شاید کہ اترجائے ترے دل میں مری بات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت عرصہ ہوا کسی جگہ پڑھا تھا کہ یادگاریں علامتی ہوتی ہیں۔ یہ ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا نہیں کرتیں۔ یہ کسی بے روزگار کو نوکری نہیں دلا سکتیں، یہ کسی بھوکے کا پیٹ نہیں بھر سکتیں اور نہ ہی یہ بگڑے تعلقات کو سدھار سکتیں ہیں۔ لیکن ان تمام کمزوریوں کے باوجود یہ یادگاریں ایک اہم فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ یہ انسان کو چند لمحوں کے لیے خوشی دیتی ہیں۔ یہ انسان کو اس کی تاریخ سے بھلے چند ثانیوں کے لیے سہی، آگاہی دیتی ہیں۔ یہ چند ساعتوں کے لیے ہمارے ذہن اور دماغ کو تازگی فراہم کرتیں ہیں۔ جب انسان ایک ہی جگہ پر زندگی گزار کے بوریت اور یکسانیت کا شکار ہونے لگتا ہے تو ان یاد گاروں کا ایک سفر ہمارے ذہن کو نئی جلا بخشتا ہے۔

ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا جب چند دوستوں کے ساتھ جنوبی پنجاب کو دیکھنے کا پروگرام بنا تو پہلے تو جس سے بھی بات کی جنوبی پنجاب کا سن کر اس نے ہماری دل شکنی کی بلکہ چند ایک نے تو اچھا خاصا مذاق بھی بنا ڈالا۔ مگر دل اور دماغ کی اس جنگ میں بالا آخر جیت دل کی ہوئی اور ہم نے رخت سفر باندھ ہی لیا۔ یہ الگ بات کہ گونا گوں مصروفیات یا شاید جنوبی پنجاب کی گرمی کا سن کر کچھ احباب، وعدے کے با وجود اس سفر میں شریک نہ ہوسکے اور مسافران قافلہ کی تعداد آدھی رہ گئی۔ مگر اس بات کا احساس ہمیں اس سفر کے اختتام سے بہت پہلے ہی ہو گیا تھا کہ ہم اگر لوگوں کی بات مان لیتے اورادھر نہ آتے اور کہیں اور چلے جاتے تو زندگی کے ایک یادگار ایڈونچر سے محروم رہ جاتے۔

سب سے پہلے تو اس بات کا تذکرہ ہو جائے کہ اس تحریر کا مقصد اپنے سفر کی بے جا تفصیل کا ذکر کر کے آپ کو بور کرنا نہیں اور نہ ہی کالم کا پیٹ بھرنا ہے بلکہ اس احساس کا ذکر کرنا ہے جو ہمیں اس سفر کے دوران قدم قدم پہ ہوا اور اس حقیقت کا اعادہ کرنا ہے کہ ہمیں کون کون سی نعمتیں عطا کی گئی تھیں اور ہم ان کی قدر نہیں کر رہے۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی حالت بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ہماری اس کیفیت میں شریک ہونے کے لیے آپ کو کچھ دیر ہمارے ہم رکاب ہونا پڑے گا۔

پانچ دن کایہ سفر جو بہاول پور سے شروع ہوا اور مختلف منازل طے کرتا ہوا ملتان پہ ختم ہوا۔ لیکن یہ سفر ہمیں بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر گیا۔ کہیں پر شکوہ محلات کو دیکھ کر ان کی اور کبھی ان میں رہنے والوں کی شان و شوکت اور جاہ و جلال کا اندازہ ہوا، کہیں پرانے قلعوں کی شکست و ریخت کو دیکھ کر زمانے کی بے ثباتی کا احساس بھی ہوا کہیں مزاروں کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر دل بھر آیا تو کہیں حضرت انسان کو طرح طرح کی بدعتوں میں مصروف دیکھ کر اپنے مالک حقیقی سے دوری کا احساس ہوا۔

یہاں ایک اور بات کا اقرار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اس سفر سے پہلے جنوبی پنجاب کے بارے میں کوئی واضح نظریہ نہیں تھا۔ ہم میں سے کچھ نے بہاول پور اور ملتان کے صوبے بننے کے بارے میں چند مضمون پڑھ رکھے تھے جن میں اس علاقے کی ثقافت اور تاریخی عمارات کی بجائے سیاست پہ زیادہ زور ہوتا تھا۔ یہاں آ کے معلوم ہوا کہ اس ریاست میں بہت سی تاریخی عمارتیں مقبرے اور پارک ہیں، عامتہ الناس کو ان کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں ستائیس مختلف تاریخی عمارتیں اور دل کش مناظر ہیں، جن میں سیاحت کے اعتبار سے بہت پوٹینشل موجود ہے لیکن ہم اس طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے۔ شاید اس طرح کے کام ہماری ترجیحات میں نہیں۔ ہم سوئٹزر لینڈ، اٹلی اور سپین میں جو چیزیں ڈھونڈ نے جاتے ہیں، ان خوابوں کی تعبیر پانے اپنے ملک کیوں نہیں جا سکتے۔ ہم اپنے ملک میں اندرونی سیاحت کو فروغ کیوں نہیں دیتے۔ گورے اگر دنیا کے پہلے زیبرا کراسنگ اور ایبے روڈ کے سگنل کو تفریح کا ذریعہ بنا سکتے ہیں، تو کیوں ہم ہیڈ پنجند، لال سوھانرا پارک اور دراوڑ قلعے کو سیاحت کا مرکز نہیں بنا سکتے؟ کیوں ہم بیرونی دنیا کی توجہ اس طرف مبذول نہیں کرا سکتے۔

میں نے تاج محل نہیں دیکھا صرف فلموں اور اخباروں میں اس کی تصویریں دیکھی ہیں۔ لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے کہ بہاول پور کے محلات اگر خوب صورتی میں ان سے آگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں۔ بات صرف ان محلات اور اس طرح کی دوسری عمارتوں کی مارکیٹنگ کرنے کی ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ ہم ایسا کیوں کریں؟ شاید ایسا کرنا ہم اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے حالات کا رونا تو روتے رہتے ہیں لیکن ان حالات کو بدلنے کی کو شش نہیں کرتے۔

آخر میں ایک اور بات کیوں نہ ہم ان عمارات کو مختلف نیم سرکاری اور خود مختار اداروں کے حوالے کر دیں اورو ان کی تزئین آرائش اور دیکھ بھال کا آپ بند و بست کریں۔ ہاں ان پہ ایک بات لازمی قرار دی جائے کہ ان کو عوام کے لیے کھولا جائے۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو ان عمارتوں کو چلانے کے لیے اخراجات نکل آئیں گے اور دوسرا عوام کو اپنی تاریخ سے آگاہی حاصل ہوتی رہے گی۔ کچھ عمارتوں جیسے نور محل کے ساتھ ایسا کیا جا رہا ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی عمارتوں اور قلعوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے۔

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے مری بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •