قبیل اور مسائل اپنے اپنے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن قبل دبئی میں منعقدہ اک نیوز بلاگ ویب سائٹ کے میٹ اپ میں جانے کا اتفاق ہوا، میٹ اپ کا موضوع تو۔ ”سمندر پار پاکستانی، سوشل میڈیا اور ہمارے حقوق، فرائض و ذمہ داریاں“۔ تھا لیکن با قاعدہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہلکی پھلکی گفتگو میں پاکستان اور بیرون ممالک میں کام کی غرض سے رہنے والے اور مستقل سکونت اختیار کر لینے والے افراد زیر بحث تھے۔

محفل میں موجود تقریبا ہر شخص پاکستان کو در پیش چیلنجز اور پاکستانیوں کو در پیش مسائل پر بات کر رہا تھا لیکن کمال حیرت کی بات ہے کہ کسی کے مسائل یورپ میں مقیم، اچھا خاصا کمانے والے شخص کے گرد گھومتے تھے، کسی کے مسائل بیرون ملک سرکاری ادارے میں اچھی تنخواہ پر کام کرنے والے فرد کے گرد گھومتے تھے اور کسی کے مسائل ایک پروفیشنل آئی ٹی ایکسپرٹ کی طرح بہت پیچیدہ لیکن ٹھاٹھ باٹھ والے تھے۔ ظاہر ہے محفل میں مقیم سب ہی دوست کبھی نہ کبھی پاکستان رہتے رہے ہیں اور یقینا اب بھی پاکستانی ہی ہیں لیکن مسائل اور ان کے حل کسی پر تعیش گھر میں رہنے والوں جیسے تھے کہ اگر آپ کو ”روٹی میسر نہیں تو کیک کھا لیں“۔

صحافت سے وابستہ لوگ ہوں یا نیوز، بلاگ ویب سائٹس کے مالکان و کالم نگار، یہ لوگ رائے عامہ ہموار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مجھے سب کی گفتگو سن حیرت ہوئی کہ کیا رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے افراد کو بھی معاشرے کے حقیقی مسائل کا ادراک ہے؟ میں سب کی صاحب ثروت گفتگوسن کے حیران تھا کہ یہ کس پاکستان میں رہتے رہے ہیں؟ انہوں نے کبھی پاکستان دیکھا بھی ہے؟ کیا ان کو یہ علم ہے کہ پاکستان میں 60 فی صد سے زیادہ آبادی گاؤں دیہات میں مقیم ہے جہاں وہ کھیتی باڑی کر کے اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں، کیا ان کو علم ہے کہ اک کسان کی زندگی کیا ہوتی ہے؟

کیا ان کو علم ہے کہ راتوں کو اٹھ کر جنگل بیابان میں آب پاشی کرنا کیسا ہوتا ہے؟ کیا ان کو معلوم ہے کہ کھیتوں کے ”بنے“ بناتے وقت کبھی سانپ تو کبھی بچھووں سے بھی واسطہ پڑتا ہے، راتوں کو جنگلی جانوروں اور درندوں سے بھی سامنا ہوتا ہے۔ پانی کی سطح بہت نیچے چلے جانے کی وجہ سے اب عام ٹیوب ویل کار آمد نہیں رہے اور ٹربائن لگانے کی استطاعت ہر کسان کی ہوتی نہیں جبکہ ٹربائن کی موٹر زیادہ بجلی کھاتی ہے جس سے بل بھی بہت زیادہ آتا ہے۔ مہنگی ترین آب پاشی کرنا فرض ہوچکا ہے لیکن وہ بھی کیسے کریں؟ کہ پورا پورا دن بجلی غائب ہوتی ہے، نہریں خشک ہیں، بیج مہنگے ہیں، کھاد مہنگی ہے، ہر سال پرانے سپرے کار آمد نہیں رہتے اور نئے سپرے مہنگے ہو چکے ہوتے ہیں۔

پورا سال بارش نہ ہو تو فصلیں اناج دینے سے قاصر ہوتی ہیں اور اگر بارش ہو جائے اور پک چکی فصل کھڑی ہو تو اناج سے بھر پور فصل بھی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ کیا ان کو معلوم ہے کہ اک کسان کی گزر بسر، شادی غمی، کہیں بھی آنا جانا، ملنا ملانا ”آڑھتی“ یا پھر ”دودھی“ کے دم سے چلتا ہے؟ کسان گھرانے پورے چھے ماہ ان تھک محنت کرنے کے بعد جب فصل اٹھاتے ہیں تو اس فصل کا 90 فی صد حصہ آڑھتی سے لئے گئے قرض کی صورت میں ادا کر دیا جاتا ہے۔

ایک آڑھتی حکومتی نرخوں سے کم قیمت میں فصل خریدتا ہے کیونکہ اس نے پورا سال ادھار دے کر کسانوں کا گھر چلایا ہوتا ہے اس لئے کسان کم قیمت میں فصل بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مویشی کسانوں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، ان سے دودھ ملتا ہے، گھی ملتا ہے، ان سے ہی قدرتی کھاد نصیب ہوتی ہے لیکن تنگ دستی کی وجہ سے آج گاؤں کے مکینوں کے پاس بھی خالص دودھ میسر نہیں، جو دودھ مویشیوں سے لیا جاتا ہے وہ دودھی لے جاتے ہیں کہ ان سے شادی بیاہ، کھاد سپرے و راشن کی مد میں ایڈوانس پیسے لئے ہوتے ہیں، آج گاؤں دیہات میں بھی ڈبے کا دودھ مجبوری بن چکا ہے۔ اپنا دودھ ہوتے ہوئے بھی دودھ نصیب نہیں ہو پاتا، اپنے مویشی ہوتے ہوئے بھی دہی بازار کی ملتی ہے۔ کیا یہ 60 فی صد لوگ پاکستان کے مکین نہیں ہیں؟ کیا یہ ساٹھ فی صد لوگ صحافت کے لئے سم قاتل ہیں؟

تعلیم مہنگی ہونے کی وجہ سے 30 فی صد سے زائد جوان صرف میٹرک اور انٹر تک ہی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں، میٹرک اور انٹر بھی بڑی بات ہو گی، نا مساعد حالات کی وجہ سے اکثریت میٹرک تک پہنچ ہی نہیں پاتی اور وہ دفاتر میں چپڑاسی، فیکٹریوں میں ہیلپر اور تعمیراتی کاموں میں مزدور یا مستری بن کے زندگی گزار رہی ہے۔ کیا ان کے مسائل ایک پڑھے لکھے، وائٹ کالر، لاکھوں میں تنخواہ پانے والے، گاڑی کا حامل ہونے والے، آئی فون رکھنے والے کے جیسے ہو سکتے ہیں؟

کیا سارا دن ایک ٹرک چلانے والا، کرین چلانے والا، شدید گرمی میں اینٹیں ڈھونے والا، سیمنٹ، ریت اور بجری سے اٹا جسم لئے کنکریٹ معدے میں اتارتا شخص دانشوروں اور صحافیوں کے قلم کا موضوع بن سکتا ہے؟ وطن عزیز میں کیرئیر کونسلنگ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، ہمارے بچے اور جوان جیسے تیسے میٹرک، ایف اے، بی اے یا ماسٹرز تک پہنچ جائیں تو ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان کو یہ تک علم نہیں ہوتا کہ مجھے کس فیلڈ میں کام کرنا ہے، اس ڈگری کا تصرف کیا ہے؟

ماسٹرز لیول تک کے عام آدمی کو ٹھیک سے انگریزی پڑھنا نہیں آتی، اگر وہ بیرون ملک آبھی جاتا ہے تو ماہ و سال صرف روٹی، دودھ، بس اسٹاپ، یس سر اور نو سر سیکھنے اور بنا ہچکچاہٹ کے اپنا مختصر ترین مافی الضمیر بیان کرنے میں ضائع کر دیتا ہے۔ کیا بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں، مہنگی ترین یونیورسٹیوں میں پڑھے، ڈاکٹری، انجینرنگ، صحافت، قانون اور دیگر اہم مضامین اور ڈگریوں کے حامل ہی پورا پاکستان ہیں؟ 10 فی صد بھی نہیں ہوں گے حضور۔ ایسے لوگ جن کو پتا ہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، کیوں پڑھ رہا ہوں، یہ پڑھنے کے بعد میری منزل کیا ہے، اس ڈگری کے بعد مجھے کون سی فیلڈ میں جانا ہے پورے معاشرے میں 10 فی صد بھی نہیں ہوں گے۔

محفل مردوں پر مشتمل تھی تو ہر ایک بات مردوں تک ہی ڈسکس ہوئی، کبھی عورت کا ذکر آیا بھی تو گرل فرینڈ اور سیکس آبجیکٹ کے طور پر، پاکستان میں ٹوٹل آبادی کا 52 فی صد خواتین ہیں، چلیں خواتین کو ہی معاشرے کا حصہ مان لیں، کیا وجہ ہے کہ اکثریت خواتین جب جب قلم اٹھائیں صرف خواتین کی بات ہو، خواتین کے آدھے ادھورے مسائل ڈسکس کیے جائیں، گاڑی کی حامل خاتون گاڑیوں کی بات کرے لیکن بھٹے پر کام کرنے والی خاتون کو فراموش کر جائے، کھیت میں کپاس چن رہی، گندم کاٹ رہی، دھان کاٹ رہی، چارہ کاٹ رہی اور فصل کو گوڈی دیتی خاتون اس کا نفس مضمون ہی نہ ہو۔

کیا وجہ ہے کہ جب ایک مرد قلم اٹھائے اور اس کے لئے مسائل اچھی نوکری، اچھی گاڑی، وقت پر تنخواہ کی دستیابی، ہر دوسرے ماہ موبائل اپ ڈیٹ، ہر سال گاڑی اپ ڈیٹ، گرل فرینڈز، مساج اور کسی دوسرے مخالف گروہ پر تنقید ہی ہو؟ خواتین نظر نہیں آتیں؟ کیا مسائل صرف مردوں کے ہیں؟ اور کیا مسائل صرف اور صرف عورتوں ہی کے ہیں؟

ہم سب صرف وہی بات کرتے ہیں جو ہم پر گزری ہو، کسی اور کی جوتی میں پاوں ڈالنا ہمیں پسند نہیں مبادا اس کی جوتی میں سانپ چھپا ہو، آوٹ آف دی باکس دیکھنا، اس پر بات کرنا ہم کفر مانتے ہیں کیونکہ لامحالہ ہم بھی تو ان ہی میں سے ہیں جو ہر نئی بات، ہر نئی سوچ اور ہر نئی ایجاد کو کفر مانتے ہوئے اس بات کے کرنے والے، اس سوچ کے حامل اور اس ایجاد کے موجد کو قتل کرتے آئے ہیں، لکھی گئی کتابیں ان کے سروں پر تب تک مارنے والوں میں سے ہیں جب تک کہ لکھاری کی موت واقع نہ ہو جائے۔

ہم اگر بزنس مین ہیں تو ہم کیا جانیں ملازمت پیشہ افراد کے مسائل کیا ہیں۔ ہم اگر ملازمت پیشہ ہیں تو ہم کیا جانیں کہ ہم سے بہت کم تنخواہ کے حامل افراد کے مسائل کیا ہیں، ہم اگر کم تنخواہ کے بھی حامل ہیں لیکن ملازمت تو ہے تو ہم کیا جانیں کہ بے روزگاروں کے مسائل کیا ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس سے بھی ملا جائے وہ اپنی ذات میں خود کو علم کا سمندر گردانتا ہے لیکن وہ ہر سمندر اک پیالے سے کم نہیں ہوتا اور پیالہ بھی وہ جس کا پیندا لیک کر چکا ہے اور خشک تہہ دیکھنے والے کا منہ چڑا رہی ہے۔

ہم جیسے علم کے سمندروں نے کم پڑھے لکھوں کے نصیب میں احساس کم تری کی کالک تھوپ دی ہے، ہمارے بلاگز، ہماری تقاریر، ہمارے اداریے، ہمارے گفتگو اور ہماری سوچ تک ایسے اعمال سے لب ریز ہوتی ہے کہ جس میں کسی نے ہم سے اختلاف کیا تھا اور ہم سب مل کر گروہ در گروہ اب اس دوسری قبیل کو نیچا دکھانے کو اپنا دھرم مان بیٹھے ہیں۔ ہماری دانشوری علم کے پھیلاؤ سے زیادہ دوسروں کو نیچا دکھانے میں صرف ہوتی ہے، ہمارے قلم اپنی ذات کی اچھائی تو لکھتے ہیں برائی ان کو نظر نہیں آتی، ہمارے الفاظ اپنی ذات کے مقید ہیں، ہمارا حرف حرف احساس برتری میں لتھڑا ہے، ہم سارا دن مخالف رویہ اور سوچ رکھنے والے کو لتاڑنے میں مگن رہتے ہیں، ٹرولنگ کرتے ہیں اور اس سے ہوتا کیا ہے؟ کم پڑھا لکھا طبقہ اپنی سفید پوشی اور بھرم قائم رکھنے کے لئے ہمارا ایک بت بنا لیتا ہے۔ وہ بت پوجا جانے والا بھی ہو سکتا ہے اور شرک کی علامت بھی۔

عام آدمی اک موتی کی طرح سیپی میں بند ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو چھپا لیتا ہے۔ پھر وہ دستیاب فارغ وقت میں علم و شعور حاصل کرنے کے بجائے ویڈیو دیکھنا پسند کرتا ہے، گانے سننا پسند کرتاہے کیونکہ اہل دانش کے پاس جاکر لب کشائی کرے گا تو اپنی کم مائیگی کا احساس ہو گا۔ کم مائیگی کا احساس اس لئے ہو گا کہ ہم بیٹھے ہی یہ احساس دلانے کے لئے ہیں کہ بھائی ہم بڑی توپ شے ہیں۔ غریب آدمی دن بدن اپنی ذات میں تنِ تنہا ہوتا جا رہا ہے۔

غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے لیکن ہم فکر اور شعور رکھنے والوں کو یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ ہم جب پورے معاشرے کی بات کر رہے ہیں تو پورے معاشرے کے پاس نہ تو گاڑی ہے، نہ اچھا گھر ہے، نہ لاکھوں میں تنخواہ ہے، نہ سال میں دو دو بونس ملتے ہیں اور نہ سامان عشرت موجود ہے۔ بلکہ وہ تو آزادی اظہار رائے جیسی نعمت سے بھی محروم ہے کہ ان جانے میں اس کے منہ سے ایک ایسا لفظ نکلا کہ جو اہل علم لوگوں کو کم پڑھا لکھا لگا پھر اس عام آدمی کی ذات کی دھجیاں اڑا دی جائیں گی۔

صاحب قلم حضرات سے گزارش ہے کہ اپنی ذات سے، اپنے نام سے، اپنے اداروں سے، اپنی قوم برادری سے، اپنی گاڑی، تنخواہوں سے باہر نکل کر دیکھیں، باہر ہزاروں بہت عجیب اور الگ الگ مسائل ہیں جو ہم دیکھ ہی نہیں پاتے۔ دیکھنا چاہتے بھی نہیں ہیں کیونکہ وہ نہ تو ہماری قبیل ہے اور نہ ہی ہمارے برابر اسٹیٹس کے حامل۔ قبیل اپنی اپنی، مسائل اپنے اپنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •