چار ویک اینڈ کا دیس نکالا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسمِ بہار نے ہر طرف اپنے رنگ بکھیرنا شروع کر دیے تھے۔ نہر کنارے سبنل کے درختوں سے جھڑے خزاں رسیدہ سرخ، جامنی اور پیلے پتے بھی بہار کے رنگوں میں شامل ہو گئے تھے۔ سنبل کے یہ درخت ساری رات خزاں رسیدہ پتوں کو چن چن کر اپنی شاخوں سے جدا کرتے رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے عید کی رات بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے والا اپنے سر کے بالوں سے ایک ایک سفید بال چن چن کر نکال دیتا ہے۔

سبز اور مٹیالے رنگ کی گھاس نے جب ان بے وطن پتوں کو اپنے سینے پر دوڑنے پھرنے کی اجازت دی، تو ان کا حسن قہر برپا کرنے لگا۔

جب ہوا کے جھونکے ان دْھتکارے ہوئے پتوں کے رخسار چومتے تو وہ شرما کر ایک نا سمجھ آنے والی آواز نکالتے ہوئے ماحول میں سر تال بکھیرتے اپنی جگہ تبدیل کر لیتے۔

بہار ہو یا خزاں، ہر کسی کو اُس کے اپنے اندر کے موسم کے مطابق محسوس ہوتی ہے۔ باہر کی بہار بے معنی اور بے کیف ہو جاتی ہے، اگر اندر خزاں رسیدہ ہو۔ اور اگراندر بہار ہوتو باہر کی خزاں کے پیلے پتے بھی بہار کے حسین پھول دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے اندر خزاں رسیدہ ہوتے ہیں، انہیں پھولوں کے رنگوں کی حرارت محسوس نہیں ہوتی۔ اور جن کے اندر بہار کے رنگوں سے مزین ہوتے ہیں، وہ خزاؤں میں بھی رنگ تلاش کر لیتے ہیں۔

کمال کے اندر نا جانے آج کس موسم نے خیمے لگارکھے تھے کہ وہ منہ میں کچھ بڑ بڑاتے اور ہر کسی کو گھورتے ہوئے ہر کسی سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس نے دائیں ہاتھ میں ایک اونی دستانہ پہنا ہوا تھا جب کہ بائیں ہاتھ کا دستانہ اپنی پینٹ کی جیب میں اس طرح ٹھونس رکھا تھا کہ اس دستانے کا انگوٹھا جیب سے باہر جھانک کر کمال کی جَلدیوں کی گواہی دے رہا تھا۔ ننگا ہاتھ جب سردی کی شکایت کرتا، تو وہ بازو مروڑ کر اسے کمر کے پیچھے چھپا لیتا۔

وہ ٹریفک سگنل پر تیز بریک لگا کر رُکا اور کچھ بڑ بڑاتے ہوئے بالوں سے خالی سر پر سے ٹوپی اُتارتے ہوئے جھاڑنے لگا۔ وہ جتنی دیر اشارے پر رکا رہا، اپنے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ جب اشارہ کھلا تو اس نے ٹوپی کو سر پر رکھا، اسے نیچے کی طرف کانوں تک کھینچا، پیلے رنگ کے اونی سکارف سے ٹوپی کو ڈھک کر ٹھوڑی کے نیچے لا کر باندھا اور اْسی جوش اور جذبے کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گیا۔ چونکہ سڑک پر ٹریفک زیادہ تھا، اس لئے اب وہ سڑک کے بائیں کنارے کے قریب اطمینان سے موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔

یہ ویکینڈ بھی برباد ہی گیا۔ کیا ضرورت تھی بچوں کو شالیمار دکھانے کی اور کیا سارے خاندان کو میرا ہی گھر ملا ہے ہوٹل بنانے کے لئے۔ بندہ ایک دن رہ لے۔ دو دن رہ لے۔ یہ کیا کہ ہفتہ بھردوسرے گھر پر بچوں سمیت پڑا رہے۔

وہ اپنی سوچوں میں مگن اپنے بھائی پر ناراض ہو رہا تھا، جو ایک ہفتے سے اس کا مہمان بنا ہوا تھا۔

اُسے اپنے اْس ویکینڈ کے ضائع ہونے کا تو دکھ تھا ہی، اصل دُکھ گڑیا کے فراک کے لئے سنبھال کر رکھے پیسوں کے خرچ ہونے کا تھا۔ گڑیا نے دو مہینے پہلے بازار میں ایک فراک دیکھا تھا جو اسے بہت پسند آیا تھا۔

گڑیا کو فراک اس لئے پسند نہیں آیا تھا، کہ وہ بہت خوبصورت تھا۔ بلکہ اس لئے کہ وہ فراک ٹی وی کے اشتہار میں ایک پیاری سی لڑکی نے پہنا ہوا تھا۔ گڑیا سمجھتی تھی کہ اگر وہ بھی وہی فراک پہن لے تووہ بھی ویسی ہی خوبصورت دکھائی دے گی۔ پیاری سی پری۔ یوں فراک کے حصول کی خواہش نے جونک بن کر اس کے ننھے سے دل کو جکڑ لیا۔

کمال جونہی گھر میں قدم رکھتا، گڑیا باپ کے کندھوں پر سوار ہو جاتی اور فراک کا تقاضا کرتی۔ کمال کچھ حساب کتاب کرتا اور کہتا، ”بیٹا! آج نہیں، اس ویکینڈ پہ۔ لا دوں گا۔ ضرور اس ویکینڈ پر۔“
”اس ویکینڈ پہ۔ نہیں بابا ویکینڈ تو ابھی بہت دور ہے۔“
جب حتمی انکار کرتا تو گڑیا یہ کہتے ہوئے روٹھ جاتی۔ ”آپ گندے بابا ہو میرے لئے ایک فراک نہیں لا سکتے، بھائی کو روز دودھ پلانے بازار لے کر جاتے ہیں۔“

ماں گڑیا کو ڈانٹتی اور کمال بیوی کو۔ یوں وہی ازلی کھچ کھچ شروع ہو جاتی جو ازدواجی رشتے میں بندھے جوڑوں کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے۔ جس کا اختتام اس پر ہوتا کہ گڑیا رو رو کر کمرے میں چلی جاتی اور کمال گھر سے باہر۔ اس کی بیوی صائمہ نصیبوں ماری برتن دھونے میں جت جاتی۔ رات دیر تک کمال گھر نہیں لوٹتا تو صائمہ کوئی نہ کوئی کام نکال لیتی اور کمال کے آنے کا انتظار شروع کر دیتی۔

کمال اپنے دوستوں کے پاس چلا جاتا۔ تاش کھیلتا، پتوں کو خوب گالیاں دیتا اور اونچی اونچی آواز میں قہقہے لگاتا۔ جب اڈا بند ہونے لگتا تو وہ اپنے سارے قہقہے وہیں پتوں میں چھوڑ کر اپنے دکھوں کا سکارف اوڑھ کر گھر کا رخ کرتا۔

ہر مرد یہی کرتا ہے۔ اپنے دکھوں کو باہر کی کسی نہ کسی مصروفیت میں وقتی طور پر دفن کر کے راہِ فرار اختیار کرتا ہے یہ بھول کر کہ وہ باہر کتنا ہی وقت گزار لے آنا تو گھر ہی ہوتا ہے۔ وہ گھر جس کے سنگ و خشت اور گوشت پوست سے بنے پیارے سب اُس کی راہ تکتے انتظار کے پل آنکھوں میں گزار دیتے ہیں۔ بھلا خوشبو اپنے پھولوں سے کتنی دیر دور رہ سکتی ہے اور لباس اپنے وجود کے بغیر کب تک بے وجودہ رہ سکتا ہے۔

کمال کی غیر موجودگی میں صائمہ کچھ نہ کچھ کر ہی لیتی۔ کبھی پرانے کپڑوں کو جوڑ جاڑ کر گڑیا کے لئے کوئی نیا فراک بنا ڈالتی، کبھی کوئی سویٹر شروع کر دیتی اور کبھی کوئی ادھورا سویٹر مکمل کر لیتی۔ جب کمال گھر لوٹتا تو وہ گہری نیند سے جاگنے کی اداکاری کرتے ہوئے دروازہ کھول دیتی۔ کمال کے سامنے کھانا اس طرح رکھتی جیسے کسی اجنبی کے سامنے۔ پھر دونوں خاموش بیٹھے رہتے، کمال کھانا ختم کرتا، اپنے بستر پر جا کر سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتا، صائمہ چائے کا کپ لا کر اُس کے سرہانے رکھتی اور بستر پر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ جاتی۔ بس جونہی اْس کی کمر بستر پر لگتی، وہ نیند کی وادیوں میں کھو جاتی۔ کمال بستر پر لیٹے لیٹے دو تین سگریٹ پیتا اور پارٹ ٹائم کام کے منصوبے بناتے بناتے سو جاتا۔

اسی طرح کئی دن گزر جاتے، پھر انہی خامشیوں کے پہرے میں ان دونوں میں سے کسی ایک کے لبوں سے کوئی ایک جملہ نمودار ہوتا جو زبان بندی کی سزا ختم کر دیتا۔ یوں ویکینڈ پر ایک ویکینڈ کا یہ دیس نکالا ختم ہو جاتا۔

ہمیشہ کی طرح پہلی کا دن آیا تو کمال گھر سے تہیہ کر کے نکلا تھا، کہ تنخواہ ملتے ہی وہ سب سے پہلا کام یہی کرے گا، کہ گڑیا کے لئے فراک خریدے گا۔
”ہمیشہ کا کت خانہ آج مکا ہی دینا ہے۔‘‘

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •