سرگودھا یونیورسٹی میں پنجاب کانفرنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ برسوں میں سرگودھا یونیورسٹی کچھ ایسی خبروں کی زد پہ رہی جو زیادہ اچھی نہیں تھیں۔ مثلاً یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کو نیب نے اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔ جس سے یونیورسٹی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی اور پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بھی دھچکا لگا تھا۔

اسی لیے جب وہاں اپریل کے وسط میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا تو خوش گوار حیرت ہوئی جہاں عالمی سطح کے اسکالر اور دانش ور اپنے مقالات پیش کر رہے تھے۔ کانفرنس کا عنوان تھا ”پنجاب: تاریخ، ادب تے رہتل“ اس میں آکسفورڈ یونی ورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر پریتم سنگھ اور گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی لاہور میں پنجابی شعبے کے سربراہ پروفیسر سعید خاور بھٹہ کے علاوہ دیگر کئی اعلیٰ پائے کے دانشوروں نے سامعین کو اپنے خیالات سے نوازا۔

پروفیسر پریتم سنگھ برطانیہ کی یونی ورسٹی آف آکسفورڈ میں اسکول آف گلوبل اور ایریا اسٹڈیز سے وابستہ ہیں اور ان کے تحقیق کے شعبے میں انسانی حقوق، قوم پرستی، سیاسی معیشت، مذہبی احیا، سیکولر ازم اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔

پریتم سنگھ نے اپنے مقالے میں معاشرتی رنگا رنگی پر بہت زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہذیب کے ارتقا میں سماجی بو قلمونی اہم کردار ادا کرتی ہے کیوں کہ رنگا رنگی اور تنوع سے معاشرے میں نکھار آتا ہے۔ مختلف النوع خیالات سے معاشرے میں صحت مندانہ رجحان پروان چڑھتے ہیں اور دانش ورانہ ترقی ممکن ہوتی ہے۔

پروفیسر پریتم سنگھ نے خاص طور پر مادری زبانوں کے کردار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ مختلف ماں بولیوں کو زندہ رکھنا کیوں ضروری ہے۔ ماں بولی بچے کے جذباتی ارتقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ”جب معاشرے پر کوئی ایک زبان مسلط کر دی جائے تو زبانیں اپنے اظہار میں غریب ہو جاتی ہیں۔“

پروفیسر پریتم سنگھ نے مثالیں دے کر سمجھایا کہ دنیا بھر میں جن زبانوں کو آج ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے ماضی میں انہیں دیہی اور نا بالغ سمجھا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر انگریزی زبان بارہویں اور تیرہویں صدی کے بعد تک انگلستان میں اہم نہیں تھی اور اشرافیہ اسے نظر انداز کرتی تھی۔ اس کے بجائے فرانسیسی اور لاطینی زبانوں کو پڑھایا اور رواج دیا جاتا تھا۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ چینی زبان اکیسویں صدی کے اواخر تک دنیا کی بالا دست زبان بن جائے۔ اس لیے ترقی کے نام پر مادری زبانوں کو تج دینا معقول بات نہیں ہے۔

بچے کی مجموعی نشو و نما کے لیے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کے لیے بچوں کو ماں بولی میں پڑھانا ضروری ہے۔ پروفیسر پریتم سنگھ کے مطابق سماج میں مساوات کے لیے کوئی بھی جد و جہد کرنے کے لیے مادری زبان ضروری ہے۔ ”پنجاب میں، یا کسی اور جگہ پر بھی آپ اس وقت تک لوگوں کو متحرک نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ ان کی زبان میں بات نہ کر لیں۔ ممکن ہے کہیں ایسا نہ ہوا ہو مگر زیادہ تر صورتوں میں مقامی زبانوں میں ابلاغ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے تا کہ کوئی سیاسی جد و جہد شروع کی جا سکے۔“ انہوں نے بابا فرید اور بابا گرو نانک کی مثالیں دیں جنہوں نے لوگوں سے مقامی زبان میں باتیں کیں۔

موجودہ دنیا میں عالم گیریت یا گلوبل ازم سے نہ صرف مقامی اور سیاسی تسلط قائم کیا گیا ہے بلکہ اس سے زبانی یا لسانی یک رنگی بھی تھوپی گئی ہے اور ساتھ ہی ثقافتی طور پر بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔ یعنی امریکی یا برطانوی زبان، ادب و ثقافت کو دنیا پر مسلط کیا گیا ہے۔ ”عالمگیریت کا ایک بڑا خطرہ یہی ہے کہ مختلف ثقافتوں اور زبانوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔“

پروفیسر پریتم سنگھ نے بھارتی پنجاب کی مثالیں دے کر سمجھایا کہ وہاں پنجابی زبان کے استعمال کے لیے لوگوں نے ہندی کے خلاف جنگ لڑی تھی۔

اب یہ صورت احوال ہے کہ مشرقی پنجاب میں زیادہ تر عدالتی کار روائی پنجابی میں ہوتی ہے اور حتیٰ کہ ریکارڈ بھی پنجابی میں رکھا جاتا ہے تا کہ عام لوگ بھی پڑھ اور سمجھ سکیں کہ عدالتوں میں کیا بولا اور لکھا جا رہا ہے۔ اب مشرقی پنجاب میں ہر طالب علم کے لیے بیچلرز کی ڈگری تک پنجابی پڑھنا لازمی ہے۔ اب تو برطانیہ، سنگاپور اور کینیڈا جیسے ممالک میں بھی پنجابی زبان کی اختیاری تعلیم ممکن ہے یعنی جو چاہے پڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر سعید خاور بھٹہ نے اپنے مقالے میں بیان کیا کہ کس طرح 1849 میں پنجاب پر برطانوی قبضے کے بعد یکا یک پنجاب کو نا خواندہ بنا دیا گیا تھا۔ ”برطانوی راج نے اعلان کیا کہ جو کوئی ایک بندوق جمع کرائے گا اسے دو آنے دیے جائیں گے اور جو پنجابی قاعدہ جمع کرائے گا اسے چھے آنے ادا کیے جائیں گے۔“

ڈاکٹر سعید خاور بھٹہ نے جی ڈبلیو لائٹ نر کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح پنجاب کے مقامی تعلیمی نظام کو تباہ کر کے بیک جنبش قلم پنجابی کو دیس نکالا دے دیا۔

پنجاب پر اجنبی زبانیں نافذ کی گئیں اور یہ ایک منفرد واقعہ تھا جہاں دوسرے ملکوں میں تو اکثریت کی زبان اقلیت کی زبان کو دبا دیتی ہے۔ مگر یہاں ”الٹی گنگا بہنے لگی“۔ ڈاکٹر بھٹہ کا کہنا تھا کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ لوک سانجھ کے خزانے بھی منتقل کرتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ”زبان ایک بنیادی حق ہے اور کسی زبان کی تباہی در اصل کسی سیاسی مقصد کے تحت کی جاتی ہے تا کہ مقامی ثقافت و زبانوں کو پیچھے ہٹایا جائے۔“ ایسے سیاسی ایجنڈے کی مزاحمت کی جانی چاہیے کیونکہ اب پنجابی کو خود اس کی زمین سے کاٹا جا رہا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •