صحافتی کردار، غور و فکر کا متقاضی


اہل قلم دانشور اور ادیب قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ معاشرے میں ان کا کردار بھٹکے ہوؤں کو درست سمت کے دھارے میں لانے کے لئے ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ موجودہ صحافت کی بنیاد سترہویں صدی میں پڑی، جب جرمنی اور بعض دیگر ممالک میں حالات و واقعات پر مبنی رپورٹس کی اشاعت با قاعدگی سے شروع ہوئی۔ گو رپورٹس لکھنے کا رجحان سترہویں صدی سے بھی قبل تھا لیکن وہ بہت رازدارانہ انداز میں ہوتا تھا۔ اخبارات اور رسائل کی اشاعت عام اٹھارہویں صدی میں ہوئی، جب جرمنی، برطانیہ اور فرانس سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے نکلنے والے اخبارات و رسائل کی تعداد ایک سے زائد ہو گئی اور اسی دور میں صحافت نے با قاعدہ ایک شعبے کی شکل اختیار کر لی۔

1920ء میں جب ریڈیو نشریات کا آغاز ہوا تو اخبارات و رسائل کے مقابلے میں حالات سے آگاہی بہت تیز اور وسیع تر علاقوں تک ممکن ہوئی اور پھر ریڈیو نشریات سے ہی الیکٹرانک میڈیاکی بنیاد پڑی۔ 1940ء تا 1960ء کے بعد صحافتی میدان میں ٹیلی ویژن کی ایجاد نے تبدیلی اور ترقی کے عمل کو تقویت دی۔ 2000ء میں انٹرنیٹ کے آغاز سے حالات و واقعات تک رسائی میں مزید تیزی آ گئی۔ 2002ء میں جب پاکستانی نیوز چینلز آنا شروع ہوئے تو جہاں خبریت کے مقابلہ کی فضا کو تقویت ملی، وہیں سنسنی خیزی خبریت نے بریکنگ نیوز کی جگہ لے لی اور پھر یہیں سے زرد صحافت کی بنیاد پڑی۔ زرد صحافت (Yellow Journalism) کی ایک پست ترین شکل ہے جس میں کسی خبر کے سنسنی خیز پہلو پر زور دیتے ہوئے اس خبر کی شکل اتنی مسخ کر دی جاتی ہے۔ کہ اس کا اہم پہلو قاری کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

یہ اصطلاح انیسویں صدی کی آخری دہائی میں وضع ہوئی، جب نیویارک کے اخبارات کے رپورٹرز اپنے اخبارات کی اشاعت بڑھانے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر وحشت ناک اور ہیجان انگیز رپورٹنگ کرتے تھے۔ زرد صحافت کی اصطلاح در اصل اس سنسنی خیز ”کامک سیریل“ سے ماخوذ ہے جو (Yellow Kid) کے عنوان سے امریکی اخبارات میں شایع ہوتا تھا۔ آپ اردو صحافت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے بھلا اس کے کردار کو کون فراموش کر سکتا ہے، صحافت جس کے راہبر کبھی مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خان ہوا کرتے تھے۔

بد قسمتی کہہ لیجیے آج صحافت جیسے مقدس پیشے کی شہہ رگ پر ایسے افراد گرفت کر چکے ہیں، جن کا مقصد صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ صحافت اور تجارت اس انداز میں گڈ مڈ ہوئی کہ صحافت نے کاروبار کا منصب سنبھال لیا۔ ایک وقت تھا کہ جب صحافت کے بے باک و نڈر علم کے خزینوں سے مخمور، عمل کے شیدائی، فکر و فن کے سر تاج صحافیوں نے اپنے قلم کو بیرونی طاقت کے خلاف وقف کر رکھا تھا۔ ان کے نزدیک صحافت پیشہ نہ تھی۔ انہوں نے قلم کی حرمت پر آنچ نہ آنے دے کر اس قلم سے وہ کام لیا جو کسی زمانے میں شمشیر و سناں اور تیر و تفنگ سے لیا جاتا تھا۔

آپ 1857ء کی جنگ آزادی پر نظر دوڑائیں، ہندوستانیوں کے دل و دماغ میں قلم سے نکلے لفظوں نے جو آزادی کی روح پھونکی، پھر ذہنوں اور دلوں میں اٹھنے والی یہی بغاوت آزادی کی بنیاد ٹھہری۔ پس پردہ فوج میں کارتوسوں کی تقسیم کے جس مشہور واقعے کا ذکر تاریخ کے اوراق میں نظر آتا ہے۔ اس واقعے کو پر لگا کر ہوا کے دوش پر اڑا کر پورے ملک میں پھیلاکر جس طرح ضمیر کو جھنجھوڑا یہ روح پھونکنے کا عظیم کارنامہ صرف اُردو اخبارات ہی کے حصے میں آیا۔

شیش محل کے بالا خانوں، سیاسی ایوانوں سے لے کر غربت کدوں کی بوسیدہ دیواروں تک اور کھیل کے میدانوں سے لے کر زنداں کے روشن دانوں تک اس کو جو اذن بازیابی حاصل ہے اس کی بنیاد ہم صحافت پر رکھ سکتے ہیں۔ صحافت ملک وملت کا آئینہ دار اور صحافی کو تاریخ کا گواہ کہا گیا ہے۔ صحافت نے نہ صرف سیاسی چیرہ دستیوں کے پردوں کو چاک کیا بلکہ عوام کے معاشی استحصال کی نقاب کشائی کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی زندگی کو ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا قلم سے ٹپکنے والی روشنائی اور شہید کے بدن سے ٹپکنے والا لہو ان دونوں میں یہ خصوصیت اور انفرادیت ہے کہ ان میں سے جو ٹپکتا ہے، جم جاتا ہے صحافت کا قد کاٹھ بلند کرنے میں ان ہزاروں صحافیوں کا خون بھی شامل ہے، جنہوں نے حالات کے جبر کے سامنے سینہ سپر ہو کر سچائی کا علم بلند رکھا۔

مقام افسوس کہ آج پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ معتبر نام اشرافیہ حکمرانوں کی چوکیداری پر مامور نظر آتے ہیں حکمرانوں نے زر سے ان کی عقل سلیم تک چھین لی کوئی تخت لاہور کے ستونوں کو کندھا دے کر مضبوطی دیتا نظر آتا ہے تو کوئی جیے بھٹو کے کارڈ کو تقویت دینے میں اپنے فرائض منصبی سے غداری کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یہ ملت کے وہ کردار ہیں جو معاشرہ کے دل، کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہیں ملک کا چوتھا ستون عوام کی امیدوں کا مظہر ہے شعبہ صحافت سے جڑے یہ کردار اگر اس شعبے سے جڑے تقاضوں کو ہی مد نظر رکھ کر اپنا فریضہ ادا کریں تو یقین جانیے اناؤں سے گندھے بت عوام کے قدموں میں ڈھیر ہو کر پاش پاش ہو جائیں۔

جب یہی لوگ اپنے اپنے مفادات کو گرہ سے باندھ کر ریاست کی زبان بولنے لگ جائیں تو پھر اس قوم کو پستیوں میں دھکیلنے والے کرداروں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ قلم کی تقدیس اسی میں ہے جب آپ اس شعبے سے جڑے تقاضوں کے امین ٹھہریں۔ شعبہ صحافت سے منسلک وہ کردار جو لیڈنگ رول پلے کر سکتے ہیں اسی ڈگر پر چلتے رہے تو یہ قوم مسائل کے عفریتوں سے لڑتی لڑتی تھک ہار کر تاریخ کا حصہ بن جائے گی اور چوکیداری پر بیٹھا میڈیا انہی اشرافیہ خاندانوں کو مائل پرواز ہوتا دیکھے گا جب آنکھوں سے زر کی پٹی ہٹے گی، تو حالات بہت بدل چکے ہوں گے۔ آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو سوائے پچھتاوے اور دھول کے کچھ نظر نہیں آئے گا۔

آغا شورش کاشمیری ایک جگہ فرماتے ہیں یار لوگ کچھ بھی کہتے رہیں مجھے یقین ہے کہ محشر کے روز بارگاہ ایزدی میں اس عنوان سے سرخ رُو ہوں گا کہ میں اپنے آقا و مولا سرور کائنات ﷺ کے سامنے شرمندہ چہرے کے ساتھ پیش نہیں ہونا چاہتا۔ قلم و زبان قدرت کا عطیہ ہے انہیں پیشہ بنانے کا وہی لوگ حوصلہ کر سکتے ہیں جن کی غیرت آوارہ مصرعوں کی طرح اڑتی پھرتی ہے قلم کو ہمیشہ ضمیر کی آواز پر اٹھاتا ہوں لہٰذا کسی لفظ پر اس لحاظ سے ندامت نہیں ہوئی کہ اس میں کوئی مخفی اشارہ ہے یا اس پر کسی اور کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

ملک کے موجودہ حالات کا جائزہ لیجیے، عوام آج بھی مسائل سے دو چار اور بنیادی ضروریات زندگی سے عاری مایوسی کے دوراہے پر کھڑے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مفادات کی گرہ سے بندھا میڈیا عوام کے لئے درست سمت کا تعین نہ کر سکا، جس کے باعث گھمبیر مسائل عوام کے لئے قتل گاہیں بن چکے ہیں۔ اکیسویں صدی کے میڈیا پلرز کے لئے یہ حالات غور و فکر کے متقاضی ہیں کہ یہ قوم آج ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں جگہ کیوں نہ بنا سکی۔

Facebook Comments HS