سرگودھا یونیورسٹی میں پنجاب کانفرنس
خوبصورت مقامی الفاظ کو اجنبی الفاظ سے بدلا جارہا ہے اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ خود عوام اس میں شریک جرم ہیں۔ چونکہ تمام مقامی زبانیں جن میں پنجابی بھی شامل ہے فرقہ واریت کے خلاف رہی ہیں اسی لیے ان زبانوں کی عدم ترویج سے معاشرے میں فرقہ واریت کو بڑھاوا ملا ہے۔ اسکولوں میں پنجابی اور دیگر زبانوں کی تعلیم سے معاشرے میں برداشت بڑھے گی اور جس رواداری کا درس ہمارا لوک ادب دیتا ہے اسے سہارا ملے گا۔
جی سی یونی ورسٹی لاہور سے پنجابی کے اسکالر ڈاکٹر ظہیر وٹّو نے پوسٹ کلونیل پنجابی لٹریچر یا بعد نو آبادیاتی پنجابی ادب پربہت اچھی تحریر پیش کی۔ انہوں نے سامعین کو یاد دلایا کہ ”ہر قبضہ اپنے نقش قدم چھوڑ جاتا ہے جنہیں سماجی، ثقافتی اور لسانی توڑ پھوڑ میں دیکھا جا سکتا ہے۔“ قبضہ کرنے والے حقیقت یا سچائی کے اپنے تصورات کو مقبوضہ علاقوں پر بزور قوت مسلط کرتے ہیں اور پنجاب میں بھی 1809 کے معاہدہ امرتسر کے بعد یہی ہوا۔
پنجاب پر قبضہ مکمل ہونے کے بعد قابضین نے ناقص بند و بست اراضی اور عوام دشمن قوانین لاگو کر کے یہی کیا۔ ڈاکٹر ظہیر وٹّو نے وضاحت کی کہ ایسی منظم کوشش کی گئی کہ پنجاب کا لسانی نقشہ بدل جائے اور لوگوں کو ایک مصنوعی حقیقت میں ڈال دیا جائے یہ مصنوعی حقیقت لوگوں کو ان کے اصل حقائق سے محروم کر دیتی ہے۔ انہوں نے کئی مثالوں سے ثابت کیا کہ پنجابی ادب میں اس اجنبیت، استبداد اور علاحدگی کے واضح شواہد موجود ہیں۔
ایک اور شاندار مقالہ ڈاکٹر فیصل جپّاکا تھا۔ جو گورنمنٹ کالج چنیوٹ سے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے پنجابی ماہیے پر عالمی جنگوں کے اثرات پر بات کی۔ انہوں نے اوائل بیسویں صدی کے لوک گیتوں کو بڑی محنت سے جمع کیا اور اس میں پنجابی عوام کی خوشی اور غم کی نشان دہی کی۔ خاص طور پر عالمی جنگوں سے پہلے اور بعد میں پنجاب جس درد و الم سے گزرا اس کا اظہار پنجابی ماہیوں سے کیسے ہوا ہے اس کی تشریح بڑی دل چسپ تھی۔ ماہیا ایک عوامی ذریعہ اظہار تھا اور ان میں عوامی جذبات بڑے واضح تھے۔ ڈاکٹر فیصل جپّا نے ماہیوں کی تخلیق و ترویج پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان تاریخی واقعات کی جس طرح نمایندگی ماہیوں نے کی ہے شاید کوئی تاریخ دان بھی نہ کر سکے۔
خاص طور پر بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں کے پنجابی ماہیے عالمی جنگ کے بتدریج اثرات کو واضح کرتے ہیں۔ ان ماہیوں میں نوجوان مردو زن کے جذبات، جدائی کے غم اور ملن کی حسرتوں کو بڑے دل گیر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ پنجاب تھا جو جنگوں کے مہلک اثرات سے تار تار ہو رہا تھا اور پنجاب کے عوام ان سے براہ راست متاثر ہو رہے تھے۔ جب لاکھوں کی تعداد میں جوان یہاں سے جبری بھرتی کیے گئے تو معاشرتی اقدار اور تار و پود کا جنازہ نکل گیا کیونکہ یہاں کے جوان یورپ کے میدان جنگ کا ایندھن بن رہے تھے۔ ڈاکٹر فیصل جپّا کے پیش کردہ ماہیے ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح پنجاب کے عوام برطانوی اور جرمن افواج کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے تھے۔
برطانیہ کی یونی ورسٹی آف باتھ سے آئے ہوئے ڈاکٹر ولی اسلم جو بین الاقوامی سیاست کے پروفیسر ہیں اپنے ایک تحقیقی منصوبے کی تفصیلات کے ساتھ لائے اور حاضرین کے علم میں اضافہ کیا۔ یہ تحقیق پنجاب کی ثقافتی و سماجی شناخت کے بارے میں ہے۔
اس تحقیقی منصوبے میں اپنے محور سے ہٹے ہوئے یا کھسکے ہوئے خطوں پر بھی تحقیق کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ولی اسلم نے بتایا کہ پاکستان میں عمومی طور پر اور پنجاب میں خاص طور پر 1970ء کے عشرے کے اواخر سے معاشرے کو عربی رنگ میں رنگنے کا چلن پروان چڑھا ہے۔ یہ عربی رنگ اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر دونوں طرف گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس خطے کے عوام میں ایسا رجحان پروان چڑھایا گیا ہے جس سے وہ قدیم ہندوستانی ورثے سے خود کو الگ کرنے لگے ہیں اور عرب کے سماجی و ثقافتی اثرات کو قبول کرنے لگے ہیں۔
ڈاکٹر ولی اسلم کی دلیل یہ تھی کہ اب پاکستانی پنجاب اپنے اصل مقامی محور سے ہٹ رہا ہے کیونکہ اب زیادہ تر پنجابی خود کو مقامی تہذیب و تمدن کا حصہ نہیں سمجھتے۔ باہر سے مشاہدہ کرنے والے بھی پاکستانی پنجاب کے موجودہ سماجی و ثقافتی نقشے کو پہچان نہیں سکتے کیونکہ یہ اب بہت بدل گیا ہے۔ اس طرح اپنے مقامی محورسے کٹے ہوئے خطے اپنی شناخت کہیں اور ڈھونڈتے ہیں گو کہ ان کا جغرافیائی محل و قوع مقامی ہوتا ہے مگر ان کا نفسیاتی قبلہ کہیں اور پہنچ جاتا ہے۔
غالباً اس کانفرنس کی سب سے معلوماتی اور عالمانہ گفتگو پنجاب کے لکھاری نین سکھ نے کی۔ انہوں نے تفصیل سے بیان کیا کہ کس طرح رنجیت سنگھ نے 1799ء میں پنجاب کی آزاد ریاست قائم کی۔ نین سکھ کے مطابق برطانوی قبضے سے پہلے کی پچاس سالہ پنجابی ریاست کو سکھا شاہی کہنا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ ایک سیکولر ریاست تھی اور پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار نچلی ذات کے پنجابیوں نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ لیکن برطانوی قبضے کے بعد لوگ اپنا شجرہ نسب بدلنے لگے کیونکہ اب اکثر لوگ بدلتی ہوئی صورت احوال سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ نین سکھ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کس طرح پنجاب کی نچلی ذاتوں کی تاریخ کو گم کردیا گیا ہے اورکیسے افغان اور برطانوی قابضین نے یہاں کے معاشرے پرمنفی اثرات ڈالے۔
اسلامیہ کالج لاہور کے پروفیسر زبیر احمد نے پنجابی قصوں اور صوفی روایات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز داموردرداس (1560۔ 1630) سے کیا۔ جو ہیر رانجھا کا قصہ لکھنے والے غالباً پہلے پنجابی شاعر تھے۔ اسی طرح انہوں نے بابا فرید (1173۔ 1265) اور بابا گرونانک (1469۔ 1539) کی خدمات پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔ پروفیسر زبیر نے بتایا کہ بابا فرید چشتی سلسلہ صوفیا سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان کی پوری شاعری اسی صوفی روایت کی امین ہے۔ انہوں نے صوفی ازم کی فارسی و عربی روایات کی بھی وضاحت کی۔
ظاہر ہے کہ صوفیوں پر کوئی بھی گفتگو وحدت الوجود کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی جسے ابن عربی اور منصور حلاج سے نسبت ہے۔ پروفیسر زبیر احمد نے چشتی، نقش بندی، قادری اور سہروردیہ سلسلوں پر بھی بات کی جو پنجاب کی لوک روایات کا حصہ بن گئے اور ایک نیا پنجابی ادب تخلیق کیا۔
کانفرنس کے روح و رواں پروفیسر منیر گجر تھے جنہوں نے تمام انتظامات کو سنبھالا اور مقررین سے حاضرین تک سب کو مطمئن رکھا۔ شعبہ اردو کے سربراہ اور وائس چانسلر بھی اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں مصروف رہے۔

