کیاکم سن بچوں کی شادیاں خلاف اسلام ہیں ؟



’’تم ہندو ہو ، تمہیں یہ بل پیش ہی نہیں کرنا چاہئے تھا‘‘۔ یہ مشورہ نہیں پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم ارکان پارلیمنٹ اور دستور پاکستان کے منہ پر زور کا طمانچہ ہے ۔ ہندوبرادری کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ شکوہ کیا کہ کم سن بچوں کی شادیوں پر پابندی کابل پیش کرنے پر اس کی مخالفت کوئی انہونی بات نہیں لیکن جب یہ الفاظ ان ہی کی سیاسی جماعت کے وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے انہیں کہے تو انہیں افسوس ہوا ۔

پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں مختلف سیاسی ،سماجی ، دفاعی اور مالیاتی امورپیش ہوتے رہتے ہیں اور ان مجوزہ قانونی مسودوں کی تائیداور مخالفت بھی کوئی انہونی بات نہیں ۔ سیاسی نظم کے یہ تحت قائم کئے گئے یہ ایوان ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے باہمی مشاورت سے سماج اور ریاست کی بہتری کے لئے قوانین مرتب کریں تاکہ معاشرے میں امن وسکون اور استحکام آئے ۔ لیکن کسی غیر مسلم رکن قومی اسمبلی سے یہ کہنا کہ کم سن بچوں کی شادیاں مسلمانوں کا معاملہ ہے اور کوئی غیر مسلم اس پر بات نہیں کرسکتا یہ دستور پاکستان کی توہین ہے ۔

شادیاں اسلام سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں ۔ شادی صرف اسلام ہی نہیں کسی بھی سماج کا ایک مروج معمول ہے ۔مغربی سماج کی بات ہم رہنے دیتے ہیں کہ وہ تو اس حد سے بہت آگے جاچکے۔ نسل انسانی کی بقا اورخاندان کی بنیاد رکھنے کے لئے شادی ایک سماجی معاہدہ ہے۔ ہر معاشرے میں شادی کے کچھ رسوم و رواج موجود ہیں جو ہر ملک،مذہب اور علاقے میں مختلف ہوسکتے ہیں۔

یہ کہنا کہ پاکستان میں کم سنی کی شادیوں پر کوئی غیر مسلم بات نہیں کرسکتا ،بالواسطہ طور پر اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ قبیح فعل صرف مسلمانوں میں ہی پایا جاتا ہے ۔الفاظ کچھ سخت ہوں تو معاف کیجئے گا لیکن ایک ایسے بچے کو جسے شادی کا معانی و مفہوم تک نہیں معلوم ، میاں اور بیوی کے رشتے کی نزاکت ، اہمیت اور اس کے تقاضوں سے وہ نابلد ہے تو اس کی شادی کو رضامندی سے ہونے والا عمل کیسے تصور کیا جاسکتا ہے ۔

عام طور پر یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ سن بلوغت کا تعین ایک مشکل امر ہے اور ہر خطے میں اس کا معیار مختلف ہوسکتا ہے ۔ یہ کہ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے (پاکستان میں بلوغت کی عمر اٹھارہ برس طے ہے ) نکاح تو ہو سکتا ہے لیکن رخصتی نہیں ۔ یہ سب دلائل اسلام کے نام پر دیئے جاتے ہیں لیکن شادی کی’’ استطاعت‘‘یا ’’طاقت ‘‘رکھنے کا جو اصول اسلام نے بتایا ہے اس کی بات ہی کوئی نہیں کرتا۔

ملکی قوانین کا احترام اپنی جگہ لیکن ایک لمحے کے لئے ذرا سوچئے کہ اٹھارہ برس کی عمر تک ایک لڑکا یا لڑکی سکول کی تعلیم یعنی ایف اے مکمل کرپاتے ہیں ۔پاکستان میں ہائیر سکینڈری سکول سے نکلنے والے کتنے بچے بچیاں ہیں جو شادی جیسے اہم ترین رشتے کی اہمیت کو جانتے اور سمجھتے ہیں ؟۔اٹھارہ برس کے کتنے لڑکے اور لڑکیا ں ہیں جو میاں بیوی کے حقوق فرائض س کما حقہ آگاہ ہیں ؟اس عمر کے کتنے لڑکے لڑکیا ں ہیں جو ماں باپ کے حقوق و فرائض کا ادراک رکھتے ہیں اور ماں یا باپ کا رشتہ نبھانے کی صحت ، معاشی استطاعت یا ذہنی صلاحیت رکھتے ہیں ؟ کتنے بچوں کے والدین ہیں جنہوں نے اس عمر تک پہنچنے والی اولادکو اس رشتے سے متعلق بتایا بھی ہوتا ہے کہ یہ کیا بلاہے ۔کیا یہ ریاست کا کام ہے؟اگر ہاں تو اس سے متعلق مواد نصابی کتب میں شامل کرنے پر اسے بے حیائی سے تعبیر کیوں کیا جاتا ہے ؟۔کیا کم سنی کی شادیاں صرف مسلمانوں میں ہوتی ہیں؟۔

در اصل شادی مذہبی معاملہ ہر گز نہیں ، مختلف مذاہب میں اس کی رسوم ورواج اور میاں بیوی کی ذمہ داریوں کا تعین الگ سے ہوسکتا ہے لیکن شادی خالصتاََ ایک سماجی معاملہ ہے اور اس کے متعلق قوانین بھی سماجی تقاضو ں کے مطابق ہی بنائے جانے چاہئیں۔ کہا جاتا ہے کہ کم سنی کی شادیوں پر پابندی خلاف اسلام ہے تو سوال یہ ہے کہ اسلام نے کہاں یہ حکم دیا ہے کہ دس، پندرہ یا بیس برس کے لڑکے یا لڑکی کی شادی لازم ہے ۔ ایسی صورت میں ان خواتین اور مردوں کے لئے کیا احکامات ہیں جن کی شادیاں اس عمر میں نہیں ہوپاتیں ؟۔کیا ان کے لئے کوئی سزا متعین کی جانی چاہیے ؟خاص طور پر ان خواتین کا معاملہ کیا ہوگا جو تعلیم یافتہ یا باشعور ہونے کے باوجود غربت کے جرم یا خوبصورتی کے معیارپر پورا نہ اترنے کی صورت میں شادی کے انتظار میں بوڑھی ہوجاتی ہیں ؟

مذہبی حلقے کم سنی کی شادی کا جواز ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی حضور اکرمﷺکے ساتھ شادی سے نکالتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ وہ شادی کن حالات ، کس معاشرے اور کن تقاضو ں کے تحت ہوئی ۔ ایسے افراد کو اگر یہ بتایا جائے کہ حضرت عائشہ کی رخصتی تقریباََ انیس برس کی عمر میں ہوئی تھی تو انہیں حیرانی ہوگی کیونکہ انہوں نے زندگی میں کبھی اس بارے میں چھان بین کی کوشش نہیں کی ہوگی بلکہ روایتی ملاؤں کی بتائی ہوئی باتوں کو دہرانے کے بعد ان کاعلم جواب دے جاتا ہے ۔

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حضرت عائشہ کا نکاح چونکہ رخصتی سے پہلے ہو چکا تھا اس لئے کم سنی میں نکا ح تو ہوسکتا ہے لیکن رخصتی سن بلوغت کے بعد ہو گی یا پھربلوغت کی عمر میں لڑکا یا لڑکی اس نکا ح کے بندھن سے اپنی مرضی کے مطابق آزاد ہو سکتے ہیں ۔ معاف کیجئے گا جو رشتہ زبان کی ایک ناں یا سر کی ایک جنبش کی مار ہے اس کے لئے آپ اتنا تردد فرما کیوں رہے ہیں ؟جلدی کیا ہے ؟یہ جلد بازی ہی بتاتی ہے کہ مقصود اسلامی روایات و قوانین کی سربلندی نہیں بلکہ کچھ اور ہے ۔ ہمارے ہاں تو جوان خواتین مرضی کی شادی کی جسارت کم ہی کر سکتی ہیں تو جس لڑکی کی شادی ہی کم سنی میں کر دی جائے ؟کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ناپسندیدگی کی صورت میں زبردستی کے اس نکاح سے انکار کر پائے گی ۔

وقت بہت آگے جا چکا ، ان مسائل کا شکار صرف لڑکیاں یا خواتین ہی نہیں بلکہ لڑکے اور مرد بھی ہیں ۔ آج کل کی مائیں اپنے بیٹوں یہ کہہ کر بلیک میل کرتی ہیں کہ ’’ میں تینوں بتی دھاراں نئیں بخشنیاں‘‘۔(میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی)،لیجئے بتیس دھاریں بخشوانے کے چکر میں زبردستی کی شادی کے بعد وہ بتیس برس کی عمر ساٹھ برس کا بیمار دکھائی دیتا ہے ۔ کچھ دن پہلے گفتگو میں ایک محترم خاتون نے کہا ’’ میری نظر میں اس معاشرے کے اسی فیصد مردزبردستی کی شادیاں نبھانے پر مجبور ہیں ‘‘۔دیجئے اب اس بات کا جواب؟جو معاشرہ اس نہج پر پہنچ چکا ہو اس معاشرے میں آپ جنسی بے راہ روی اور اس جیسے دوسرے جواز گھڑ کر کم سنی کی شادیوں کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں ؟

وزیر مذہبی امور نو رالحق قادری کی نواز ش ،فرمایا اس بارے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کرنی چاہیے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی بھی سن لیجئے !سیاسی اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر اسلامی نظریاتی کونسل اپنی اہمیت اور ساکھ کھو بیٹھی ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل میں براجمان ذاتی مفادات کے اسیر بعض ارکان کی لڑائیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔ اور پھرخود اسلامی نظریاتی کونسل بھی یہ بات تسلیم کرچکی ہے کہ کم سنی کی شادیاں معاشرتی مسائل کا سبب بن رہی ہیں ۔ لیکن ساتھ ہی اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ کہہ کر دودھ میں مینگنیاں ڈال دیں کہ اس پر پابندی کی بجائے اس کے خلاف مہم شروع کی جائے ۔جب ایک عمل معاشرتی مسائل اور بگاڑ کا سبب بن رہا ہے تو اس پر پابندی کی بجائے مہم کا دلیل ماورائے عقل و دانش ہے ۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ کم سنی کی شادیوں سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچنے کے لئے ریاست اس پر پابندی عائد کرے ۔میاں بیوی کے اس مقدس رشتے کو پیچیدگیوں سے پاک رکھنے کے لئے لازم ہے کہ نکاح کے موقع پر میاں بیوی سے ان کی مرضی پوچھنے کے لئے ریاست آزاد ماحول فراہم کرے اور زبردستی کے رشتے بنانے سے احتراز کیا جائے تاکہ معاشرے کوطلاق جیسے ناپسندیدہ اور خاندانوں کے بکھرنے کے تکلیف دہ امر سے ہر ممکن حد تک بچاجا سکے ۔

Facebook Comments HS