی کی ٹانگ کھینچنے کے لئے انہیں بھی ایک صاحبہ کی ضرورت پڑ ہی گئی۔ جوش خطابت میں یا جوش طنز ومزاح میں وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے اپنی سیاست ہی ایک صاحبہ کے نام پہ ہسپتال بنا کے چمکائی ہے۔

ان سب مردوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی نصف بہتر صاحبہ کی بے شک عزت نہ کریں لیکن وہ دنیا میں آنے سے پہلے ایک صاحبہ کے بطن میں ہی براجمان تھے اور وہی ان کو نو ماہ لئے لئے پھری تھی۔ اور جس عمل کا وہ دن رات ذکر کرتے نہیں چوکتے وہ اسی کی پیداوار ہیں۔

ہمیں یہ سب مرد کمزور دکھتے ہیں جنہیں ہمیشہ بات پہنچانے کے لئے ایک سہارے کی ضرورت رہتی ہے اور سہارا بھی کونسا جس کو کمزور سمجھ کے اس پہ حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔

میری دنیا کے جی دارو، حکمرانی سے پہلے آداب حکمرانی تو سیکھ لو، عظمت کے تاج بونوں پہ نہیں سجا کرتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •